گزشتہ 15 جولائی کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظور شدہ نقشہ پاس کرائے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ ایسے میں انتظامیہ کی جانب سے ان 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔ اب مرادآباد کے کمشنر اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین آنجنے کمار سنگھ نے اس حکم پر روک لگا دی ہے۔

گزشتہ دنوں رام پور واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے گیٹ پر احتجاج کرتے طلبہ۔ تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ
نئی دہلی: اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کو فی الحال مرادآباد کمشنر کی عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ سوموار (27 جولائی) کو کمشنر آنجنے کمار سنگھ نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو گرانے کی مجوزہ کارروائی پر آخری سماعت تک روک لگا دی ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی کی لیگل ٹیم کی جانب سے کمشنر سنگھ کو درخواست دیے جانے کے بعد یہ عبوری راحت دی گئی ہے۔
اس سے پہلے 15 جولائی کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے دعویٰ کیا تھا کہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رہنما اور سابق ایس پی حکومت میں وزیر رہے اعظم خان سے وابستہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کے بعد انتظامیہ نے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
نوٹس میں کہا گیا تھا کہ یہ عمارتیں بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ آر ڈی اے نے یونیورسٹی کو ’غیر قانونی‘ تعمیرات ہٹانے کے لیے 15 دن کا وقت دیا تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ اگر ادارہ ایسا نہیں کرتا تو انتظامیہ خود انہیں گرانے کی کارروائی کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ یہ حکم آر ڈی اے کے نائب صدر اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ اجئے کمار دویدی نے اتر پردیش شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی قانون، 1973 کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا تھا۔
معلوم ہو کہ اعظم خان محمد علی جوہر ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، جو اس یونیورسٹی کو چلا رہا ہے۔
اس فیصلے کا بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے خیرمقدم کیا ہے۔
مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رام پور میں سماج وادی پارٹی کے رہنما محمد اعظم خان کے خاندانی ٹرسٹ کے ذریعے قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 تعلیمی عمارتوں کو منظور شدہ نقشے اور دیگر ضروری اجازتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے منہدم کرنے کی کارروائی پر روک لگانے کا فیصلہ مناسب ہے۔
1. यूपी के ज़िला रामपुर में समाजवादी पार्टी के नेता मोहम्मद आज़म ख़ान के पारिवारिक ट्रस्ट द्वारा स्वतंत्रता सेनानी मोहम्मद अली जौहर के नाम पर स्थापित यूनिवर्सिटी की 38 शिक्षण इमारतों को, उसका स्वीकृत नक्शा आदि के अभाव में, ध्वस्त करने की रामपुर विकास प्राधिकरण की कार्रवाई पर अब…
— Mayawati (@Mayawati) July 28, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اتر پردیش میں دیگر تعلیمی ادارے بھی تعمیرات سے متعلق سرکاری قوانین پر مکمل طور پر عمل نہیں کر سکے ہیں تو حکومت کو بلڈوزر چلانے کے بجائے انہیں قانونی طریقہ کار کے تحت ریگولر کرنے اور اصلاح کا موقع دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، تاکہ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی زندگی کسی بھی طرح متاثر نہ ہو۔
اس حکم پر مرادآباد کی ایس پی رکن پارلیامنٹ رُچی ویرا نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر مرادآباد کی عدالت نے جوہر یونیورسٹی کو عبوری اسٹے دیا، اس کے لیے وہ ان کا شکریہ ادا کرتی ہیں اور جوہر یونیورسٹی کے طلبہ اور انتظامیہ کو مبارکباد دیتی ہیں۔
بلڈوزر اور کتابیں
جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں گرانے سے متعلق انتظامیہ کا حکم سامنے آنے کے بعد سے ہی یونیورسٹی کے طلبہ نے دھرنا اور احتجاج شروع کر دیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس نہیں لے لیتی۔
وہیں، گزشتہ چند دنوں میں نہ صرف سماج وادی پارٹی بلکہ کانگریس اور آزاد سماج پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کسان رہنما راکیش ٹکیت اور کئی سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے۔
گزشتہ دنوں ایس پی کے 30 سے زیادہ ارکان اسمبلی اور 10 ارکان پارلیامنٹ کے الگ الگ وفود طلبہ کی حمایت کے لیے یونیورسٹی کیمپس پہنچے۔ پارٹی نے سوموار کو انتظامیہ کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج بھی کیا۔
رام پور میں پارٹی کے اقلیتی سیل کے صدر مولانا اقبال علی بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ شامل ہوئے۔
کانگریس کے ریاستی صدر اجئے رائے بھی سوموار کو طلبہ کی حمایت میں یونیورسٹی پہنچے۔ اس سے پہلے اتوار کو کانگریس رہنما اور سابق رکن پارلیامنٹ دانش علی نے مظاہرین کی حمایت کی تھی۔
جوہر یونیورسٹی کے خلاف بلڈوزر کارروائی روکنے کے مطالبے کے لیے کئی تنظیمیں بھی سامنے آئی ہیں۔
جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے ایک وفد نے جوہر یونیورسٹی رام پور کا دورہ کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ وفد نے یونیورسٹی کے خلاف جاری انہدامی حکم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اتر پردیش کی گورنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، محمد علی جوہر یونیورسٹی یو جی سی سے منظور شدہ یونیورسٹی ہے، جہاں پیرا میڈیکل، فارمیسی، نرسنگ اور قانون جیسے کئی پیشہ ورانہ کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 100 تدریسی اور اتنے ہی غیر تدریسی ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں تشویش صرف طلبہ تک محدود نہیں بلکہ ملازمین کے روزگار پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔
ہائی کورٹ نے معاملہ سننے سے انکار کر دیا
دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں گرائے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ کسی بیرونی یا غیر مجاز شخص کو ادارے کی جانب سے درخواست دائر کرنے کا حق نہیں ہے۔ درخواست گزار ادارے کے نمائندے نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ میں اس درخواست کے سماعت کے لائق ہونے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپم ترویدی نے اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست یونیورسٹی کے کسی مجاز افسر کے بجائے محمد یوسف کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جو یونیورسٹی کے معاملوں کی پیروی کرنے والے ایک کاروباری شخص ہیں۔
ترویدی نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی جیسے ادارے کی نمائندگی اس کا رجسٹرار یا کوئی دیگر مجاز افسر ہی کر سکتا ہے، اور کوئی بیرونی شخص ادارے کی جانب سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا۔
اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس سوربھ شیام شمشیری کی سنگل بنچ نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کی نمائندگی صرف اس کے رجسٹرار یا مجاز افسر کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے، اور درخواست خارج کر دی گئی۔