سپریم کورٹ نے دہرایا – ایس آئی آر سے نام ہٹنے پر شہریت نہیں جائےگی؛ البتہ دیگر شہری حقوق کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔

تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ (17 جولائی) کو کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آرکے تحت ووٹر لسٹ سے کسی شخص کا نام ہٹائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ شہریت اپنےآپ چلی جائے گی۔

یہ تبصرہ سپریم کورٹ کی جانب سے تقریباً دو ماہ قبل دی گئی اس ہدایت کے بعد سامنے آیا، جس میں الیکشن کمیشن سے کہا گیا تھا کہ جن لوگوں کے نام’ مشتبہ شہریت‘کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے ہٹائےگئے ہیں، ان کے نام آگے کی  کارروائی کے لیے مرکزی حکومت کو بھیجے جائیں۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہناکی بنچ پرسین جیت بوس کی دائر عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی میں ان اپیلٹ ٹربیونلوں میں سماعت کے عمل کو منظم کرنے کے لیے مختلف ہدایات مانگی گئی تھیں، جنہیں ایس آئی آر سے باہر رکھے گئے لوگوں  کی اپیلوں کی شنوائی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کے سامنے حیران کن اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے کہا ، مغربی بنگال کے 19 ٹریبونل میں اب بھی 34 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ دوسری جانب، اب تک نمٹائی گئی 38 ہزار اپیلوں میں سے کم از کم 70 فیصد افراد کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک ان ٹریبونل کے دو جج استعفیٰ دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپیلوں کے زیر التوا رہنے اور کارروائی میں غیر معمولی تاخیر کے دوران مغربی بنگال کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے ایسے نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں، جن کے تحت ایس آئی آر سے خارج کیے گئے افراد کو پی ڈی ایس کے فوائد اور اناپورنا یوجنا سمیت دیگر فلاحی اسکیموں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ شنکر نارائنن نے یہ بھی کہا کہ ایسے افراد کو کاسٹ سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ لکشمیر بھنڈار اسکیم کے 30 لاکھ مستفیدین ان کی نئی حکومت کی اناپورنا یوجنا کے اہل نہیں ہوں گے۔ لکشمیر بھنڈار سابقہ ترنمول کانگریس حکومت کی ایک اہم فلاحی اسکیم تھی۔ وہیں، ان کی وزیر اگنی مترا پال نے حکومت بننے کے فوراً بعد دی وائر سے کہا تھا کہ جن افراد کے نام ایس آئی آر میں حذف کیے جائیں گے، انہیں فلاحی اسکیموں کے تحت دی جانے والی مالی امداد بھی نہیں ملے گی۔

ایس آئی آر کے باعث شہریوں کو صرف فلاحی اسکیموں ہی سے نہیں بلکہ دیگر حقوق سے بھی محروم کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ دی ٹیلی گراف کے سابق مدیر آر راج گوپال نے بتایا تھا کہ حکام نے انہیں مطلع کیا کہ ان کے پاسپورٹ کی تجدید اس لیے نہیں کی جا رہی کیونکہ ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شنکر نارائنن کے دلائل پر ردعمل دیتے ہوئے جسٹس باگچی نے کہا کہ بہار ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، الیکشن کمیشن شہریت کا فیصلہ کرنے والا آئینی ادارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا،’بہار ایس آئی آر معاملے میں ہم نے واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ جیسے ہی کوئی فیصلہ ہو،وہ معاملہ شہریت ایکٹ کے تحت فیصلہ کرنے کے لیے متعلقہ وزارت کو بھیجے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، اس وقت تک متعلقہ شخص کی شہریت کی حیثیت برقرار رہے گی۔‘

اس پر شنکر نارائنن نے کہا کہ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ فلاحی اسکیموں کے فوائد صرف ووٹر لسٹ میں نام ہونے کی بنیاد پر دیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا،’مجھے نہیں لگتا کہ معزز جج صاحبان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا، کیونکہ اگر ہوتا تو شاید آپ اپنے فیصلے میں ایک سطر مزید شامل کر دیتے کہ جب تک معاملے پر فیصلہ نہ ہو جائے، تب تک شہریوں کے دیگر حقوق بھی سلب نہ کیے جائیں۔‘

تاہم عدالت ایسا کوئی حکم جاری کرنے کے حق میں نظر نہیں آئی۔

جسٹس باگچی نے کہا،’ہمارا فیصلہ بالکل واضح ہے۔ آئین کے آرٹیکل 9، 10، 11 اور 12 کے تحت شہریت کی حیثیت کا تعین کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں، لیکن صرف نام خارج ہو جانے سے شہریت اپنے آپ ختم نہیں ہو جاتی۔ اسی لیے ہم نے اس سے متعلقہ ذمہ داری بھی طے کی ہے۔‘

اس کے بعد بنچ نے اس معاملے کی سماعت کو مغربی بنگال میں ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی دیگر درخواستوں کے ساتھ دوبارہ لسٹ  کر دیا۔