تلنگانہ ایس آئی آر: 20 فیصد سے زیادہ اردو بولنے والی آبادی میں اردو فارم پر غور کرے الیکشن کمیشن: ہائی کورٹ

ایک عرضی میں تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف تیلگو زبان میں اینومریشن فارم تقسیم کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس کا مقصد لسانی اقلیتوں کو ووٹر لسٹ سے باہر کرنا ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے پوچھا کہ جب سم کارڈ پیکیج، موبائل فون یوزر مینول اور مصنوعات کے کیٹلاگ کئی زبانوں میں دستیاب کرائے جا سکتے ہیں، تو الیکشن کمیشن الگ الگ  زبانوں میں فارم کیوں دستیاب نہیں کرا سکتا؟

ایک عرضی میں تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف تیلگو زبان میں اینومریشن فارم تقسیم کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس کا مقصد لسانی اقلیتوں کو ووٹر لسٹ سے باہر کرنا ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے پوچھا کہ جب سم کارڈ پیکیج، موبائل فون یوزر مینول اور مصنوعات کے کیٹلاگ کئی زبانوں میں دستیاب کرائے جا سکتے ہیں، تو الیکشن کمیشن الگ الگ  زبانوں میں فارم کیوں دستیاب نہیں کرا سکتا؟

تلنگانہ ہائی کورٹ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوموار (29 جون) کو الیکشن کمیشن آف انڈیا سے کہا کہ وہ ریاست میں جاری ایس آئی آر کے تحت ان اسمبلی حلقوں میں اردو میں اینومریشن فارم دستیاب کرانے پر غور کرے، جہاں 20 فیصد سے زیادہ آبادی اردو بولتی ہے۔

عدالت نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ کئی زبانوں میں اینومریشن فارم فراہم کرنا ایک مشکل کام ہوگا۔ تاہم، عدالت کے تحریری حکم کی نقل ابھی دستیاب نہیں ہوئی ہے۔

دکن کرانیکل کے مطابق، الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے وکیل اویناش دیسائی نے سوموار کو عدالت کو بتایا کہ کمیشن بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو انگریزی اور اردو میں ’ڈمی‘اینومریشن فارم دستیاب کرا رہا ہے، تاکہ وہ ان ووٹروں کی مدد کر سکیں جو تیلگو نہیں پڑھ سکتے۔ حیدرآباد ضلع کے علاوہ ریاست کے دیگر تمام علاقوں میں کمیشن تمام اینومریشن فارم صرف تیلگو زبان میں شائع کروا رہا ہے۔

جب دیسائی نے کہا کہ کئی زبانوں میں اینومریشن فارم چھاپنا ایک بہت بڑا کام ہوگا، تو جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ایسے عمل کی نگرانی کر رہا ہے جو’جمہوری نقطہ نظر سے انتہائی اہم‘ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ جب سم کارڈ پیکیج، موبائل فون یوزر مینول اور مصنوعات کے کیٹلاگ مختلف زبانوں میں دستیاب ہو سکتے ہیں، تو الیکشن کمیشن الگ الگ زبانوں میں فارم کیوں دستیاب نہیں کرا سکتا؟

لائیو لا کے مطابق، آخر میں جج نے کہا کہ چونکہ الیکشن کمیشن نے بوتھ لیول افسران کو انگریزی اور اردو میں ڈمی فارم فراہم کرنے اور حیدرآباد ضلع میں کچھ رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے عدالت فی الحال صرف یہ ہدایت دے گی کہ کمیشن ان اسمبلی حلقوں میں اردو میں اینومریشن فارم شائع کرنے پر غور کرے جہاں 20 فیصد سے زیادہ آبادی اردو بولتی ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 9 جولائی کو کرے گی۔

حالاں کہ،ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال کرائے گئے سماجی- معاشی اور ذات پر مبنی سروے میں اسمبلی حلقہ وار اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صرف سابقہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے علاقے میں ہی 20 فیصد سے زیادہ آبادی کی مادری زبان اردو ہے۔ ریاست کے کسی اور حصے میں یہ تناسب 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ اردو بولنے والی آبادی نظام آباد ضلع میں ہے، جہاں یہ تقریباً 18 فیصد ہے۔

درخواست گزار ایم اے مجیب نے تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف تیلگو زبان میں اینومریشن فارم تقسیم کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس کا مقصد لسانی اقلیتوں کو ووٹر لسٹ سے باہرکرنا ہے۔

اس معاملے پر سیاسی جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے، خصوصی طور پر حیدرآباد شہر کی لسانی اور ثقافتی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد کمیشن نے حیدرآباد ضلع میں تیلگو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی اینومریشن فارم دستیاب کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، حیدرآباد ضلع کی تقریباً 43 فیصد آبادی کی مادری زبان اردو ہے۔

تاہم، یہ رعایت حیدرآباد شہر کے ان بڑے حصوں پر لاگو نہیں ہوتی جو میڈچل-ملکاجگری اور رنگا ریڈی اضلاع کے نیم شہری علاقوں میں آتے ہیں۔