تلنگانہ: اردو پڑھانے کو لے کر بی جے پی لیڈر کا اسکول میں ہنگامہ، گرفتاری کے بعد ضمانت

گزشتہ سنیچرکو نظام آباد کے ایک نجی اسکول میں مبینہ طور پر اردو پڑھانے کو لے کر مقامی بی جے پی لیڈر منڈولا بالو نے زبردستی اسکول میں گھس کر انتظامیہ کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ اس وقت گرفتاری کے بعد اب انہیں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے متعلقہ مارپیٹ کے ویڈیو ہٹانے کو کہا ہے۔

گزشتہ سنیچرکو نظام آباد کے ایک نجی اسکول میں مبینہ طور پر اردو پڑھانے کو لے کر مقامی بی جے پی لیڈر منڈولا بالو نے زبردستی اسکول میں گھس کر انتظامیہ کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ اس وقت گرفتاری کے بعد اب انہیں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے متعلقہ مارپیٹ کے ویڈیو ہٹانے کو کہا ہے۔

بی جے پی لیڈر منڈولا بالو کو پولیس لے جاتی ہوئی۔(فوٹو: اسکرین گریب/ایکس)

نئی دہلی:تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں بغیر سرکاری اجازت کے اردو پڑھانے سے متعلق تنازعہ کے معاملے میں پولیس نے سوموار (29 جون) کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آرمور نگر صدر منڈولا بالو کو گرفتار کیا تھا۔ یہ کارروائی سنیچر (27 جون) کو ایک نجی اسکول میں زبردستی گھس کر پرنسپل کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور مارپیٹ کے وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آئی تھی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، منڈولا بالو کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

دریں اثنا ریاستی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو نوٹس جاری کر کے بی جے پی کارکنوں کی جانب سے اسکول کے پرنسپل پر مبینہ تشدد کے ویڈیو کوکئی ہینڈل  سے ہٹانےکو کہاہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ان ویڈیو سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، ضلع کے آرمور منڈل کے پرکٹ گاؤں میں واقع بھارت چندر ہائی اسکول (جسے بھوشیہ درشنی اسکول بھی کہا جاتا ہے) میں پرائمری طلبہ کو مبینہ طور پر بغیر اجازت اردو پڑھانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

بتایا جارہاہے کہ سنیچر کو منڈولا بالو اور ان کے حامی مبینہ طور پر اسکول کے احاطے میں زبردستی داخل ہوئے اور اس مسئلے پر انتظامیہ سے الجھ گئے۔ اس کے بعد میں درج کی گئی دو ایف آئی آر میں سے ایک میں منڈولا بالو کو کلیدی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ اس تنازعہ کے دوران پولیس کی موجودگی میں اسکول کے پرنسپل کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ بھی کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں دونوں فریقوں کے خلاف امن و امان کی خلاف ورزی کے الزام میں دو الگ الگ معاملے درج کیے گئے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی رہنما اور ان کے ساتھیوں پر اسکول میں زبردستی داخل ہونے (ٹریس پاسنگ)، مارپیٹ اور دھمکی دینے کے الزامات ہیں، جبکہ دوسری ایف آئی آر میں اسکول انتظامیہ پر بغیر اجازت اردو پڑھانے اور دو گروہوں کے درمیان دشمنی کو ہوا دینے (بی این ایس کی دفعہ 196) کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب الزام لگا کہ اسکول میں حال ہی میں بحال ہوئے ایک ہندی ٹیچر، طے شدہ ہندی نصاب کے بجائے پہلی سے پانچویں جماعت کے طلبہ کو اردو پڑھا رہے تھے۔

ضلع حکام کی ہدایت پر ریونیو، ایجوکیشن اور پولیس محکموں کی مشترکہ جانچ میں ان الزامات کو درست پایا گیا۔

پولیس کے مطابق، کئی طلبہ نے بھی تصدیق کی کہ انہیں ہندی کی کلاس کے دوران اردو کےسبق پڑھائے گئے تھے۔ جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ والدین کی شکایات کے بعد اسکول انتظامیہ نے مبینہ طور پر طلبہ کی کاپیوں سے اردو کے نوٹس پھاڑ دیے تھے۔

اس معاملے میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے پولیس نے ایف آئی آر میں کورسپانڈنٹ ملیا، پرنسپل عامر خان اور ٹیچر ہما ہانیہ کو نامزد کیا ہے۔ ان پر الگ الگ  گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور ہم آہنگی متاثر کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی آگے کی جانچ جاری ہے۔