برجن اسٹاک کے بند کمرے، تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟

تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟

امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے درمیان ہونے والے چار فریقی اجلاس کی ایک تصویر، فوٹو:اے پی/پی ٹی آئی۔

سوئٹزرلینڈ کی جھیل لوسرن پر فجر سے کچھ دیر پہلے ہی بارش تھم چکی تھی۔پانی کی سطح سے کافی بلندی پر واقع برجن اسٹاک ریزورٹ کی بالکونیوں سے سفارت کار الپس کے پہاڑوں پر نمودار ہونے والی پہلی کرن کو دیکھ سکتے تھے۔

تاہم، شیشے اور اسٹیل سے بنے کانفرنس کمپلیکس کے اندر، مناظر کی تعریف کے لیے وقت بہت کم تھا۔ کافی کے کپ، مسودات، اور نشان زدہ بریفنگ پیپرز ان میزوں پر بکھرے پڑے تھے جہاں مذاکرات کاروں نے مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع تر جنگ میں دھکیلنے سے روکنے کی کوشش میں تقریباً 18 گھنٹے گزارے تھے۔

گزشتہ 22 جون کی صبح سویرے تک، پاکستان اور قطر کے تھکے ہارے ثالث امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ایسے پیغامات لے کر آ جا رہے تھے جو یہ طے کر سکتے تھے کہ یہ خطہ سفارت کاری کی طرف بڑھے گا یا پھر کشیدگی کے ایک اور دور کی طرف۔ یہ مذاکرات پہلے ہی کئی ایسے لمحات کا سامنا کر چکے تھے جہاں ان کے ناکام ہونے کا خطرہ بالکل سر پر منڈلا رہا تھا۔

ایک موقع پر، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عوامی بیانات کے بعد ایرانی حکام نے مذاکرات میں اپنی شرکت معطل کرنے کی دھمکی دی، جس میں انہوں نے تہران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو بلاک کیا اور حزب اللہ کو نہ روکا تو اسے فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعد میں تصدیق کی کہ ایران، امریکہ اور ثالثوں کے درمیان ابتدائی چہار فریقی سیشن کے بعد، براہ راست بات چیت بند ہو گئی اور رابطہ صرف ثالثوں کے ذریعے ہی جاری رہا۔

اندرونی ذرائع نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے کے بعد تک، تقریباً 18 تھکا دینے والے گھنٹوں کے دوران، قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، بمشکل اپنی جگہوں سے ہٹے۔ ان تینوں افراد نے رات کا بیشتر حصہ سات منزلہ برجن اسٹاک ریزورٹ کے فلورز کے چکر کاٹنے، پیغامات پہنچانے، تعطل کو دور کرنے اور مذاکرات کو ناکام ہونے سے بچانے کی کوششوں میں گزارا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض جوہری سفارت کاری کا ایک اور دور نہیں تھا۔ یہ اس ڈرامائی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا دوسرا حصہ تھا جس کا آغاز 17 جون کی آدھی رات کو دستخط کیے جانے والے امریکہ-ایران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) سے ہوا تھا، اور سوئٹزرلینڈ میں ایک وسیع تر سیاسی فریم ورک کے خاکے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا۔

ان مذاکرات نے پابندیوں میں نرمی، جوہری مسائل، تعمیرِ نو اور عمل درآمد پر ورکنگ گروپس قائم کیے، جبکہ حتمی معاہدے کی طرف ساٹھ دن کا راستہ بھی کھول دیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سے کہیں بڑی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ وہ جنگ، جو ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر شروع ہوئی تھی، اس نے خود واشنگٹن کو ان تزویراتی (اسٹریٹجک) مفروضوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر کے دم لیا جنہوں نے دہائیوں سے اس کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تشکیل دیا تھا۔

خیر اس اٹھارہ گھنٹے کی اس میراتھن کا نتیجہ ایک ایسے 60 روزہ روڈ میپ کی صورت میں نکلا جس نے فی الحال ایک بڑی عالمی تباہی کو ٹال دیا ہے۔اس سے قبل جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پچھلی  بدھ کی آدھی رات  کو قرارداد مفاہمت پر الکٹرانک دستخط کیے، تو ، تہران کی فضاؤں میں سائرن کی آوازیں گونجیں، لیکن یہ کسی فضائی حملے کا الارم نہیں تھا، بلکہ مہینوں کے خوف اور معاشی جمود کے بعد، ایرانی نوجوان اپنی گاڑیوں کی کھڑکیوں سے باہر نکل کر ایرانی پرچم لہرا رہے تھے۔

یہ جشن  ایک ہولناک اور وجودی بقا کی جنگ سے بچ نکلنے کا سکون تھا۔ تہران کے ایک بوڑھے تاجر رضا کے مطابق ان کو معلوم ہے کہ یہ معاہدہ کوئی مستقل امن نہیں ہے، اور امریکہ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن  یہ کچھ کم  ہے کہ کم از کم ہم زندہ ہیں۔ ’ بمباری رک گئی ہے اور ایران اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔‘

 دوسری طرف تہران سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور، اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور خاص طور پر رابن اسکوائر کے قریبی کیفے میں ماحول اس کے بالکل برعکس تھا۔ اسرائیلیوں کے چہروں پر چھائی ہوائیاں واضح دیکھی جا سکتی تھیں۔ وہاں گفتگو کا رخ اس معاہدے کے نکات پر کم اور واشنگٹن کی طرف سے ملنے والے ’دھوکے‘پر زیادہ تھا۔اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر ایال، جو حال ہی میں شمالی محاذ سے ڈیوٹی ختم کر کے لوٹے تھے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کوس رہے تھے۔


’ وہ (نیتن یاہو) ہمیں بتارہے تھے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا اور آیت اللہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ لیکن آج کا دن دیکھو! ایران کا ایٹمی ڈھانچہ جوں کا توں ہے، اس کے پاس یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، حزب اللہ کی قیادت اب بھی سرگرم ہے، اور صدر ٹرمپ نے ہمارے تحفظ کو پسِ پشت ڈال کر تہران کے ساتھ تیل کی ڈیل کر لی۔ یہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔‘


وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کٹر حامیوں کے لیے یہ معاہدہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ وہ جنگ کو صرف ایک فوجی مہم نہیں سمجھ رہے تھے، بلکہ ایک ایسے عظیم تزویراتی منصوبے  کا حصہ مان رہے تھے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اب، جب ٹرمپ نے اچانک اپنا راستہ بدلا، تو نیتن یاہو کا وہ پورا بیانیہ ملبے کا ڈھیر بن گیا جس پر وہ اپنی سیاست چمکا رہے تھے۔

اس پورے سفارتی کھیل کا سب سے بڑا موڑ اور ایران کی سب سے بڑی کامیابی ’آبنائے ہرمز کو بطور تزویراتی ہتھیار‘استعمال کرنا تھا۔ جب جنگ کے دوران ایران پر دباؤ حد سے بڑھا، تو تہران نے اپنی روایتی میزائل پاور کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے نازک معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا بھر کے تیل کی کل سپلائی کا تقریباً 20 سے 30 فیصد گزرتا ہے۔جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں جہاز رانی کو روکنے اور آبنائے کو بند کرنے کا عملی پتا کھیلا، تو عالمی انرجی مارکیٹ میں ہاہاکار مچ گئی۔ نیویارک اور لندن کی اسٹاک ایکسچینج میں خام تیل کی قیمتیں چند گھنٹوں میں اس سطح پر پہنچ گئیں جہاں سے عالمی معیشت کا کساد بازاری  میں جانا یقینی تھا۔

واشنگٹن کے باخبر ذرائع کے مطابق، وہائٹ ہاؤس کے معاشی مشیروں نے صدر ٹرمپ کو ایک انتہائی خفیہ بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے پاس موجود ‘اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو’ اور عالمی اتحادیوں کے ذخائر صرف چند ہفتوں کے تعطل کو برداشت کر سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز مزید دس دن بند رہتی، تو امریکہ میں گیسولین کی قیمتیں دوگنی ہو جاتیں، جس کا سارا ملبہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن پر گرتا۔

ٹرمپ نے بعد میں خود اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا،


’دنیا معاشی طور پر الٹ پلٹ ہو جاتی۔ اگر ہم اس راستے پر چلتے رہتے، تو ہمارے اپنے ملک کے اندر پیٹرول پمپوں پر لائنیں لگ جاتیں اور امریکی معیشت تباہ ہو جاتی۔ ‘


یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں نیتن یاہو کا مشرق وسطیٰ کو فوجی طاقت سے بدلنے کا خواب ٹرمپ کے امریکی ووٹر کو مطمئن رکھنے کی ضرورت سے ٹکرا گیا۔ ٹرمپ نے ایک تاجر کی طرح نفع اور نقصان کا حساب لگایا اور اسرائیل کی نظریاتی جنگ پر امریکی معیشت کی بقا کو ترجیح دی۔

برجن اسٹاک ریزورٹ کے پریس ہال میں پیر کی صبح جب پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا، تو بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس دستاویز کی ایک ایک سطر کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ محض ایک روایتی جنگ بندی یا عارضی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ ایک طے شدہ اسٹریٹجک فریم ورک تھا جس نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

اس مشترکہ اعلامیے میں جس لچک اور سفارتی باریکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی توقع چند روز قبل تک کوئی نہیں کر رہا تھا۔معاہدے کا سب سے اہم اور فوری قابل عمل حصہ وہ 60 روزہ روڈ میپ ہے، جس کے تحت دونوں فریقین نے اگلے دو ماہ کے اندر ایک حتمی اور جامع جوہری معاہدے تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس عبوری دورانیے کا مقصد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ یورینیم کے ذخائر اور پابندیوں کے خاتمے کی باریکیوں پر تفصیلی بحث کر سکیں۔سب سے بڑا بریک تھرو ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات میں فوری طور پر واپس بلانے کا اصولی فیصلہ تھا۔

وہائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے امریکی حکام کو ایک بند کمرے کی بریفنگ میں بتایا کہ تہران نے نہ صرف معائنہ کاروں کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے، بلکہ افزودہ کیے گئے موادکی درجہ بندی اور نگرانی کے نئے طریقہ کار پر بھی رضامندی دی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا،’نیوکلئیر انسپکشنز کا عمل بہت جلد، یہاں تک کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر شروع ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران اس بار مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔’

اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کےلئے تیار نہیں ہے اور اس کے متبادل راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔

اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک ‘ہائی لیول پولیٹیکل اوور سائیٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو براہ راست دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو جوابدہ ہوگی۔

اس کمیٹی کے ماتحت تین ورکنگ گروپس کام کریں گے؛ پہلا ایٹمی فائل پر، دوسرا پابندیوں کے خاتمے پر، اور تیسرا تنازعات کے حل کے طریقہ کار  پر۔اگرچہ ایٹمی پروگرام اس پورے تنازعہ کا مرکزی نقطہ دکھائی دیتا تھا، لیکن برجن اسٹاک میں ہونے والی گفتگو کا ایک بڑا حصہ لبنان میں جاری زمینی جنگ اور حزب اللہ و اسرائیلی افواج کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے گرد گھومتا رہا۔

ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے مطابق، لبنان کے موضوع پر ہونے والی بحث اس قدر’ شدید اور تناؤ سے بھرپور‘تھی کہ کئی بار ایسا لگا کہ مذاکرات معطل ہو جائیں گے۔ایران نے اصرار کیا کہ جب تک لبنان پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور تہران کو اس کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی، وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا حکم جاری نہیں کرے گا۔

اس گرہ کو کھولنے کے لیے ایک غیر معمولی اسٹریٹجک فیصلہ کیا گیا، جسے مشترکہ اعلامیے میں لبنان ڈی کانفلکشن سیل کا نام دیا گیا ہے۔اس سیل کا مقصد صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط شدہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کی نگرانی کرنا ہے۔

 لیکن اس پورے میکانزم کی سب سے حیران کن بات اس کی رکنیت ہے۔ اس سیل میں امریکہ، ایران، پاکستان، قطر اور لبنانی حکومت شامل ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا شاید پہلا واقعہ ہے کہ اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی جنگ بندی اور سکیورٹی انتظامات کے فیصلے واشنگٹن اور تہران مل کر کر رہے ہیں، اور اس میں تل ابیب کو شامل مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس نے اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

اسرائیل کے مقتدر ترین اخبار ‘ہاریٹز’ کے سینئر کالم نگارگڈیون لیوی نے اس صورتحال کا ایک انتہائی گہرا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ واشنگٹن کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد ہمیشہ غیر مشروط نہیں ہوتا۔ جب امریکی صدر کو اپنے ملک کے اندر پٹرول کی قیمتوں، مہنگائی اور انتخابات میں شکست کا خوف سستاتا ہے، تو وہ تل ابیب کے سکیورٹی خدشات کو ایک طرف رکھنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے کو مستقل جنگ کی آگ میں نہیں جھونک سکتا۔’اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پشیمانی ظاہر کی، وہ پوری اسرائیلی قیادت کی اندرونی کہانی سناتی ہے، ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس فوجی مہم جوئی کا آخری نتیجہ تہران کو معاشی ریلیف اور واشنگٹن کے ساتھ اس کی براہِ راست ڈیل کی صورت میں نکلے گا، تو ہم شاید اس جنگ کا آغاز ہی نہ کرتے۔‘

اس معاہدے کی کامیابی کے پیچھے دوحہ اور اسلام آباد کی مہینوں پر محیط خاموش سفارت کاری اور شٹل ڈپلومیسی کا بڑا ہاتھ ہے۔ قطر نے روایتی طور پر مالیاتی اور سفارتی چینلز فراہم کیے، جبکہ پاکستان نے اپنے تزویراتی تعلقات اور علاقائی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی میں پل کا کردار ادا کیا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمت نامہ‘ دراصل اس پورے عمل کی بنیاد تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے پہلے ہی الکٹرانک دستخطوں کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا عہد کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سوئس ریزورٹ میں ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے تعطل پیدا ہوا، تو پاکستانی اور قطری سفارت کاروں نے تہران اور واشنگٹن میں موجود اعلیٰ ترین فیصلہ سازوں سے براہ راست رابطے کر کے اس بحران کو سنبھالا۔

برجن اسٹاک ریزورٹ کے مشترکہ اعلامیے کے بعد جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں، وہیں اس معاہدے کے اثرات نے خلیج فارس کے اُمراء اور عرب دارالحکومتوں کو بھی ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

دہائیوں سے خلیج کی سکیورٹی کا پورا ڈھانچہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکی فوجی طاقت خطے میں عرب مفادات اور توانائی کی سپلائی لائنز کی حفاظت کی حتمی ضامن ہے۔

تاہم، حالیہ ہولناک تنازع اور آبنائے ہرمز کی عارضی ناکہ بندی نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران کے پاس اس امریکی مانیٹرنگ اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کے باوجود عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے قبل، واشنگٹن اور تل ابیب کا مشترکہ تزویراتی منصوبہ یہ تھا کہ ‘ابراہیمی معاہدات کا دائرہ وسیع کر کے اس میں سعودی عرب کو شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک ایسا اسرائیل مرکزسکیورٹی نیٹ ورک بنانا تھا جو ایران کو خطے میں سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر مکمل الگ تھلگ کر دے۔

متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے بعد سعودی عرب کی شمولیت کو اس منصوبے کی حتمی فتح سمجھا جا رہا تھا۔تاہم، حالیہ جنگ کی ہولناکیوں، غزہ کی تباہی اور بالآخر امریکہ کی ایران کے ساتھ اس براہِ راست ڈیل نے اس پورے اسٹریٹجک کارڈ کو الٹ کر رکھ دیا۔

دوحہ کے ایک سینئرافسر نے خلیج کے عوامی اور حکومتی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا،’خطے کے لوگوں کو اچانک یہ احساس ہوا ہے کہ خلیج کتنی غیر محفوظ ہے۔ دہائیوں سے ہم سمجھتے تھے کہ ہماری خوشحالی اور سکیورٹی دائمی ہیں۔ لیکن اس جنگ نے دکھا دیا کہ جب ہرمز بند ہوتا ہے اور انشورنس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو دوحہ اور دبئی کے چمکتے ہوئے ایئرپورٹس اور تجارتی مراکز چند دنوں میں ویران ہو سکتے ہیں۔‘

 یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور مصر جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس بحران کے دوران تل ابیب کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل کشیدگی میں کمی  پر زور دیا۔

خلیجی ممالک اب یہ جان چکے ہیں کہ ایران کو خطے سے مٹایا نہیں جا سکتا، وہ ایک مستقل جغرافیائی حقیقت ہے۔ چنانچہ، ایران کو مستقل دیوار سے لگانے کی پالیسی کے بجائے، اب عرب ممالک تہران کے ساتھ بقائے باہمی اور سفارتی مکالمے کو زیادہ پائیدار آپشن سمجھ رہے ہیں۔ ابراہیمی معاہدات کا وہ خواب، جس کے تحت اسرائیل کو پورے خطے کا چوہدری بنانا مقصود تھا، اب تاریخ کے سرد خانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری طرف اگرچہ تہران کی گلیوں میں معاشی پابندیوں کے عارضی خاتمے اور تیل کی فروخت کی اجازت پر عام لوگ مطمئن نظر آ رہے ہیں، اور صدر مسعود پزشکیان اور سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اسے تاریخی فتح قرار دے رہے ہیں، لیکن تہران کے سیاسی ایوانوں کے اندر سب کچھ پرسکون نہیں ہے۔اس سوئس معاہدے نے ایران کے سخت گیر قدامت پسند بلاک کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایران کے بااثر ترین سخت گیر اخبار ‘کیہان’نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی وفد نے عارضی معاشی فوائد اور محض 60 دن کے آئل لائسنس کے بدلے اپنے قیمتی تزویراتی پتے داؤ پر لگا دیے ہیں۔

کئی ارکان پارلیامنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو دوبارہ ایٹمی سائٹس تک رسائی دینا سنہ 2015 کے جے سی پی او اےکی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے امریکہ کو دوبارہ جاسوسی کا موقع ملے گا۔ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر یہ بحث اس گہرے تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ تہران کس طرح ایک طرف اپنے انقلابی نظریات اور سکیورٹی کارڈز کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف  ایک عملی ڈیل کرنے پر مجبور ہے۔

برجن اسٹاک کا یہ مفاہمت نامہ بین الاقوامی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے جسے ماہرین ‘کثیر القطبی نظام’ یا ملٹی پولر ورلڈ کہتے ہیں۔ اب وہ دور گزر چکا جب مشرقِ وسطیٰ کے تمام اہم فیصلوں کی ڈوریاں صرف وہائٹ ہاؤس سے ہلائی جاتی تھیں۔ اس بار، جب بحران سنگین ہوا، تو قطر، پاکستان اور ترکیہ جیسے علاقائی کھلاڑیوں نے فرنٹ سیٹ سنبھالی۔

سابق ہندوستانی خارجہ سکریٹری نروپما راؤ نے اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ اب درمیانی درجے کی علاقائی طاقتیں ان تنازعات کے نتائج کو وضع کر رہی ہیں جن کا فیصلہ ماضی میں صرف سپر پاورز کیا کرتی تھیں۔

پاکستان کی جانب سے اس پورے عمل میں ثالثی اور ‘لبنان ڈی کانفلکشن سیل’ میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کا سکیورٹی اور سفارتی کردار مشرق وسطیٰ کے لیے کتنا ناگزیر ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رخ کم نظریاتی، زیادہ کاروباری اور علاقائی استحکام پر مرکوز ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اب امریکی بالادستی کے سائے دھندلا رہے ہیں اور خطے کے ممالک اپنے تحفظ کے لیے نئی شراکت داریاں قائم کر رہے ہیں۔

برجن اسٹاک ریزورٹ  دستاویز کی سب سے بڑی اور المناک خاموشی اس خطے کے سب سے خون آلود محاذ پر ہے۔ سوئس جھیل کے پرسکون کنارے جب سفارت کار کافی کے مگ ہاتھوں میں لیے مسکرا رہے تھے، اس وقت بھی غزہ کی پٹی پر بارود کی بو اور معصوم بچوں کی چیخیں تھمی نہیں تھیں۔ یہ اس معاہدے کا وہ تاریک پہلو ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتیں جب اپنے مفادات کا سودا کرتی ہیں، تو کمزوروں کے حقوق اکثر پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد نے مذاکرات کے ابتدائی سیشنز میں غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی، اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھایا تھا۔ تاہم، امریکی وفد، بالخصوص جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس نے اس پر کسی بھی قسم کی حتمی شق کو شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

امریکہ کا مؤقف تھا کہ غزہ کے معاملہ پر پہلے ہی ایک ڈیل ہوچکی ہے، جس میں قطر، مصر، اور حماس شامل ہیں۔  وہ اب  ایران کے ساتھ جوہری یا علاقائی سکیورٹی ڈیل کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدے میں لبنان کے لیے تو ‘ڈی کانفلکشن سیل’ بن گیا، آبنائے ہرمز کے لیے ہاٹ لائن قائم ہو گئی، لیکن غزہ کا انسانی المیہ، وہاں کی سویلین ہلاکتیں، یرغمالیوں کی رہائی اور امدادی راہداریوں کا کنٹرول اب بھی مکمل طور پر تشنہ اور غیر واضح ہے۔

موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے نامور مؤرخین اور اسرائیلی دانشوروں نے تاریخ کے پنڈولم کو پیچھے گھمایا ہے۔ 1973 کی ‘یوم کپور جنگ یاد دلاتا ہے جب مصر کے اچانک حملے نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے اس غرور کو پاش پاش کر دیا تھا جو اس نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کی یکطرفہ فتح سے حاصل کیا تھا۔1973 کے اسی جھٹکے کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل بالآخر زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی ہوا، جس کے بعد مصر کے ساتھ ‘کیمپ ڈیوڈ معاہدہ’ طے پایا اور بعد ازاں فلسطینیوں کے ساتھ ‘اوسلو امن معاہدے’ کی راہ ہموار ہوئی، جس میں پہلی بار دو ریاستی حل کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

امریکی سفارت کار مارٹن انڈک نے ہنری کسنجر کی جو سوانح حیات ترتیب دی ہے، اس میں لکھا ہے کہ مصر 1970سے ہی اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدہ کی خواہش ظاہر کر چکا تھا، مگرتل ابیب بضد تھا۔  لہذا ہنری کسنجر نے اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے غرور کو توڑنے کا تہیہ کیا۔

اس جنگ میں ابتدائی ہزیمت اور مصر کی طرف سے نہرسوئز اور صحرائے سینا کو واپس لینے کے بعد ہی امریکہ ، اسرائیل کی مددکےلئے آگے آیا۔مگر جیسے ہی اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور جدید ترین ٹکنالوجی کے بل بوتے پر دوبارہ اپنی ناقابل تسخیر برتری کا دوبارہ  زعم ہوا، وہ ان تمام امن معاہدوں سے مکر گیا اور فلسطینیوں کو ان کے جائز سیاسی اور معاشی حقوق دینے سے انکار کر دیا۔

گزشتہ دو دہائیوں سے تل ابیب میں یہ بیانیہ حاوی رہا کہ وہ فلسطینیوں کو کچل کر اور ان کے وجود کو نظرانداز کر کے بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتا ہے اور خطے کا بادشاہ بن سکتا ہے۔

موجودہ ایران امریکہ معاہدے نے اسرائیل کے اسی زعم کو ایک بار پھر پاش پاش کر دیا ہے۔

یہ سچائی اب تل ابیب کے رابن اسکوائر سے لے کر فوجی ہیڈکوارٹرز تک گونج رہی ہے کہ فوجی طاقت سے وقتی طور پر عمارتیں تو گرائی جا سکتی ہیں، لیکن سیاسی اور تزویراتی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اب تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟

مشرق وسطیٰ اب ایک ایسے دواہے پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔