ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف دہلی جا رہے کسانوں کو روکنے کے لیے شمبھو بارڈر سیل

دہلی 21 جولائی کو میں ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے منعقد کسان مہاپنچایت میں شامل ہونے کے لیے آ رہے کسانوں کو روکنے کی غرض سے ہریانہ پولیس نے شمبھو بارڈر سیل کر دیا ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے سے ہندوستان میں سستے زرعی اجناس کی درآمد میں اضافہ ہوگا، جس سے ملک کے کسانوں کی آمدنی اور زرعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دہلی 21 جولائی کو میں ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے منعقد کسان مہاپنچایت میں شامل ہونے کے لیے آ رہے کسانوں کو روکنے کی غرض سے ہریانہ پولیس نے شمبھو بارڈر سیل کر دیا ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے سے ہندوستان میں سستے زرعی اجناس کی درآمد میں اضافہ ہوگا، جس سے ملک کے کسانوں کی آمدنی اور زرعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ہریانہ کے شمبھو بارڈر سیل کرنے کے بعد کسان دہلی کی جانب پیدل مارچ کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ہندوستان-امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف منعقد ہونے والی کسان مہاپنچایت میں شرکت کے لیے دہلی جا رہے کسانوں کو روکنے کے مقصد سے ہریانہ حکومت نے منگل (21 جولائی) کو شمبھو بارڈر سیل کر دیا۔ پنجاب کے کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھیر نے اس قدم کی سخت مذمت کی۔

کسان رہنما کے مطابق، پنجاب-ہریانہ سرحد پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ کسانوں کے قافلوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے گھگھرندی پر بنے پل پر کئی بیریکیڈز اور سیمنٹ کے بلاک لگائے گئے ہیں۔

نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے منعقد ہونے والی دن  بھر کی کسان مہاپنچایت دہلی کے کسان گھاٹ پر ہونی ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس میں پنجاب، ہریانہ اور دیگر ریاستوں سے بڑی تعداد میں کسان شریک ہوں گے۔

منگل کی صبح پنجاب کے مختلف علاقوں سے کسان بسوں کے ذریعے دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔

کسانوں کا قافلہ گوردوارہ شری فتح گڑھ صاحب سے روانہ ہوا، جہاں ایک ہزار سے زیادہ کسانوں نے سوموار کی رات گوردوارے کی سرائے میں گزاری تھی۔ اس کے بعد قافلہ جی ٹی روڈ پر سرہند کے قریب مادھوپور سے ہوتا ہوا شمبھو کی جانب روانہ ہوا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا کہ کسان پرامن طریقے سے دہلی جانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں شمبھو بارڈر پر روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس قدم سے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کا’اصل چہرہ‘بے نقاب ہو گیا ہے۔ پنڈھیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اکثر پنجاب آ کر بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن کسانوں کو پرامن طریقے سے دہلی جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

پنڈھیر نے کہا کہ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کو پوری طرح سے ردکیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمبھو بارڈر پہنچنے کے بعد دیگر کسان رہنماؤں سے مشورہ کر کے آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک روز قبل بھارتیہ کسان یونین (چڑھونی) کے صدر گرنام سنگھ چڑھونی کو مہاپنچایت میں شرکت کے لیے دہلی جاتے ہوئے ہریانہ پولیس نے کروشیتر میں حراست میں لے لیا تھا۔

یونین کے ترجمان پرنس ورائچ نے الزام لگایا کہ پولیس نے تنظیم کے متعدد کارکنوں کو بھی حراست میں لیا تاکہ وہ مہاپنچایت میں شرکت نہ کر سکیں۔

پنجاب سے آنے والی تمام سڑکیں بند کرنے کا الزام

دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین (شہید بھگت سنگھ) کے ترجمان تیجویر سنگھ نے الزام لگایا کہ ہریانہ حکومت نے پنجاب کی جانب سے آنے والے تمام افراد اور گاڑیوں کے لیے سرحد بند کر دی ہے۔

انہوں نے کہا،’بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بین ریاستی سرحد بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کسان اپنی جائز مطالبات کے لیے آواز بلندنہیں کر پا رہے ہیں۔ پنجاب کی حدود کے اندر بھی بیریکیڈز لگا دیے گئے ہیں اور پنجاب حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔‘

اخبار کے مطابق، اس دوران ہریانہ کے کسان بھی امبالہ، کروشیتر اور دیگر علاقوں سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں کے کسان سوموارہی کو دہلی کے لیے روانہ ہو چکے تھے تاکہ وہ آج’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے منعقد ہونے والی کسان مہاپنچایت میں شرکت کر سکیں۔

نئی دہلی کے کسان گھاٹ پر’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف منعقدہ ریلی میں شرکت کے لیے کسان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے پہنچ رہے ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بھارتیہ کسان یونین (شہید بھگت سنگھ) کے بینر تلے بسوں کے ذریعے دہلی جا رہے کسانوں کے ایک گروپ کو ہریانہ کے شاہ آباد میں کروشیتر پولیس نے روک دیا۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت دہلی پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ہریانہ حکومت نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ بیریکیڈز لگا دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے اور قومی شاہراہ پر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ کسانوں کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس دوران ہریانہ کے کسانوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے پیدل دہلی کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق، بھارتیہ کسان یونین (چڑھونی) کے یمنانگر ضلع کے صدر سنجو گڑھیانہ نے کہا،’ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے پیدل آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے کچھ رہنما اور کسان گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رک گئے ہیں۔ ہم آخری دم تک چلتے رہیں گے، چاہے پولیس راستے میں ہمیں دوبارہ روک دے۔‘

’ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ زرعی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا‘

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے نتیجے میں ہندوستاب میں سستی زرعی مصنوعات کی درآمد میں اضافہ ہوگا، جس سے ملکی کسانوں کی آمدنی اور زرعی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کے منفی اثرات زرعی مزدوروں، مویشی پالنے والوں، چھوٹے تاجروں اور صنعتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

احتجاج کرنے والی کسان تنظیموں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مجوزہ تجارتی معاہدے کو منسوخ کرے اور کسانوں سمیت وسیع تر عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائے۔

کسان رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا ڈیری سیکٹر تقریباً آٹھ کروڑ دیہی خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ اگر اس سیکٹر کو نقصان پہنچا تو دیہی معیشت اور روزگار پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح بیجوں کی صنعت، فوڈ پراسیسنگ کا شعبہ، چھوٹے کاروبار اور زراعت سے وابستہ صنعتیں بھی شدید طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ تجارتی معاہدے سے متعلق دستاویزوں میں سویابین، مکئی، کپاس، ایتھانول، سیب، بادام اور دیگر زرعی مصنوعات پر درآمدی محصولات (امپورٹ ڈیوٹی) کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈیری مصنوعات، پولٹری، پھل، مچھلی سے متعلق مصنوعات، ناریل اور دیگر اشیاء کو ہندوستانی منڈی میں زیادہ رسائی دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ بیریکیڈنگ ویسی ہی ہے جیسی فروری 2024 میں کی گئی تھی، جب کسانوں نے تمام فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے’دہلی چلو-2‘تحریک شروع کی تھی۔ اس تحریک کے دوران کسانوں نے شمبھو اور کھنوری بارڈر پر ایک سال سے زیادہ وقت تک دھرنا دیا تھا۔

اس سے قبل 2020 میں بھی کسانوں نے 13 ماہ تک دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی دھرنا دیا تھا، جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کو تین متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھے۔ 9 دسمبر 2021 کو مرکزی حکومت نے کسانوں کے دیگر زیر التوا مطالبات پر غور کرنے سے اتفاق کیا، جس کے بعد سنیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری اپنی تحریک  کومعطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔