دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔

بنارس میں 20 جولائی کو ہوئے احتجاجی مظاہرے کی تصویر۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)
نئی دہلی:سینٹرل دہلی میں سوموار (20 جولائی) کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران نوجوانوں کے بڑے ہجوم کا مشاہدہ کیا گیا۔ جنتر منتر، کناٹ پلیس (سی پی)، جن پتھ اور سنسد مارگ کی سڑکوں پر ہزاروں-ہزار نوجوانوں کی بھیڑ اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا۔ تاہم، صرف دارالحکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی دیگر شہروں میں بھی اسی طرز کے احتجاج اور نوجوانوں کے غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔
اروناچل پردیش
اروناچل پردیش کے دارالحکومت ایٹہ نگر میں بھی ریاست بھر سے آئے سینکڑوں نوجوانوں نے ایک پرامن یکجہتی ریلی میں شرکت کی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
اس ریلی میں طلبہ، یوتھ آرگنائزیشن، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔انہوں نے تعلیمی اصلاحات، حکومت میں شفافیت اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق مطالبات پر مبنی بینر اور پلے کارڈاٹھا کر شہر میں مارچ کیا۔
مظاہرین نے منصفانہ بھرتی، امتحانات کے حوالے سے جوابدہی اور زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا، اس کے ساتھ ہی مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا۔
مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں بھی نوجوانوں کی تحریک کی گونج سنائی دی۔ یہاں ’سنسد چلو‘ مارچ کی حمایت میں بڑی تعداد میں نوجوان، طلبہ تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے افراد سڑکوں پر نظر آئے۔
مظاہرین نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ اور نیٹ-یو جی سمیت امتحانات کے نظام میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
اس احتجاج میں جادھوپور یونیورسٹی، پریزیڈنسی کالج اور کولکاتہ میڈیکل کالج کے طلبہ اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تمام شرکاء نے دہلی میں نوجوانوں پر پولیس کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
جادھوپور یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ انوشا داس نے کہا،’این ٹی اے کی ناکامی کی وجہ سے کئی طلبہ نے خودکشی کر لی ہے۔ یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔ تعلیمی اصلاحات کی آواز بلند کرنے والے سونم وانگچک کو زبردستی ہٹا دیا گیا اور مظاہرین پر سخت کارروائی کی گئی۔ شاید مرکزی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ طلبہ کی آواز دبا سکتی ہے، لیکن یہ تحریک اب ملک بھر کے تعلیمی اداروں تک پھیل چکی ہے اور اسے آسانی سے نہیں روکا جا سکتا۔
View this post on Instagram
حیدرآباد
وہیں،حیدرآباد میں نوجوانوں، طلبہ تنظیموں اور سیاسی کارکنوں نے کینڈل مارچ نکالا اور دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर हैदराबाद में कांग्रेस का प्रदर्शन।#संसद_मार्च #दिल्ली pic.twitter.com/ww4lnJxaiH
— Deepak Khatri (@Deepakkhatri812) July 20, 2026
کیرالہ
کیرالہ کے ترواننت پورم میں نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر طلبہ کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی بوچھاڑکی۔
#WATCH | Thiruvananthapuram, Kerala: Police used water cannons to disperse the SFI workers demanding the resignation of Union Education Minister Dharmendra Pradhan over the issue of the NEET paper leak pic.twitter.com/eaa0DPdKlj
— ANI (@ANI) July 20, 2026
چندی گڑھ
پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ سے بھی زوردار احتجاج کی خبریں سامنے آئیں، جہاں پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ اور سول سوسائٹی کے افراد نے دہلی کے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے سونم وانگچک کی حمایت میں ایک روزہ بھوک ہڑتال بھی کی۔وہیں، سیکٹر 17 میں مختلف طلبہ تنظیموں، عام آدمی پارٹی، کانگریس کے کارکنوں اور عام شہریوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی مذمت کی۔
View this post on Instagram
اس دوران مظاہرین نے حکومت سے جوابدہی، تعلیمی نظام میں شفافیت اور بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا، جبکہ مودی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
گوا
گوا میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج اور ماحولیاتی و مقامی مسائل کی حمایت میں مظاہرے کیے۔پنجی کے آزاد میدان اور میرامار سرکل میں سینکڑوں نوجوانوں نے کینڈل مارچ نکالا اور دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے سونم وانگچک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے لیے حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
پٹنہ یونیورسٹی
پٹنہ یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی دہلی میں ہونے والے احتجاج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے’چھاتر یووا آکروش دوس‘منایا۔ اس موقع پر طلبہ نے ’ شکشا بیچنا بند کرو‘، ’دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو‘ جیسے نعرے لگائے۔ ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ 22 جولائی کو پٹنہ یونیورسٹی سے راج بھون تک مارچ نکالا جائے گا۔
طلبہ نے مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کیا جائے اور خودکشی کرنے والے طلبہ کے ساتھ ہمدردی اظہار کیا جائے۔
لکھنؤ یونیورسٹی
لکھنؤ یونیورسٹی کی طلبہ تنظیموں نے بھی سوموار کوتعلیمی نظام، پرچہ لیک اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران طلبہ نے پریورتن چوک سے حضرت گنج تک مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔
سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو میں پولیس کو کئی مظاہرین کو گھسیٹتے ہوئے اور حراست میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ان مظاہرین کو بسوں کے ذریعے ایکو گارڈن بھیج دیا۔
پولیس کارروائی کے دوران بھی مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور اپنے مطالبات پر قائم رہے۔
پریاگ راج
اتر پردیش کے پریاگ راج میں بھی ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ ضلع کچہری کے احاطے میں وکلا نے بھی طلبہ کی حمایت میں احتجاج کیا۔
اس موقع پر وکلا نے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے وکلا نے کہا کہ طلبہ کی آواز دبانے کے لیے طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کو افسوسناک قرار دیا۔
अब आंदोलन की चिंगारी प्रयागराज तक पहुंच गई है यह एक घंटे पहले का दृश्य है। मुझे नहीं लगता यह आग इतनी जल्दी बुझेगी। pic.twitter.com/bfkdeSUp3F
— Awesh Tiwari (@awesh29) July 20, 2026
بنارس
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامانی حلقہ وارانسی میں بھی پرچہ لیک اور سونم وانگچک کی حمایت میں وشوناتھ کیمپس سے مہیلا مہاودیالیہ تک تقریباً تین کلومیٹر لمبا طلبہ انصاف مارچ نکالا گیا۔
اس احتجاج میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے طلبہ کے علاوہ سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی شرکت کی۔
مارچ کے دوران وائس چانسلر کی رہائش گاہ کے قریب سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ زخمی بھی ہوئے، تاہم احتجاج جاری رہا۔
بی ایچ یو کے طلبہ نے ہاتھوں میں تختیاں اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیمی نظام میں شفافیت اور منصفانہ بھرتی و امتحانات کے نظام کا مطالبہ درج تھا۔
مظاہرین نے کہا کہ جب تک امتحانات کے نظام میں جامع اصلاحات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، ان کی جمہوری اور پرامن تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
جھارکھنڈ
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
یہاں البرٹ ایکا چوک پر سوموار کوطلبہ، نوجوان تنظیموں اور مختلف عوامی تنظیموں نے احتجاج کیا۔
مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے امتحانات کے نظام میں وسیع اصلاحات اور پیپرلیک کے معاملوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی گئی۔
مظاہرین نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے توتحریک مزید تیز کی جائے گی۔
ممبئی
دی وائر کی سکنیا شانتا کی رپورٹ کے مطابق، سوموار کو ہی ممبئی کے چیتیہ بھومی پر طلبہ کی قیادت میں احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن مظاہرین کے جمع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے شہر کے مختلف تھانوں میں 300 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے لوگوں میں احتجاج میں شریک نابالغ لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھے۔
دی وائر نے جن متعدد مظاہرین سے بات کی، ان میں سے کئی رات 10 بجے کے بعد بھی پولیس تھانوں میں موجود تھے۔ مظاہرین نے بتایا کہ انہیں بغیر کسی خاص وجہ کے حراست میں لیا گیا اور مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔
حراست میں لیے گئے بعض افراد نے دی وائر کو بتایا کہ پولیس نے ان کے فون نمبر اور پتے درج کیے، جبکہ بعض معاملوں میں ان کی تصویریں بھی لی گئیں۔