سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی:سوموار کو دہلی میں جنتر منتر سے پارلیامنٹ ہاؤس تک نوجوانوں کے مارچ کی کوشش کے دوران مختلف مقامات سے ایسی تصویریں سامنے آئیں جن میں پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج اور تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دوسری جانب دہلی پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے اہلکاروں کے ساتھ تشدد کیا گیاہے۔
منگل (21 جولائی) کو دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی کہ مظاہرین پر پولیس کی زیادتی (حد سے زیادہ طاقت کے استعمال) سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے لسٹ میں شامل کیا جائے۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، اس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ،’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘
واضح ہو کہ سوموار کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور بار بار ہورہے پیپر لیک کی جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے’سنسد چلو‘کا اعلان کیا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ اور نوجوان دہلی پہنچے تھے۔
تاہم، اتوار کی شام تک دی وائر سمیت متعدد خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کے دوران مظاہرین، جن میں کئی کم نابالغ بھی شامل تھے، کے خلاف پولیس نے شدید تشدد کیا۔ مارچ شروع ہونے سے پہلے تک سی جے پی کے ابھیجیت دیپکے اور آئیساکے تین طلبہ کارکن بھوک ہڑتال پر تھے۔
تحریک میں شامل ماحولیاتی کارکن، جنہیں سنیچر کو زبردستی جنتر منترسے اٹھا کر صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، اب بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کی بھوک ہڑتال کا یہ 24واں دن ہے۔
اس سے قبل سوموار کو چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی ہٹائے جانے کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبے والی ایک پی آئی ایل پر فوراً سماعت سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا،’اس میں ارجینٹ کیا ہے؟‘ اسے دو دن بعد بھی سنا جا سکتا ہے۔