اتر پردیش کے نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج سے متعلق معاملوں میں گرفتار کی گئی آکرتی چودھری کے خلاف این ایس اے کے تحت کی گئی کارروائی کو رد کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نےفیصلہ سنایا کہ انہیں پانچ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے اور مذکورہ رقم ان کے خلاف قانونی کارروائی میں شامل افسران-نوئیڈا کے ڈی ایم سے لے کر متعلقہ تھانے کے انچارج تک-کی تنخواہ سے وصول کی جائے۔

آکرتی چودھری، پس منظر میں الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: ارینجمنٹ اور پی ٹی آئی)
نئی دہلی: اپریل میں اتر پردیش کے نوئیڈا میں ہوئے مزدوروں کے احتجاج سے متعلق معاملوں میں گرفتار کی گئی دہلی یونیورسٹی کی طالبہ آکرتی چودھری کو ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔
آکرتی چودھری کی حراست کو چیلنج کرنے والی ہیبیس کارپس کی درخواست پرشنوائی کے بعد بدھ (2 ستمبر) کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کی گئی احتیاطی حراست کی کارروائی کو رد کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی دو رکنی بنچ نے انہیں پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا آرڈر دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ رقم ان کے خلاف کی گئی قانونی کارروائی میں شامل افسران کی تنخواہوں سے وصول کی جائے گی۔
تاہم، آکرتی فی الحال حراست میں ہی رہیں گی، کیونکہ مزدوروں کے احتجاج کے سلسلے میں ان کے خلاف درج دیگر معاملوں میں انہیں ابھی ضمانت نہیں ملی ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد آکرتی کے والد ارون چودھری نے دی وائر سے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ خوش ہیں اور راحت محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ سے اسی نتیجے کی امید تھی، کیونکہ ان کی بیٹی بے قصور ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ اس نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔ ہمیں پتہ تھا کہ ایسا ہی ہونا تھا۔ اس میں تھوڑا وقت لگا، لیکن ایسا ہی ہوا۔ میں بہت خوش ہوں اور راحت محسوس کر رہا ہوں۔‘
حکومت مبینہ واقعے کا ویڈیو پیش نہیں کر سکی
معلوم ہو کہ آکرتی کو اس معاملے میں ملزم بنائے گئے دیگر کارکنوں-سِرشتی، روپیش اور منیشاکے ساتھ 11 اپریل کو نوئیڈا کے بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔
کام کے بہترحالات اور مناسب اجرت کے مطالبے پر کیے گئے مزدوروں کےاحتجاج کے بعد اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو قانون کے مطابق زیادہ اجرت دینے کا حکم جاری کرنا پڑا تھا۔ تاہم، پولیس کی سخت کارروائی کے باوجود مزدوروں کا احتجاج جاری رہا، جبکہ احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی پولیس کی کارروائی جاری رہی۔
آکرتی ان ہی احتجاجی مظاہروں میں سے ایک میں مزدوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شامل ہوئی تھیں۔ پولیس نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد میں ان کا کردار تھا۔
منگل اور بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران آکرتی کے والد عدالت میں موجود تھے۔ شنوائی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ عدالت نے سرکار کے وکیل سے بار بار ثبوت پیش کرنے کو کہا کہ کیا آکرتی نے کوئی تشدد کیا تھا؛ کیا انہوں نے کسی پر حملہ کیا، پتھر پھینکے یا مظاہرین کو تشدد کے لیے اکسایا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا کوئی ایسی وہاٹس ایپ چیٹ موجود ہے جس میں آکرتی نے ایسے واقعات سے متعلق کوئی بیان وغیرہ دیا ہو۔
ریاست نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ ان کے پاس واقعے کا ایک ویڈیو موجود ہے۔ منگل کی سماعت میں عدالت نے حکومت سے کہا کہ وہ اگلے دن، یعنی بدھ 2 ستمبر کو صبح 10 بجے ویڈیو پیش کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ویڈیو پیش نہیں کیا گیا تو افسران کو آکرتی کو معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔
ارون چودھری نے مزید بتایا کہ پولیس بدھ کو ویڈیو پیش نہیں کر سکی، جس کے بعد عدالت نے آکرتی کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ رقم ان افسران کی تنخواہوں سے وصول کی جائے گی، جن میں ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے لے کر اس تھانے کے انچارج (ایس ایچ او) تک شامل ہیں جہاں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور جس نے جانچ کی۔
آکرتی کے والد نے بتایا کہ اب آکرتی کو ان کے خلاف درج 11 معاملوں میں سے پانچ میں سیشن کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔ چھ ضمانت کی درخواستیں ابھی زیر التوا ہیں اور ان کا خاندان اب ان تمام چھ معاملوں کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔
بتادیں کہ این ایس اے کے معاملے میں آکرتی کی جانب سے سینئر وکیل کولن گونزالویس پیش ہوئے تھے، جبکہ گوتم بدھ نگر کے سورج پور سیشن کورٹ میں رجنیش یادو آکرتی کے وکیل ہیں۔
نوئیڈا کے مزدوروں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی تنظیم کیمپین فار ریلیز آف ورکرز اینڈ ایکٹیوسٹس آف نوئیڈا (کارواں) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا،’مزدور مخالف یوگی حکومت اور یوپی پولیس کے منہ پر طمانچہ! نوئیڈا کے مزدور مظاہروں سے متعلق فرضی مقدمے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے آکرتی کے خلاف لگائے گئے این ایس اے کو رد کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کی جانب سے پیش کی گئی ’من گھڑت کہانی‘ کی بنیاد پر حراست میں لیے جانے پر بھی سنگین سوال اٹھائے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا،’الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ این ایس اے کا استعمال، جو ایک استثنائی قدم ہونا چاہیے، محض اس بنیاد پر کسی شخص کو حراست میں رکھنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ضمانت پر باہر آنے کا امکان ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے این ایس اے کے تحت حراست کی جو وجوہات پیش کی گئی ہیں، ان میں لگائے گئے شخصی الزامات اور آرا کو ثابت کرنے کے لیے ایک بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔‘
سرکاری افسران معاوضہ ادا کریں گے
این ایس اے معاملے میں آکرتی کے وکیلوں میں سے ایک مانک گپتا نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے تھانہ انچارج سے لے کر ضلع مجسٹریٹ تک کی تنخواہوں سے معاوضہ وصول کرنے کی ہدایت کیوں دی۔
گپتا نے کہا کہ جہاں ایس ایچ او نے این ایس اے لگانے کی ابتدائی سفارش کی تھی، وہیں ضلع مجسٹریٹ نے آکرتی کے خلاف احتیاطی حراست کا حکم جاری کیا تھا۔
غور طلب ہے کہ گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق پانچ لاکھ روپے کا یہ معاوضہ ان کی اور اس کارروائی میں شامل دیگر افسران کی تنخواہوں سے بھی وصول کیا جانا ہے۔
گپتا نے مزید کہا کہ استغاثہ کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں ’ایسا کچھ نہیں‘ تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ آکرتی نے کسی کو اکسایا تھا یا انہیں این ایس اے کے تحت حراست میں رکھنے کی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے عدالت کو بتایا تھا کہ تشدد 13 مئی کو ہوا تھا، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ آکرتی کو 11 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، 11 مئی کو شام 5:30 بجے کے بعد آکرتی کو پیغامات بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دفاعی فریق کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ پولیس انہیں پہلے ہی حراست میں لے چکی تھی۔
گپتا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز حق مزاحمت کے بارے میں بھی تبصرے کیے، جن میں بنیادی طور پر یہ بات کہی گئی کہ احتجاجی مظاہرے جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہیں اور احتیاطی حراست سے قبل کسی طالبعلم کے ریکارڈ اور پس منظر کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق، عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی احتجاج کے دوران تشدد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی شخص کو گرفتار کرکے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
ریاست کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کے بارے میں کہ آکرتی نے اس سے قبل مانیسر میں بھی یہی ’طریقہ‘ استعمال کیا تھا، دفاعی فریق کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں انہیں ملزم نہیں بنایا گیا تھا، اس لیے نوئیڈا کے مظاہروں کے تناظر میں یہ بات غیر متعلق ہے۔
گپتا نے یہ بھی کہا کہ دفاعی فریق کی بنیادی دلیلیں یہ تھیں کہ آکرتی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا، ان کے خلاف بغیر غور و فکر کیے این ایس اے کی دفعات اور دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، این ایس اے کے تحت جاری کیا گیا حکم مبہم اور انتہائی وسیع تھا، جس میں ان کی حراست کو جائز قرار دینے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد بھی موجود نہیں تھی۔
تضادات سے بھری چارج شیٹ
قابل ذکر ہے کہ دی وائر نے گزشتہ دنوں ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ کس طرح نوئیڈا کے مزدوروں کی تحریک کو ’سازش‘ قرار دینے والی چارج شیٹ میں پولیس کے اپنے ہی دعووں میں تضادات پائے گئے تھے۔
اس معاملے سے متعلق چار ایف آئی آر کے سلسلے میں داخل کی گئی چارج شیٹوں کے مطالعے میں سامنے آیا تھا کہ گرفتاری کی تاریخ، ملزمان کی موجودگی، موبائل لوکیشن، گواہوں کے بیانات اور مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے حوالے سے کئی تضادات موجود ہیں، جو تفتیش پر سوال اٹھاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ایف آئی آر 164 اور 165 کی چارج شیٹ میں دیگر کئی ملزمین کے ساتھ آکرتی چودھری کی گرفتاری کی تاریخ 27 اپریل درج کی گئی ہے۔ تاہم، انہی ملزمین کے ریمانڈ دستاویزوں میں ان کی گرفتاری کی تاریخ 17 اپریل بتائی گئی ہے۔
اسی طرح ایف آئی آر 163 میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں آکرتی چودھری کی گرفتاری کی تاریخ 22 اپریل درج ہے۔ لیکن ریمانڈ شیٹ میں ان سب کی گرفتاری کی تاریخ 15 اپریل درج ہے۔
تاہم، ایک فیس بک لائیو ویڈیو ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمے میں ایک ملزم سِرشٹی نے اپنی، آکرتی، منیشا اور روپیش کی گرفتاری کے دوران یہ ویڈیو بنانا شروع کیا، جو ان کی گرفتاری کی تاریخ 11 اپریل بتاتا ہے۔
اسی طرح ایف آئی آر نمبر 164/26 میں دائر کی گئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 13 اپریل کو آکرتی چودھری، سرشٹی گپتا، منیشا چوہان، روپیش رائے، آدتیہ آنند اور ہمانشو ٹھاکر موقع پر موجود تھے، انہوں نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور تشدد میں کردار ادا کیا۔
اس دعوے پر بھی سوال ہیں، کیونکہ آکرتی، سرشٹی، منیشا اور روپیش کو 11 اپریل کی شام ہی حراست میں لے لیا گیا تھا اور اگلے ہی روز انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تو پھر 13 اپریل کو ان کے جائے وقوعہ پر موجود ہونے سے متعلق پولیس کا دعویٰ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟