سپریم کورٹ جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کے سلسلے میں درج ایف آئی آررد کرنے کی مودی حکومت کی عرضی پر شنوائی کرے گا۔ یہ عرضی آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت دائر کی گئی ہے۔ دریں اثنا، کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبہ اور مظاہرین کی حمایت میں 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ کے قریب مارچ کی اپیل کی ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: سپریم کورٹ مودی حکومت کی اس عرضی پر شنوائی کرنے والا ہے، جس میں جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کے سلسلے میں درج تمام ایف آئی آر کو آئین کے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے رد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 142 سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے سامنے زیر التوا کسی بھی معاملے میں ’مکمل انصاف‘ کرنے کے لیے ضروری آرڈر یا ڈگری جاری کر سکے۔ اس کے تحت عدالت کو عام قانونی دفعات سے آگے بڑھ کر انصاف یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے اس معاملے کا ذکر اس وقت کیا، جب کاکروچ جنتا پارٹی نے 5 ستمبر کو نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کے قریب مارچ کی اپیل کی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے یہ مارچ اس مطالبے کے ساتھ بلایا ہے کہ حکومت ہند طلبہ اور پرامن مظاہرین سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہوئے ’چلوسنسد‘ مارچ کے بعد یہ سی جے پی کا دوسرا مارچ ہے۔
اس آئندہ احتجاج کی اپیل سے حکومت میں کافی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی سے متعلق ہونے والی پیش رفت نے مودی حکومت اور بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کی تعلیمی پالیسیوں اور بجٹ کی ترجیحات میں تبدیلی کے مطالبے کو مزید تقویت دی ہے۔
تحریک کے بانی اراکین 5 ستمبر کے مارچ کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں۔ سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا نے کہا،’تیار ہو جاؤ کاکروچوں۔ حکومت کی من مانی نہیں چلے گی۔‘