دہلی پولیس جنتر منتر سے ملے کھانے کے ریپر اور پیکیجنگ کی بنیاد پر ان ریستورانوں اور کیفے تک پہنچ رہی ہے، جنہوں نے ایپ پر مبنی ڈیلیوری کے ذریعے مظاہرین کو کھانا بھیجا تھا۔ کئی ریستوران مالکان کا الزام ہے کہ پولیس افسران نے ان سے پوچھ گچھ کی کہ انہوں نے مظاہرین کی ’حمایت‘ کیوں کی اور ان کے آرڈر ریکارڈ بھی کھنگالے۔

گزشتہ23جولائی 2026 کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو رضاکار کھانا تقسیم کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی/اتل یادو)
نئی دہلی: جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہرے سے پھینکے گئے ریپر اور کھانے کے پیکٹوں کی بنیاد پر دہلی پولیس علاقے کے ان ریستورانوں کا پتہ لگا رہی ہے اور ان سے نوجوان مظاہرین کی ’حمایت‘ کی بابت پوچھ گچھ کر رہی ہے، جنہوں نے 25 جولائی کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا جشن منایا تھا۔
معلوم ہوکہ سابق وزیر تعلیم پردھان کا استعفیٰ مسلسل امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی جوابدہی کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ پولیس کا مقصد کیا ہے؟ الزام ہے کہ پولیس چاہتی ہے کہ کھانے پینے کی دکانیں احتجاجی مقام پر مفت کھانا دینا یا بڑی مقدار میں کھانا پہنچانا بند کر دیں۔
قابل ذکر ہے کہ جنتر منتر پر 36 دنوں تک مسلسل احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں نوجوان مظاہرین کا ایک اہم مطالبہ مانتے ہوئے دھرمیندر پردھان کو دباؤ میں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
اس کے کچھ ہی وقت بعد دہلی پولیس نے ان لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا جنہوں نے کسی بھی شکل میں مظاہرین کی مدد کی تھی۔ کئی کیفے اور ریستوران مالکان نے دی وائر کو بتایا کہ دہلی پولیس نے ان سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ اب احتجاجی مقام پر کھانا نہ بھیجیں۔
ایک مالک نے دی وائر کو بتایا،’انہوں نے ہمیں پولیس اسٹیشن بلایا اور پوچھا کہ ہم یہ کس این جی او کے لیے کر رہے تھے یا ہمیں کھانا فراہم کرنے کے لیے کس نے کہا تھا۔ ہم نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ہم تحریک کی حمایت کرتے تھے۔ ہم نے تقریباً ایک ہفتے تک اپنے ریستوران سے کھاناسپلائی کیا۔ سی جے پی کے مقصد کی حمایت کرنے کی وجہ سے ہمیں پریشان کیا گیا۔ ہمیں انسٹاگرام پر نفرت انگیز پیغامات بھی مل رہے تھے۔‘
ریستوران مالکان کا دعویٰ ہے کہ انہیں احتجاج کی حمایت میں کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ بھی ہٹانی پڑیں۔ ایک مالک نے کہا،’وہ ان کئی ریستورانوں کو ڈرانے میں کامیاب رہے جنہوں نے کھانے کے ذریعے اس تحریک کی حمایت کی تھی۔ چھوٹے برانڈز کے لیے یہ بہت خطرناک ہے اور اس سے ہم ایک طرح سے الگ تھلگ بھی پڑ جاتے ہیں۔‘
مہابیلی کے مالک زکریا جیکب نے کہا کہ انہیں جانکاری ملی ہے کہ دہلی پولیس کی اس کارروائی کے بعد کئی ریستوران مالکان ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے ہیں۔ جیکب نے دی وائر سے کہا،’میری جانکاری کے مطابق پولیس نے ان چند ریستورانوں سے رابطہ کیا تھا جو بڑی مقدار میں کھانا سپلائی کرتے تھے۔ ہم ان اقدار کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی یہ تحریک حمایت کرتی ہے اور اس وسیع سوچ کے ساتھ بھی، جس کے لیے کئی نوجوان متحد ہوئے تھے۔‘
سی جے پی کا الزام ہے کہ مرکزی وزیر جے پی نڈا کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ پولیس طاقت کا استعمال بند کر دیا جائے گا اور امتحانات سے متعلق گھوٹالوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر کوئی نئی کارروائی یا مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا، حامیوں کی شناخت کر کے انہیں نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہیں۔
پردھان کے استعفیٰ کے بعد سی جے پی نے حکومت پر ان وعدوں کو توڑنے کا الزام لگایا۔ اس کا کہنا ہے کہ دہلی اور دیگر ریاستوں، جہاں اسی طرح کے احتجاج ہوئے تھے، وہاں لوگوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری رہا۔
سی جے پی کی حمایت کرنے کی وجہ سے پریشان کیے گئے ایک کیفے سے وابستہ شخص نے کہا کہ وہ اس تحریک کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں جس کی انہوں نے حمایت کی تھی۔ خبر لکھے جانے تک اس کیفے نے احتجاج کی حمایت میں کی گئی اپنی پوسٹ نہیں ہٹائی تھیں۔
اس شخص نے کہا،’کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ہمیں ’خبردار‘ کیا کہ وہ ہم سے آرڈر کرنا بند کر دیں گے، جبکہ کئی لوگوں نے ہماری تعریف بھی کی۔ یہاں تک کہ ہمارے ڈیلیوری پارٹنرز بھی ہمیں فون کر کے بتا رہے تھے کہ پولیس انہیں روک رہی ہے اور کھانا ضبط بھی کر رہی ہے۔ ایک پرامن تحریک کو کھانا پہنچانے کے لیے لوگوں کو پریشان کرنا غلط ہے۔‘
لودھی کالونی واقع ’گارنیٹاس‘ اور مہر چند مارکیٹ اور نیو فرینڈز کالونی واقع ’ڈمبو ڈیلی‘ جیسے کچھ دیگر ریستورانوں نے بھی مظاہرین کو اپنے یہاں پناہ دی اور انہیں پانی، مفت رہائش اور ہلکا پھلکا ناشتہ فراہم کیا۔
خبروں کے مطابق، اس احتجاج کے بعد سے ہی ایسے ریستوران پولیس کے نشانے پر رہے ہیں۔ 20 جولائی کو، جب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ’چلو سنسد‘ مارچ کے دوران طلبہ پولیس کی لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے بچنے کے لیے پناہ تلاش کر رہے تھے، تب ’بلو ٹوکائی‘ کے جن پتھ آؤٹ لیٹ نے طلبہ اور کارکنوں کو پناہ، مفت پانی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی تھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب احتجاج میں شامل خواتین کو آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان پر مسلح افواج کی ’توہین‘ کرنے یا وزیر اعظم کے خلاف ’نازیبا الفاظ‘ استعمال کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہیں جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی ذاتی معلومات (ڈاکسنگ) عوام کے سامنے لائی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر احتجاج میں شامل کئی خواتین کے ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں، ساتھ ہی ان کے فون نمبر اور گھروں کے پتے جیسی نجی معلومات بھی عام کر دی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہراسانی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
دی وائر نے سوئگی اور زومیٹو سے ردعمل طلب کیا ہے کہ جب ان کے ڈیلیوری عملے نے احتجاجی مقام پر کھانا پہنچایا تو دہلی پولیس نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ دی وائر نے دہلی پولیس سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ جے پی نڈا کی یقین دہانی کے باوجود ریستوران مالکان کو کیوں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ جواب ملنے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔