دہلی: ٹیلی کام کمپنیوں نے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے احکامات کی تصدیق کی، حکومت اب تک خاموش

حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔

حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔

سنسد چلو مارچ کے دوران دارالحکومت کی سڑکوں پر نوجوان۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں سوموار (20 جولائی) کو سینٹرل دہلی میں موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کے سرکاری احکامات موصول ہوئے تھے، اگرچہ حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بندکرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے  سے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، ایئرٹیل، جیو اور وی آئی سمیت دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کو انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کے عہدیداروں نے حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے ان احکامات کی تصدیق کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ شام تقریباً 6 بجے موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئی تھیں۔

تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ احکامات کس سرکاری اتھارٹی نے جاری کیے تھے۔

ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) نے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا،’سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی تھی کہ ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر حکم شائع کیا جانا چاہیے۔ اس کے اسباب تحریری طور پر درج ہونے چاہیے۔ پابندی مناسب ہونی چاہیے اور کم سے کم پابندی والا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہ پابندی غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ ایسے احکامات عدالتی ریویو اور جائزہ کمیٹی کی جانچ کے دائرے میں آتے ہیں۔ اگر ہم آج کے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کو اس قانونی فریم ورک کی روشنی میں دیکھیں تو یہ حکم شائع نہیں کیا گیا، جو’انورادھا بھسین بنام حکومت ہند‘کے فیصلے اور ’سسپنشن رولز، 2024‘دونوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس حکم کو پبلک نہیں کرتی تو یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ کیا یہ حکم کسی مجاز اتھارٹی نے جاری کیا تھا یا نہیں، اور کیا جائزہ کمیٹی مقررہ وقت کے اندر اس کا جائزہ لے گی یا نہیں۔

آئی ایف ایف نے مزید کہا،’جو حکم شائع نہ کیا گیا ہو، اس کے لیے کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور سپریم کورٹ کی عدالتی نظرثانی کی ضمانت بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔‘

ہندوستان میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن

آئی ایف ایف کے مطابق دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران دہلی کے بعض علاقوں، جیسے سیلم پور، جامعہ نگر اور منڈی ہاؤس میں موبائل خدمات معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ قومی دارالحکومت میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن  کا پہلا معاملہ تھا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2021 میں کسانوں کے احتجاج کے دوران سنگھو، غازی پور، ٹکری، مکر با چوک، نانگلوئی اور آس پاس کے علاقوں میں بھی اسی طرح کی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

ہیش ٹیگ کیپ اٹ آن اتحاد کی مارچ 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں سال 2025 کے دوران 65  بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہوا اور 2016 سے دنیا بھر میں ریکارڈ کی گئی 2,102 انٹرنیٹ بند ہونےکے واقعات میں سے 920  واقعات صرف ہندوستان میں پیش آئے۔