نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی میں مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتی پولیس۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سوربھ داس نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی پولیس نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی کے بال کھینچے اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک 12 سالہ بچی کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے، جبکہ 40 سے 50 دیگر مظاہرین کے سر بھی پھٹ گئے ہیں۔
#ALERT: GEETANJALI JI’S HAIR PULLED BY DELHI POLICE, ASSAULTED.
A 12 YEAR OLD GIRL’S HEAD HAS BEEN BROKEN. 40-50 OTHER HEADS BROKEN!@DelhiPolice WHAT IS GOING ON!?
— Saurav Das (@SauravDassss) July 20, 2026
وہیں، سماجوادی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ڈمپل یادو اور پارٹی کے دیگر اراکین پارلیامنٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
दिल्ली में छात्रों की आवाज़ उठा रहीं लोकसभा सांसद श्रीमती डिम्पल यादव जी एवं अन्य सपा सांसदों को पुलिस द्वारा डिटेन किया जाना, साथ ही छात्रों पर लाठीचार्ज किया जाना बेहद निंदनीय एवं अलोकतांत्रिक है।
— Samajwadi Party (@samajwadiparty) July 20, 2026
سی جے پی کا دعویٰ: دو گھنٹے انتظار کے بعد ہوئی جے پی نڈا سے ملاقات
سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے ایکس پر بتایا کہ وہ اور پارٹی کے دوسرے ترجمان آشوتوش رانکا بی جے پی کے صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پر دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد نڈا نے تقریباً 10 منٹ تک ان سے ملاقات کی۔
داس نے لکھا،’ہم نے انہیں اپنی مطالبات کا تحریری میمورنڈم سونپا ہے۔ انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے پر اندرونی سطح پر بات کریں گے۔ فی الحال یہی عمل جاری ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔’
#UPDATE: After waiting for more than 2 hours, @AshutoshRanka and I just met J.P. Nadda ji at his residence for 10 minutes.
While we submit a written letter with our demands, he has assured us that he will meanwhile speak internally. We are in that process. There is news of mass… https://t.co/GMGBNG71h3
— Saurav Das (@SauravDassss) July 20, 2026
سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ وہ اور سوربھ داس اب بھی جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جے پی نڈا نے ان سے کچھ وقت مانگا ہے تاکہ وہ پارٹی قیادت سے درج ذیل مطالبات پر تبادلہ خیال کر سکیں؛
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی فوراً رہائی۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ۔
نیٹ کی تیاری کر رہے خودکشی کرنے والے تمام امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ۔
Update:
Me and @SauravDassss are still at Nadda ji’s residence. Nadda ji has requested some time to align with their leadership with regards to our following demands:
– Immediate release of @Wangchuk66
– Dharmendra Pradhan’s resignation
– 1Cr compensation for all NEET aspirants…— Ashutosh Ranka (@AshutoshRanka) July 20, 2026
رانکا نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے ڈی سی پی نے مذاکرات کا ذریعہ قائم کرنے کے لیے تنظیم سے رابطہ صرف گزشتہ رات دیر گئے کیا تھا۔
ان کے مطابق، آج صبح 6 بجے سے سنجیدگی سے بات چیت شروع ہوئی، جبکہ تقریباً 11:45 بجے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات پر اتفاق ہوا۔
تنظیم نے دہلی پولیس سے پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو فوراً بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
To put the facts straight, it was only late yesterday night that DCP New Delhi reached out for opening a communication channel with government.
There were more serious discussions only from today 6AM, and only around 11:45AM was there an alignment on meeting Nadda ji.
We…
— Ashutosh Ranka (@AshutoshRanka) July 20, 2026
گراؤنڈ رپورٹ: صحافیوں کو ریکارڈنگ سے روکا گیا، ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا
دی وائر کے نمائندے وپل کمار نے موقع سے بتایا کہ پارلیامنٹ سے تقریباً 100 سے 150 میٹر کے فاصلے پر واقع پی ٹی آئی عمارت کے باہر ایک شخص کو پولیس کی بس سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا، جس کے بعد ایک پولیس افسر نے اسے بری طرح مارا پیٹا۔
ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے صحافیوں اور دیگر افراد کو اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے سے بھی روکنے کی کوشش کی۔
وپل کمار نے بتایا کہ پی ٹی آئی عمارت کے باہر پولیس نے متعدد مظاہرین کو بسوں میں بٹھا کر حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا، کئی مظاہرین کو گھسیٹا گیا اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ اس دوران ایک بار پھر لاٹھی چارج کیا گیا، جبکہ موقع پر سکیورٹی فورسز کی تعداد مسلسل بڑھائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’سنسد چلو‘مارچ میں شریک تقریباً 800 سے 1,000 مظاہرین پارلیامنٹ کے کافی قریب تک پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان پر بار بار لاٹھی چارج کیا اور انہیں پیچھے دھکیلا۔
موقع پر موجود نمائندوں کے مطابق، پارلیامنٹ کے احاطے کے قریب سکیورٹی فورسز کی تعیناتی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پارلیامنٹ کے علاقے سے مظاہرین کو پیچھے دھکیل کر پٹیل چوک تک پہنچا دیا گیا ہے، جہاں اب وہ بڑی تعداد میں دھرنےپر بیٹھے ہیں۔
دی وائر کے نمائندوں کے مطابق، جنتر منتر پر بھاری بیریکیڈنگ اور پولیس کی بڑی نفری کی تعیناتی کے باوجود تقریباً ایک لاکھ افراد بیریکیڈز کے باہر جمع ہو چکے ہیں اور پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی’ری اسٹور اسٹیٹ ہڈ‘ (ریاست کا درجہ بحال کرو)لکھا ہوا جیکٹ پہن کر سی جے پی کے احتجاج میں شرکت کی۔
We were stopped from getting to Jantar Mantar & stopped from protesting peacefully for what is rightfully ours but we were not silenced. This is only the beginning of our struggle for statehood, our rights, our dignity and everything that was taken away from us. pic.twitter.com/tSMwtPLmqI
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) July 20, 2026
