مودی حکومت کا آمرانہ رویہ: سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا

سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ کارکن سونم وانگچک کی حراست کے بعد بھی احتجاج جاری رکھیں گے۔تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ

نئی دہلی:جنتر منتر پر گزشتہ 21 دنوں سے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کرنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو سنیچر (18 جولائی) کو دہلی پولیس کی جانب سے زبردستی اسپتال لے جانے کی کارروائی پر اپوزیشن جماعتوں نے مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے کہا کہ یہ واقعہ مودی حکومت کے آمرانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے ایکس  پر لکھا،’میں دہلی پولیس کے ذریعے سونم وانگچک اور ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ جس وزیرتعلیم کے دور میں امتحان کے پرچوں کے لیک ہونے جیسا سنگین اسکینڈل پیش آیا ہو، انہیں برخاست کرنے اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو برباد کرنے والے نظام کو ختم کرنے کے بجائے حکومت پرامن مظاہرین پر جبر کر رہی ہے۔ یہ مودی حکومت کے آمرانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے کی آواز کو دبانا جوابدہی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

سماج وادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو نے ایکس پر لکھا،’سونم وانگچک جی کو زبردستی ہٹانا صرف ایک کارروائی نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کو کچلنے جیسا ہے۔ بی جے پی حکومت کو اب پرامن احتجاج بھی برداشت نہیں، یہ آمریت ہے۔‘

واضح ہو کہ اسی ہفتے یادو اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ جنتر منتر پر سونم وانگچک سے ملاقات کرنے پہنچی تھیں۔

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ 20 جولائی کو پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے بعد یہ تحریک اور بڑی ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسی وجہ سے دہلی پولیس کمشنر کو تبدیل کیا گیا اور سونم وانگچک کو اسپتال بھیجا گیا۔

ایکس پر جاری ویڈیو پیغام میں سنگھ نے کہا،’یہ نوجوان آپ کے اقتدار کے غرور کو ختم کریں گے۔ میں ملک کے تمام نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ سونم وانگچک کی حمایت کریں اور اس تحریک کو کمزور نہ ہونے دیں۔‘

کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ وانگچک کو اسپتال لے جایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا،’میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔ میں نے کل جنتر منتر پر سونم وانگچک اور گیتانجلی سے کہا تھا کہ جلد ہی انہیں اسپتال لے جایا جا سکتا ہے۔ اس کی پہلی تیاری دہلی پولیس کمشنر کی تبدیلی تھی۔ سونم، جو ہمیشہ مثبت سوچ رکھنے والے انسان ہیں، انہیں امید تھی کہ 20 جولائی تک حکومت کوئی حل نکال لے گی۔‘

واضح ہو کہ جمعہ کو کانگریس کے رہنما پون کھیڑا سمیت کئی دیگر رہنما بھی جنتر منتر پہنچے تھے۔

ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا ایم پی ساگریکا گھوش نے پولیس کی کارروائی کو’حیران کن‘قرار دیا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا،’یہ ریاستی جبر اور تشدد کی کیسی حیران کن مثال ہے؟ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکی نریندر مودی حکومت صرف ڈنڈے کا استعمال کرنا جانتی ہے۔ یہ قابل قبول نہیں  ہے۔‘

ترنمول کانگریس کی لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے دہلی پولیس کے اس قدم کو’کڈنیپنگ‘قرار دیا۔

کانگریس کے رہنما کے سی وینوگوپال نے لکھا،’دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بجائے سونم وانگچک کو جنتر منترسے ہٹا دیا گیا ہے۔‘

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے لکھا،’سونم وانگچک جی کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی ان کے غیر معینہ بھوک ہڑتال کے مقام سے اٹھا کر لے جانا انتہائی قابل مذمت خبر ہے۔‘

سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا نے لکھا،’اگر حکومت واقعی سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں فکر مند ہے تو اسے جبر کا سہارا لینے کے بجائے مظاہرین سے بات چیت کرنی چاہیے اور ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔‘

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لکھا،’عوام کا اعتماد شفافیت، جوابدہی اور جمہوری حقوق کے احترام سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ پرامن احتجاج کو دبانے یا بات چیت سے انکار کرنے سے۔‘

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے ایکس پر لکھا،’آج جنتر منتر پر جو کچھ ہوا، وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔‘

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے لکھا،’اتنا غرور ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں زبردستی اٹھانے کے بجائے مودی حکومت کو سونم وانگچک سے بات کرنی چاہیے تھی۔‘

کانگریس کے رہنما کنہیا کمار نے لکھا،’لیک پردھان اپنی گدی سے چپکے ہوئے ہیں، اور ان کا استعفیٰ مانگنے والوں کو جنتر منتر سے اس طرح زبردستی اٹھایا جا رہا ہے جیسے یہ احتجاج کی جگہ نہیں بلکہ ان کا پرائیویٹ گارڈین ہو۔‘

کانگریس  رہنما پون کھیڑا نے لکھا،’ہمارا آئین ہر شہری کو اپنی آواز بلند کرنے اور پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ لیکن آج وزارت داخلہ کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اسی آئینی حق کو اس نے اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔‘