میٹا نے دی وائر کی لارنس بشنوئی سے متعلق ویڈیو رپورٹ اور فلم ’چوہان‘ پر ایک ٹیکسٹ رپورٹ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے انسٹاگرام اور فیس بک سے ہٹا دیا ہے۔ دونوں معاملوں میں کوئی صاف وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب دی وائر کی خبروں، ویڈیو اور طنزیہ مواد تک رسائی کومحدود کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔

بغیر کسی پیشگی اطلاع کے میٹا نے دی وائر کی ایک ٹیکسٹ رپورٹ اور ایک ویڈیو ایکسپلینر کو فیس بک اور انسٹاگرام سے ہٹا دیا ہے۔ (تصویر: فیس بک، انسٹاگرام/دی وائر، کینوا)
نئی دہلی:دی وائر کو میٹا کی جانب سے ’دوٹیک ڈاؤن نوٹس ‘موصول ہوئے ہیں۔ یہ نوٹس 2 جولائی اور 13 جولائی کو شائع ہونے والی ایک ٹیکسٹ رپورٹ اور ایک ویڈیو ایکسپلینر کو ہٹائے جانے سے متعلق ہیں۔ دونوں ہی معاملوں میں پوسٹ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہٹائی گئی ہیں اور انہیں ہٹانے کی کوئی صاف وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔
گزشتہ13جولائی کو دی وائر کی ڈپلومیٹک ایڈیٹر دیوی روپا مترا کی تفصیلی رپورٹ پر مبنی مینل سعید کا ویڈیو ایکسپلینر ہٹا دیا گیا۔ اس ویڈیو میں امریکہ کی جانب سے جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف دائر کیے گئے فردِ جرم(انڈائٹمنٹ)کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔
یہ ویڈیو اس وقت ہٹایا گیا، جب دی وائر کی ملٹی میڈیا پروڈکشن ہیڈ مینل نے اسے اپنے نجی انسٹاگرام اکاؤنٹ کی اسٹوری پر شیئر کیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا،’ہندوستان کے انفارمیشن ٹکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز، 2021 کے تحت قانونی تقاضوں کی تعمیل کرتے ہوئے، ہمارے خودکار نظام نے اس مواد تک رسائی محدود کر دی ہے۔‘
نوٹیفکیشن میں یہ بھی درج تھا کہ،’یہ اسٹوری ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے۔‘
تاہم، یہ ویڈیو ایکسپلینر اب بھی دی وائر کے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دستیاب ہے۔
اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کن واقعات اور پیش رفتوں کے نتیجے میں امریکہ نے لارنس بشنوئی کے خلاف فرد جرم دائر کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب بشنوئی گینگ پر کینیڈا میں خالصتانی علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں مجرمانہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسی قتل کے بعد ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں غیر معمولی سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
اس سے قبل، 2 جولائی کو صحافی جنید ڈار کی رپورٹ کو بھی فیس بک اور انسٹاگرام سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، اس رپورٹ کا ہندی اور اردو ترجمہ اب بھی انسٹاگرام پر دستیاب ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اجئے دیوگن کی آنے والی ایکشن فلم ’چوہان‘کے ٹریلر کا ایک مکالمہ کشمیر میں پیلٹ گن کا شکار ہوئے لوگوں کے پرانے زخموں کو پھر سے ہرے کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وادی کشمیر میں بدامنی کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہو کر مستقل معذوری یا متاثر ہونے والے ہزاروں کشمیری اس مکالمے کو اپنی تکلیف اور اذیت کا مذاق قرار دے رہے ہیں۔

2 جولائی کو جنید ڈار کی یہ رپورٹ دی وائر کے فیس بک پیج سے ہٹا دی گئی تھی۔
ڈار نے اپنی رپورٹ میں لکھا،’ٹریلر پر ہونے والی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بالی ووڈ کشمیر کی حالیہ تاریخ کے سب سے دردناک ابواب میں سے ایک کو کس طرح یاد کرتا ہے، اور اسے ہندوستان اور دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے کس انداز میں پیش کرتا ہے۔‘
یہ رپورٹ اب بھی دی وائر کی ویب سائٹ اور ایکس پر دستیاب ہے۔

15 جولائی 2026 کو ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 2:27 بجے تک جنید ڈار کی رپورٹ کا اردو ورژن دی وائر اردو کے انسٹاگرام پیج پر دستیاب ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ میٹا نے دی وائر کی خبروں، ویڈیو اور حتیٰ کہ طنزیہ مواد تک رسائی کو محدود کیا ہو۔
اس سے قبل 9 فروری کو دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی) نے 7 فروری کو شائع ہونے والے 52 سیکنڈ کے ایک طنزیہ کارٹون کو انسٹاگرام پر بلاک کرنے کی ہدایت میٹا کو دی تھی۔ تاہم، میٹا نے ’غلطی سے‘دی وائر کا پورا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہی ہندوستان میں بلاک کر دیا۔ یہی کارٹون ایکس پر بھی بلاک کر دیا گیا ۔
اس کے بعد دی وائر کو ای میل کے ذریعے 11 فروری کو ایک میٹنگ میں شرکت کا نوٹس بھیجا گیا۔ اس میٹنگ میں دی وائر کو حکومت کے اس فیصلے پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جس کے تحت اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر شائع ہونے والے اینیمیٹڈ کارٹون پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ بیٹھک ایک سرکاری بین وزارتی کمیٹی (آئی ڈی سی) کے سامنےکی گئی تھی۔
تاہم، نوٹس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کارٹون پر پابندی کس بنیاد پر عائد کی گئی ہے۔ بیٹھک میں شریک دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کو اپنی بات رکھنے کے لیےمدعو کیے جانے سے قبل زبانی طور پر بتایا گیا کہ کارٹون کو اس لیے بلاک کیا گیا کیونکہ یہ مبینہ طور پر افواہیں یا غیر مصدقہ معلومات پھیلا رہا تھا، جس سے ملک کے دفاع، سلامتی اور ساکھ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 52 سیکنڈ کے اس مختصر ویڈیو کے کس حصے کو افواہ یا غیر مصدقہ معلومات قرار دیا گیا۔
ہندوستان کے انفارمیشن ٹکنالوجی قانون کے تحت کسی بھی مواد کو بلاک کرنے سے پہلے وزارت اطلاعات و نشریات کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ ناشر کو پیشگی طور پر مطلع کرے کہ وہ کسی مخصوص مضمون یا صفحے تک رسائی کو بلاک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔