بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر ’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘کرنے کی تجویز کو فی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ فیکلٹی، طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت نیز وی سی کے استعفیٰ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس قدم کو روک دیا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم بھی نام کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھا۔

تصویر بہ شکریہ: ایکس /برکت اللہ یونیورسٹی
نئی دہلی:بھوپال کی معروف برکت اللہ یونیورسٹی پہلے کی طرح ہی برکت اللہ یونیورسٹی کے نام سے جانی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کے نام بدلنے کی تجویز کوفی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 3 جون کو برکت اللہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے یونیورسٹی کا نام بدل کر ’واگ دیوی بھوجپال (بھوپال نہیں) یونیورسٹی‘ کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد کافی تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔
اس سلسلے میں دی ہندو کو یونیورسٹی کے وی سی سریش کمار جین نے بتایا تھا کہ واگ دیوی ہندو دیوی سرسوتی کاہی ایک نام ہے، جبکہ بھوجپال کو بھوپال کا قدیم نام قرار دیا جاتا ہے، جو قدیم پرمار خاندان سے منسوب ہے۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں، اساتذہ، طلبہ اور دیگر افراد، جنہوں نے یونیورسٹی کا نام بدلنے کی مخالفت کی تھی، نے یہ موقف اختیار کیا تھاکہ واگ دیوی اور راجہ بھوج کے نام پر الگ سے نئے ادارے قائم کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ راجہ بھوج ایک بڑے راجاتھے، جن سے کسی کا موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ ان کی یاد میں ایک بڑا اور ممتاز ادارہ قائم ہونا چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا برکت اللہ کی خدمات کو فراموش کر دیا جائے۔
ان لوگوں کے مطابق، اس ادارے کا نام تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ایک معزز جدید ہندوستانی مجاہد آزادی اور ممتاز دانشور کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔
طلبہ اور اساتذہ کے مسلسل دباؤ اور گزشتہ ہفتے وی سی جین کے استعفیٰ کے بعد اس تجویز کو روک دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں رجسٹرار سمر بہادر سنگھ نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ نام تبدیل کرنے کی پہل وائس چانسلر نے کی تھی، اور ان کے جانے کے بعد اس عمل کو روک دیا گیا۔
انہوں نے کہا،’محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام بھی نام کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔‘
اخبار نے ایگزیکٹو کونسل کے ایک رکن کے حوالے سے لکھا ہے کہ اب توجہ’انتظامی امور کو مستحکم کرنے‘پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
غور طلب ہے کہ 400 ایکڑ میں پھیلے اس یونیورسٹی کی بنیاد 1970 میں رکھی گئی تھی، اور ابتدا میں اس کا نام بھوپال یونیورسٹی تھا۔ بعد میں 1988 میں اس کا نام ہندوستان کے مجاہد آزادی اور ممتاز عالم محمد برکت اللہ بھوپالی کے نام پر رکھا گیا۔
بھوپال سے تعلق رکھنے والے برکت اللہ نے ہندوستان کی پہلی جلا وطن عارضی حکومت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ حکومت یکم دسمبر 1915 کو افغانستان میں قائم ہوئی تھی، جس کے صدر راجہ مہندر پرتاپ سنگھ تھے۔وہ غدر تحریک سے وابستہ تھے اور ایک ممتاز عالم، صحافی اور کئی علوم کے ماہر تھے۔ انہیں عربی، فارسی، انگریزی اور جاپانی سمیت متعدد زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
انہوں نے لندن، لیورپول اور ٹوکیو میں تدریسی خدمات انجام دیں، غدر پارٹی کے اخبار کی ادارت کی اور ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی انقلابی سرگرمیوں کے تحت امریکہ، جاپان، جرمنی، ترکی، افغانستان، سوویت روس، فرانس اور اٹلی کا سفر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، نام کی تبدیلی کی اس تجویز میں ان کی علمی اور قومی خدمات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ’راجہ بھوج کے مقابلے میں برکت اللہ بھوپالی کا اس خطے میں کوئی نمایاں کردار نظر نہیں آتا، سوائے اس کے کہ وہ بھوپال کے رہنے والے تھے۔‘