نریندر مودی حکومت کے تیسرے دور کے دو سال پورے ہونے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے ’پرچار بنام حساب‘کے نام سے 75 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سال’بڑے بڑے اعلان‘والے رہے ہیں، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت خاطر خواہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی اور نریندر مودی کے دورحکومت میں روپیہ سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک رہا۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کیے گئے 75 صفحات پر مشتمل دستاویز کو کمیٹی کے چیئرمین راجیو گوڑا نے اپنے ساتھی امیتابھ دوبے کے ساتھ مشترکہ طور پر جاری کیا۔تصویر: ویڈیو اسکرین گریب/ ایکس
نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کے تیسرے دور کے دو سال پورے ہونے پر’پرچاربنام حساب‘کے عنوان سے 75 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کرتے ہوئے کانگریس نے منگل (9 جون) کو کہا کہ روزگار، معاشی ترقی، جمہوریت، بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے حوالے سے مرکزی حکومت کے دعووں سے شہریوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ 12 سال کی ’غریب مخالف معاشی پالیسیوں اور کمزور خارجہ پالیسی‘نے ملک کو ایسی حالت میں پہنچا دیا ہے جہاں لاکھوں غریب خاندان اور خواتین دوبارہ’لکڑی کے چولہوں کے زہریلے دھوئیں‘کے سامنےبٹھا دیے ہیں۔
گاندھی نے کہا،’اجولا یوجنا کے تحت سبسڈی والے سلنڈروں کی تعداد 9 سے کم کرکے 4 کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ 3 ماہ میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 89 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی پہلے قیمتیں بڑھاؤ، پھر سبسڈی کم کرو اور غریبوں کے چولہے بجھا دو۔‘
انہوں نے کہا،’مہاجر مزدوروں کی زندگی کا سہارا، 5 کلو والا سلنڈر بھی 323 روپے مہنگا کر دیا گیا۔ وہ کمائے گا کیا، کھائے گا کیا اور بچائے گا کیا؟ ارب پتی دوستوں کے لاکھوں کروڑوں روپے کے قرض معاف کرنا اور غریبوں کو اپنی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنا ہی مودی کا لوٹ ماڈل ہے۔‘
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کردہ اس دستاویز کو کمیٹی کے چیئرمین راجیو گوڑا نے اپنے ساتھی امیتابھ دوبے کے ساتھ جاری کیا۔
راجیو گوڑا نے کہا کہ گزشتہ 12 سال’بڑے بڑے بڑے اعلان، شاندار بیانات اور سرخیاں حاصل‘کرنے والےرہے ہیں، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا،’وزیراعظم مودی کے دور میں روپیہ بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں شامل رہا ہے۔ گزشتہ 12 سالوں میں وعدوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے اعلان، شاندار بیانات اور سرخیاں ضرور دیکھنے کو ملی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سرخیوں میں سے کوئی بھی ایسی چیز میں نہیں بدلی جو لوگوں کی زندگی میں کوئی بامعنی تبدیلی لائے۔‘
انہوں نے کہا،’ہر 10 میں سے 4 گریجویٹ بے روزگار ہیں’ اور دعویٰ کیا کہ حکومت خاطر خواہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گوڑا نے دعویٰ کیا کہ شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 18.4 فیصد ہے، جبکہ بے روزگار گریجویٹ میں سے صرف 7 فیصد کو ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ دار ملازمت حاصل ہو سکی۔
خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی 108 ویں مقام سے گر کر 131 ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم اپنی نصف آبادی کو مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ خواتین کے لیے مناسب روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جا رہے ہیں۔‘
مائیکرو، اسمال اور میڈیم کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای) کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 40,000 کاروباری ادارے بند ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا،’نوٹ بندی سے ہونے والا نقصان آج بھی جاری ہے اور ایم ایس ایم ای سیکٹر اس کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہا ہے۔‘
گوڑا نے یہ بھی الزام لگایا کہ ’ملک بھر میں 6.5 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا، ’ہم ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ہماری جمہوریت بری طرح کمزور ہو چکی ہے، اور یہ ہندوستان کے ہر شہری کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔‘
وہیں، دوبے نے مہنگائی کے مسئلے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ 2014 کے بعد سے ایل پی جی، پیٹرول، ڈیزل، دودھ اور دالوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، ’نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا اور 2024 تک 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا۔ لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ معیشت 4 ٹریلین ڈالر سے نیچے آ چکی ہے اور ہندوستان پھسل کر دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔‘
دوبے نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان سے باہر جا رہے ہیں اور ملکی صنعت کار بھی بیرون ملک اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں، جس کے باعث حالیہ جی ڈی پی اعداد و شمار کے باوجود ملک اپنے ترقیاتی اہداف حاصل نہیں کر پا رہا۔
دوبے نے بنیادی ڈھانچے، ریلوے کی سلامتی اور تعلیم کے مسائل پر بھی حکومت کونشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں بھیڑ بھاڑ، تاخیر اور سکیورٹی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نےنیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریلوے ٹریک پر 22,413 لوگوں کی موت ہوئی۔ بار بارامتحان کے پرچے لیک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ’89 پرچے لیک ہوئے ہیں اور 48 مرتبہ دوبارہ امتحانات منعقد کروانے پڑے ہیں۔‘
دوبے نے کہا، ’ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوراً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔