مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا

دہلی سمیت ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان سنیچر کی دوپہر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لکھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔

دہلی سمیت ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان سنیچر کی دوپہر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لکھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سنیچر کوسوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔

پردھان نے لکھا ہے کہ،’جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس صورتحال کا ملک مخالف قوتیں فائدہ نہ اٹھا ئیں ملک  میںاتحاد اور یکجہتی برقرار رہے، اسی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔‘

دو صفحات پر مشتمل اس خط کی شروعات کرتے ہوئے پردھان نے لکھا،’میں گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف رہا ہوں۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

میں ملک کے نوجوانوں کے امنگوں، جذبات اور ان کی جائز توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہم سب کی سیاسی اور سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔ محترم وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں ملک کی خدمت کرنے کا جو موقع مجھے ملا، اس کے لیے میں وزیر اعظم  کا شکر گزار ہوں۔‘

جس نیٹ امتحان، کو لے کر نوجوان احتجاج کر رہے ہیں، اس بارے میں انہوں نے کہا،’مئی 2026 میں ہونے والے نیٹ-یو جی امتحان میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ حکومت ہند نے فوراً اس کا نوٹس لیتے ہوئے جانچ سی بی آئی کو سونپ دی اور امتحان کو رد کیا اور دوبارہ امتحان کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگلے سال سے اس امتحان کو کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی)موڈ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے ہی دن سے میں نے اس کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اس صورتحال سے منہ نہیں موڑا۔ میرا یہ عزم تھا ہم کسی بھی باصلاحیت طالبعلم کے امکانات کو اگزام مافیا کی وجہ سے خراب نہیں ہونے دیں گے اور کسی بھی طالبعلم کے ساتھ ناانصافی  نہیں ہونے دیں گے۔ ‘

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ،’اس دوران طلبہ کو گمراہ کرنے کے لیے ذمہ دار عہدوں پر موجودلوگوں نے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے میرا دل بہت رنجیدہ ہوا۔‘

انہوں نے مزید کہا،’گزشتہ 10 دنوں کے واقعات کو دیکھ کر میرا دل افسردہ ہے۔ یہ میرے لیے ذاتی عزت یا وقار کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ ہم ملک کی نوجوان طاقت کو غلط فہمیوں کے جال میں پھنسنے نہیں دیں گے، یہی میرا عزم ہے۔‘

انہوں نے کہا،’جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس کا ملک مخالف طاقتیں فائدہ نہ اٹھا سکیں، ملک میں اتحاد اور یکجہتی برقرار رہے، ہندوستان کے کسی بھی طالبعلم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں اور اپنے کیریئر بنانے پر توجہ دیں، اسی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ محترم وزیر اعظم جی کو بھیج دیا ہے۔‘