سی جے پی نے کہا – اگر ایک دو دن میں دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک کا اعلان کیا جائے گا

جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔

جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔

(بائیں سے) سوربھ داس، ابھیجیت دیپکے اور آشوتوش رانکا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: 20 جولائی کو سنسد مارچ کے دوران پولیس کی سخت کارروائی کے بعد شروع ہوئی تحریک اب اور وسیع ہو چکی ہے۔ مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد سی جے پی نے جمعہ (24 جولائی) کو کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر اپنے عہدے سے مستعفیٰ نہیں ہوتے تو وہ ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔

اس کے ساتھ ہی سی جے پی نے کہا کہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور دہلی پولیس کو عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔

اس سے قبل جمعہ کو سی جے پی کا ایک وفد بات چیت کے لیے جنتر منتر سے کانسٹی ٹیوشن کلب گیا تھا۔

حکومت کے ساتھ ملاقات کے بعد سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا،’ہم نے حکومت سے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اب اس معاملے میں مزید انتظار ممکن نہیں۔ اگر اگلے ایک دو دن میں دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے نہیں ہٹتے تو پورے ملک میں ایک نئی تحریک شروع کی جائے گی۔ یہ 20 جولائی کے احتجاج سے بھی بڑی ہوگی اور ملک بھر میں منظم کی جائے گی۔ ہم نے حکومت کو صاف بتا دیا ہے کہ پورا ملک صرف دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہتا ہے، اس سے کم کوئی بات ہمیں قبول نہیں۔‘

رانکا نے مزید کہا،’نیٹ پیپر لیک کی وجہ سے جن بچوں کی جان گئی، اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اس کا جواب ہم جانتے ہیں۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا انہیں عہدے سے ہٹایا جانا کسی بھی قیمت پرسمجھوتے کا موضوع نہیں ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، جنتر منتر کا یہ احتجاج اور ملک بھر میں اس کی حمایت میں جاری مظاہرے جاری رہیں گے۔ ہم نے حکومت سے کہا کہ تعلیمی اصلاحات پر لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن پورے ملک کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دو پہر 3:30 بجے دوبارہ بات چیت کے لیے بلایا ہے۔

سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ وفد نے حکومت کے سامنے اپنی تین بنیادی تحریری مانگیں رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا،’ہماری پہلی اور سب سے اہم مانگ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہیں یا تو استعفیٰ دینا ہوگا یا پھر کابینہ سے ہٹایا جائے۔ دوسری مانگ یہ ہے کہ نیٹ پیپر لیک کے باعث جن لوگوں کی جانیں گئیں، ان کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔ تیسری مانگ یہ ہے کہ تحریک سے متعلق درج تمام ایف آئی آرواپس لی جائے اور آئندہ بھی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔‘

داس نے مزید کہا کہ ان تین مطالبات کے علاوہ سی جے پی کا ایک پانچ نکاتی ایجنڈا بھی ہے، جس پر وہ حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے، لیکن پہلے ان تینوں مطالبات کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، حکومت نے دوسرے اور تیسرے مطالبے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

دریں اثنا، دہلی کے جنتر منتر پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہیں، جہاں سی جے پی کے کارکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سمیت مختلف مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سینٹرل دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن بند کر دیے ہیں، متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بار بار معطل کی جا رہی ہیں، جبکہ کئی راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

جمعہ کو سی جے پی کے وفد سے ملاقات کے بعد مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت نے ان کے تحفظات سنے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے ان مسائل پر بات کی گئی ہے۔

نڈا نے کہا،’ہم نے ان کے مطالبات سنے ہیں اور انہیں بتایا ہے کہ حکومت ان پر غور کرنے کے بعد اپنا جواب دے گی۔‘

دوسری جانب، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

ادھر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جب تک  وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا، اپوزیشن پارلیامنٹ میں کسی بھی طرح کی بحث کے لیے تیار نہیں ہوگی۔