’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ کارروائی کیوں نہیں چل رہی ہے؟‘

طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘

طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘

پارلیامنٹ کے باہر احتجاج کرتی ہوئی پرینکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر اراکین پارلیامنٹ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:نیٹ کے پیپر لیک کے موضوع پر پارلیامنٹ میں بحث اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ جمعرات (23 جولائی) کو مانسون اجلاس کے چوتھے دن بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اہم معاملہ بنا رہا۔

اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے درمیان دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار ملتوی کرنا پڑی، اور مسلسل چوتھے دن بھی کوئی س کام نہ ہو سکا، جس کے بعد اجلاس پورے دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، ترمیم شدہ ایجنڈے کے تحت لوک سبھا میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 پر بحث اور منظوری کا عمل ہونا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ سوگت رائے، این کے پریم چندرن اور ایڈووکیٹ ڈین کوریا کوس کی جانب سے پیش کردہ اس قانونی قرارداد پر بھی بحث ہونی تھی، جس میں اس بل پر ایوان کی عدم منظوری درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی)کی کئی اہم رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی جانی تھیں۔

پرینکا گاندھی نے پارلیامنٹ کے باہر صحافیوں سے پوچھا-کیا آپ نے دھرمیندر پردھان سے پوچھا کہ وہ استعفیٰ کب دیں گے؟

اسی دوران پارلیامنٹ کے باہر جب صحافی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان میں ہنگامے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو انہوں نے الٹا سوال کیا کہ میڈیا حکمران جماعت کے رہنماؤں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے ان کے استعفیٰ کے بارے میں سوال کیوں نہیں کر رہا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے کہا،’آپ اس حکومت کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ ان سے پوچھیے، ان (بی جے پی) کے رہنماؤں سے پوچھیے۔ اتنی بڑی تحریک چل رہی ہے اور آج وزیراعظم پارلیامنٹ بھی نہیں آئے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘

اس کے بعد انہوں نے ایک ایک صحافی سے پوچھا کہ کیا انہوں نے یہ سوال کیا ہے کہ پرچہ لیک کیوں ہوا اور وزیر تعلیم استعفیٰ کب دیں گے۔

انہوں نے کہا،’ صرف ہاں یا نا میں جواب دیجیے، کیا آپ نے ان (بی جے پی کے وزراء) سے یہ سوال پوچھا؟ ‘

اس پر کچھ صحافیوں نے جواب دیا کہ ’وزیر کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں۔‘

اس کے بعد پرینکا گاندھی نے پوچھا،’کیا آپ نے (وزیر داخلہ) امت شاہ سے پوچھا کہ بچوں پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ پہلے ان سے یہ سوال پوچھیں، پھر میں آپ کے سوالوں کا جواب دوں گی۔ ‘

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ہی بحث شروع ہوگی‘: اکھلیش یادو

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر حکومت پرچہ لیک ہونے کی بات تسلیم کر رہی ہے تو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا،’استعفیٰ ملنے کے بعد ہی ہم بحث شروع کریں گے۔‘

وزیر داخلہ امت شاہ کی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات (23 جولائی) کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات پارلیامنٹ میں نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے دوران ہوئی۔

حکومت بحث کے لیے تیار‘ -کرن رجیجو بولے؛ کھڑگے نے کی  پہلے پردھان  کےاستعفیٰ کی مانگ، دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

بتادیں کہ جمعرات کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے چند ہی منٹ بعد اسے ملتوی کر دیا گیا۔ دوسری جانب راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک ہوئی، جس کے بعد وہاں کی کارروائی بھی ملتوی کر دی گئی۔

مرکزی وزیر برائے پارلیامانی امور کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ بحث کے لیے شرائط عائد کر رہی ہے۔

وہیں،راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، اس معاملے پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی۔

کھڑگے کی تقریر کے دوران ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا، جس کے بعد کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

احتجاج صرف پارلیامنٹ تک محدود نہیں رہے گا‘

پارلیامنٹ کے احاطے میں اپوزیشن کے احتجاج کے دوران سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیامنٹ جان برٹاس نے کہا کہ یہ احتجاج صرف پارلیامنٹ تک محدود نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا،’ ہم سڑکوں پر بھی نکلیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر قائم رہیں گے۔ ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہیں استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔‘

جمعرات (23 جولائی) کو پارلیامنٹ کا احاطہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے احتجاج کا مرکز بنا رہا۔ ایک طرف اپوزیشن کے اراکین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف این ڈی اے کے ارکان اپوزیشن پر الزام لگا رہے تھے کہ وہ پارلیامنٹ میں نیٹ کے معاملے پر بحث نہیں ہونے دے رہی۔