نصیرالدین شاہ نے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کی، ویڈیو انسٹاگرام سے ہٹائے جانے کے بعد بحال

ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔

ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔

طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا ویڈیو۔تصویر: ایکس/کاکروچ از بیک سے ویڈیو گریب

نئی دہلی:مرکزی حکومت سے بار بار ہو رہے پیپرلیک اور ناقص تعلیمی نظام پر جوابدہی کا مطالبہ کر رہے طلبہ کی حمایت میں ملک کے نامور اداکار نصیر الدین شاہ کی  جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کیا گیا ویڈیو کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس دوران ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، تاہم بعد میں ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔

بدھ (22 جولائی) کی صبح شاہ نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر یہ ویڈیو شیئر کیا تھا، جس میں انہوں نے طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی کی مذمت کی تھی۔

ویڈیو میں شاہ کہہ رہے ہیں؛’آداب، نمسکار! میں نصیرالدین شاہ دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں آپ سب سے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک جاہل اس ملک کی رہنمائی کرے تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک اسی کی طرح جاہل، ناسمجھ، ناقابل اور بے رحم بنے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’ اداکاری کے دو مختلف کورس نیشنل اسکول آف ڈراما اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ سے مکمل کرنے کے باوجود، میں نے اداکاری کے بارے میں سب سے زیادہ انہ بچوں، ان طالبعلموں سے سیکھا ہے جنہیں سکھانے کی کوشش  میں نے کی ہے۔ میری پوری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ میں انہیں ہر سانس کے ساتھ ہزاروں-ہزار دعائیں دیتا ہوں اور ہر یوم اساتذہ پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔‘

’طلبہ کے ساتھ غنڈوں جیسا سلوک کیا گیا، جنہوں نے مجھے امریکہ کے آئی سی ای ایجنٹوں کی یاد دلا دی‘

شاہ نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ کر انہیں شدید غصہ آیا۔

جذباتی انداز میں انہوں نے کہا،’اس وقت میرا دل بھی بھرا ہوا ہے اور میں غصے سے کھول بھی  رہا ہوں۔ یہ دیکھ کر کہ ہمارے ان بچوں کے ساتھ کس طرح ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان غنڈوں کے ہاتھوں، جو مجھے امریکہ کے آئی سی ای ایجنٹوں کی یاد دلاتے ہیں… چہروں پر نقاب لگائے ہوئے، ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے۔ کبھی اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچا کرو، اور یہ بھی سوچوکہ تمہارا انجام تمہیں بھی ایک دن ضرور ملے گا۔‘

انہوں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،’ان سب بچوں سےمیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمت نہ ہاریں۔ بہت سے لوگوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے، بہت سے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ لڑتے رہیں۔ مجھے ہمارےملک کی نوجوان نسل سے ہمیشہ امید رہی ہے، اور اب وہ امید اور اجاگرہو گئی ہے۔ آپ لوگ اپنی لڑائی لڑتے رہیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔‘

آخر میں جذباتی لہجے میں شاہ نے حکومت سے کہا،’اور اس ملک کی حکومت سے میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں-سب کچھ یاد رکھا جائے گا۔‘

شاہ کی ویڈیو پوسٹ ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اسے شیئر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

سی جے پی نے لکھا،’لیجنڈری اداکار نصیر الدین شاہ نے دہلی میں کل نوجوانوں پر تشدد کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو یاد دلایا ہے-’سب کچھ یاد رکھا جائے گا۔‘ آپ کی آواز اور یکجہتی کے لیے شکریہ، سر۔‘

اگرچہ سی جے پی کی جانب سے شیئر کیا گیا ویڈیو دستیاب تھا، لیکن بدھ کی صبح چند گھنٹوں تک شاہ کا انسٹاگرام پروفائل اور ان کا اصل ویڈیو نظر نہیں آ رہا تھا۔

اس دوران، شاہ کی جانب سے شیئر کیے گئے ویڈیو کے ایمبیڈ لنک پر کلک کرنے سے یہ پیغام نظر آرہا تھا-’یہ پوسٹ دستیاب نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لنک کام نہ کر رہا ہو یا پروفائل ہٹا دی گئی ہو۔‘

دی وائر نے اس معاملے میں میٹا کو ای میل بھیج کر پوچھا ہے کہ شاہ کا ویڈیو اور انسٹاگرام اکاؤنٹ کچھ وقت کے لیے کیوں نظر نہیں آ رہا تھا۔ میٹا کی جانب سے جواب موصول ہونے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

بعد میں بدھ کی دوپہر تقریباً 12 بجے کے بعد نصیر الدین شاہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اور ویڈیو دونوں دوبارہ دستیاب ہو گئے۔