دہلی میں 20 جولائی کو طلبہ تحریک کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کی تعداد اب کم از کم 10 ہو گئی ہے۔ ٹی ایم سی کے سابق ایم پی ساکیت گوکھلے کی آر ٹی آئی کے جواب میں لیڈی ہارڈنگ اسپتال نے 9 جبکہ صفدرجنگ اسپتال نے ایک زخمی کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل پانچ افراد کے زخمی ہونے کی جانکاری سامنے آئی تھی۔

دہلی کے لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں سرجری کے بعد ارشاد کو وہیل چیئر پر باہر لے جاتے ہوئے۔ (تصویر: وپل کمار)
نئی دہلی:دہلی میں طلبہ تحریک کے دوران 20 جولائی کو مجوزہ سنسد مارچ کے موقع پر پیلٹ گن سے کم از کم 10 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حالیہ آر ٹی آئی کے جواب میں یہ جانکاری سامنے آئی ہے۔
اب تک پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے 5 لوگوں کے بارے میں رپورٹ سامنے آئی تھی، لیکن تازہ اعداد و شمار کے بعد زخمی لوگوں کی تصدیق شدہ تعداد کم از کم دوگنی ہو گئی ہے۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سابق ایم پی ساکیت گوکھلے کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی کے جواب میں لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج نے بتایا کہ 9 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے تھے۔ وہیں صفدرجنگ اسپتال نے آر ٹی آئی کے جواب میں کہا کہ ایک شخص پیلٹ گن سے زخمی ہوا تھا۔
ساکیت گوکھلے نے کہا ہے کہ ایمس اور رام منوہر لوہیا اسپتال کی جانب سے جواب آنا ابھی باقی ہے۔
بتادیں کہ یہ وہ اسپتال ہیں جہاں بنیادی طور پر 20 جولائی کو پولیس لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے طلبہ مظاہرین کا علاج کیا گیا تھا۔
دہلی میں طلبہ مظاہرین کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے۔ 20 جولائی کو مظاہرین پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرنے والے تھے۔ اس دوران بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے شدید طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کے ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
اسی دوران زخمی ہونے والے بعض مظاہرین کے جسم پر پیلٹ جیسے زخم بھی نظر آئے۔
تاہم، دہلی پولیس نے پہلے پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کیا تھا۔ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے بھی اپنے فیکٹ چیک میں پیلٹ گن کے استعمال کی خبر کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ لیکن 22 جولائی کو پارلیامنٹ اسٹریٹ تھانے میں درج جنرل ڈائری (جی ڈی) میں کہا گیا کہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) نے اینٹی رائٹ گن سے دو راؤنڈ فائر کیے تھے۔
لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج سے موصولہ جواب میں بتایا گیا کہ وہاں 81 زخمی افراد کو داخل کیا گیا تھا، جن میں 35 پولیس اہلکار اور 46 مظاہرین تھے۔
وہیں، صفدرجنگ اسپتال نے آر ٹی آئی کے جواب میں بتایا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر یا اس کےآس پاس کے علاقے میں زخمی ہونے والے 25 پولیس اہلکاروں اور 4 مظاہرین کو وہاں داخل کیا گیا تھا۔
دونوں اسپتالوں سے موصولہ جوابوں کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے گوکھلے نے لکھا، ’یہ کیسا جمہوری نظام ہے، جہاں پولیس پیلٹ گن کا استعمال کرتی ہے، پھر اس کے استعمال سے انکار کرتی ہے اور جب اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو متاثرین کی تعداد بتانے سے بھی انکار کر دیتی ہے؟‘
انہوں نے مزید لکھا،’ہندوستان کے دارالحکومت کے عین وسط میں نہتے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا، لیکن حکومت اور پولیس اب بھی اس سے متعلق معلومات چھپا رہی ہیں۔ مودی حکومت نے اب تک پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد کی تصدیق شدہ تعداد عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی؟‘
امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ امت شاہ پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کو اپنی ذاتی مافیا کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔
33333333333333333333333
اس سے قبل دی وائر نے اپنی ایک رپورٹ میں آن لائن دستیاب متعدد ویڈیوز کے ذریعے پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق کی تھی۔
دی وائر نے مبینہ طور پر پیلٹ گن یا اس سے ملتے جلتے ہتھیار سے زخمی ہونے والے 24 سالہ شخص ارشاد منصوری سے اسپتال میں علاج کے دوران ملاقات کی تھی۔ گروگرام کے رہنے والے ارشاد کی ان چوٹوں کے باعث تین گھنٹے تک سرجری کی گئی۔
اسپتال کے بستر سے ارشاد کی جانب سے لی گئی ایک سیلفی میں ان کے چہرے اور گردن پر پیلٹ جیسے چھوٹے چھوٹے زخم دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے دوست نے دی وائر کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ان میں سے دو چوٹیں، ایک آنکھ کے نیچے اور دوسرا گلے پر، خاص طور پر سنگین تھے۔
دی وائر کی موجودگی میں اسپتال کے عملے نے ان کے دوست سے ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا، جس میں درج تھا کہ انہیں اس بات سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ سرجری کے دوران ارشاد کی بینائی جا سکتی ہے اور اس کے لیے ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
ارشاد کے دوست نے بتایا تھا کہ جب ارشاد زخمی ہوئے تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کناٹ پلیس کے پاس تھے۔ ان کے مطابق، جس ہتھیار سے ارشاد زخمی ہوئے، اسے تقریباً 40 سے 50 میٹر کے فاصلے سے ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار نے چلایا تھا۔
ریپڈ ایکشن فورس سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ماتحت ہے اور دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران اس کی بھاری تعداد میں تعیناتی کی گئی تھی۔