دہلی پولیس کے ڈی سی پی نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گن چلانے کا آرڈر دیا: رپورٹ

سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری انٹری سے پتہ چلا ہے کہ آر اے ایف نے ڈی سی پی کی ہدایت پر اینٹی رائٹ گن سے دو راؤنڈ پلاسٹک پیلٹ کارتوس فائر کیے تھے۔ گزشتہ ہفتے دہلی پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی خبروں کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دیا تھا۔

سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری انٹری سے پتہ چلا ہے کہ آر اے ایف نے ڈی سی پی کی ہدایت پر اینٹی رائٹ گن سے دو راؤنڈ پلاسٹک پیلٹ کارتوس فائر کیے تھے۔ گزشتہ ہفتے دہلی پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی خبروں کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دیا تھا۔

گزشتہ 20 جولائی کو شاستری بھون میٹرو کے پاس آر اے ایف کے ایک جوان مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی جانچ میں یہ سامنے آنے کے ایک دن بعد کہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے ایک جوان نے اپنی پیلٹ گن سے کم از کم سات راؤنڈ فائر کیے، جن میں سے پانچ راؤنڈ پرامن مظاہرین کو لگے، اب سنسد مارگ تھانے کی جنرل ڈائری انٹری سے پتہ چلا ہے کہ آر اے ایف نے ایک ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کے آرڈر پر اینٹی رائٹ گن سے پلاسٹک پیلٹ کارتوس کے دو راؤنڈ فائر کیے تھے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے دہلی پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی خبروں کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دیا تھا۔

دی ہندو کی جانب سے ڈائری انٹری کے تجزیے پر مبنی رپورٹ کے مطابق، 20  جولائی کی رات 1 بج کر 24 منٹ پر درج کی گئی اس انٹری میں کہا گیا ہے کہ ’ڈی سی پی کے حکم پر‘آر اے ایف کے ڈپٹی کمانڈنٹ نے اینٹی رائٹ گن سے 55 نان الکٹریکل شیل، 15 الکٹریکل شیل، پانچ آنسو گیس گرینیڈ اور پلاسٹک پیلٹ والے بیلسٹک کارتوس کے دو راؤنڈ فائر کیے۔

آر اے ایف، جو سی آر پی ایف کی انسداد فسادات یونٹ ہے، کو 20 جولائی کو قومی دارالحکومت میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس دن کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مختلف طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر’چلو سنسد‘ مارچ کا انعقاد کیا تھا۔ مظاہرین اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پیلٹ گن کے استعمال کی خبریں پہلی بار 20 جولائی کو سامنے آئی تھیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے زخمی شیخ ارشاد منصوری کی تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملے پر دی وائر نے بھی رپورٹ کی تھی۔

ان دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے دہلی پولیس نے کہا تھا کہ مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی خبریں جھوٹی ہیں۔

نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا،’یہ دعویٰ کہ پولیس فورس پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے، مکمل طور پر جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ معلومات کو شیئر یا پھیلانے سے گریز کریں۔ کسی بھی معلومات کو پوسٹ یا فارورڈ کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے حقائق کی تصدیق کریں۔‘

تاہم، 20 جولائی کے مظاہرے کے بعد کئی شہریوں نے پیلٹ سے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ ان میں دہلی یونیورسٹی کا ایک 19 سالہ طالبعلم بھی شامل ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔

پیلٹ گن، جنہیں سکیورٹی فورسز اکثر مہلک گولیوں کے نسبتاً کم خطرناک متبادل کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں، بنیادی طور پر کشمیر جیسے حساس علاقوں میں ہجوم کو قابو کرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 20 جولائی کو ان کا استعمال پہلی بار قومی دارالحکومت دہلی میں نہتےمظاہرین کے خلاف کیا گیا۔

پیلٹ گن سے زخمی ہونے کی مختلف خبروں کے درمیان دو متاثرین، پرشانت کمار سنگھ اور شیخ ارشاد منصور، نے 27 جولائی کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں شہریوں کے ہجوم کو قابو کرنے کے لیے جزوی یا مکمل طور پر  پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔