نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ: پیلٹ جیسی چوٹ کا چوتھا معاملہ سامنے آیا، 19 سالہ نوجوان کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ

گزشتہ20 جولائی کو نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ایک چوتھا شخص بھی پیلٹ جیسی چوٹوں کا علاج کرا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ڈاکٹروں نے زخمی ہوئے 19 سالہ اس شخص کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس آنے کا صرف ’ایک فیصد امکان‘ہے۔

گزشتہ20 جولائی کو نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ایک چوتھا شخص بھی پیلٹ جیسی چوٹوں کا علاج کرا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ڈاکٹروں نے زخمی ہوئے 19 سالہ اس شخص کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس آنے کا صرف ’ایک فیصد امکان‘ہے۔

گزشتہ20جولائی کے احتجاج کے دوران ایک آر اے ایف اہلکار کے ہاتھ میں پیلٹ گن جیسا دکھائی دینے والا ہتھیار۔ (تصویر: شوم بسو)

نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے جاری احتجاج کے دوران کچھ خبروں میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ 20 جولائی کو نئی دہلی میں طلبہ کے مظاہرے میں شامل ایک چوتھا شخص بھی پیلٹ جیسی چوٹوں کا علاج کروا رہا ہے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، 19 سالہ ساحل لوچاب کا 21 جولائی کو ایمس جئے پرکاش نارائن ایپیکس ٹراما سینٹر میں آپریشن کیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹروں نے ان کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس آنے کا صرف’ایک فیصد امکان‘ہے۔

ساحل جنوب مغربی دہلی کے نجف گڑھ کے رہنے والے ہیں اور دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ کے طالبعلم ہیں۔ ان کی والدہ جیوتی نے دی ہندو کو بتایا،’وہ پہلے بھی سی جے پی کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو چکا تھا اور سوموار (20 جولائی) کو پھر سے گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ یہ ضروری ہے اور اس سے اس کی پڑھائی میں مدد ملے گی۔ وہ ہمیشہ پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔ وہ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے پڑھائی کر رہا تھا اور ساتھ ہی مسابقتی امتحانات کی تیاری بھی کر رہا تھا۔‘

ساحل کے بچپن کے دوست پرویش نے دی ہندو کو بتایا،’ساحل نے بتایا کہ گولی سیدھی اس کی آنکھ میں لگی تھی۔ ہمیں جو جانکاری ملی ہے، اس کے مطابق ان کی پتلی کا ایک اور آپریشن ہوگا، جس کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ اس کی بینائی نارمل ہوگی یا نہیں۔‘

ساحل کو پہلے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج(ایل ایچ ایم سی)لے جایا گیا تھا، جہاں سے بعد میں انہیں ایمس ریفر کر دیا گیا۔

جیوتی نے طلبہ کے خلاف مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال پر غصے اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے دی ہندو بزنس لائن سے کہا،’جو بچے صرف اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلوم کرے کہ پیلٹ گن کس نے چلائی۔‘

دی وائر اس سے قبل ایک اور زخمی شخص شیخ ارشاد منصوری کے بارے میں رپورٹ شائع کر چکا ہے، جن کا علاج اس وقت لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں چل رہا ہے۔ ان کے جسم سے بھی سرجری کے ذریعے پیلٹ جیسی چیزیں نکالی گئی تھیں۔

دی وائر نے تصدیق کی ہے کہ ارشاد کو کناٹ پلیس میں انڈر گراؤنڈ پالیکا بازار کے اوپر والے حصے میں زخمی ہوئے تھے۔ اسی مقام اور اسی وقت ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے، جس میں وہ ایسا ہتھیار استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے جو بظاہر پیلٹ گن جیسا معلوم ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک اور ویڈیو میں بھی 20 جولائی کو اسی مقام پر ایک دوسرے شخص کے جسم پر پیلٹ جیسی چوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔

ماہرین نے دی وائر کو بتایا کہ 20 جولائی کے ویڈیو اور تصویروں میں آر اے ایف اہلکاروں کے ہاتھوں میں نظر آنے والے ہتھیار 12 بور پمپ ایکشن رائفلیں ہیں، جنہیں عام طور پر پیلٹ گن کہا جاتا ہے۔

ایک پیشہ ور نشانے باز نے دی وائر کو بتایا،’اس میں ایک گولی کے بجائے عموماً کئی چھوٹے چھوٹے پیلٹ ہوتے ہیں، جو فائر ہونے پر بیرل سے نکل کر وسیع علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔‘

گزشتہ22 جولائی کو آؤٹ لک میگزین نے بھی رپورٹ کیا کہ اس کا ایک نامہ نگار بھی ایسے ہتھیار کی زد میں آیا جس کی تفصیل پیلٹ گن سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس کی چوٹیں بھی پیلٹ لگنے جیسی بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا،’واقعہ کے بعد تیار کیے گئے میڈیکل ریکارڈ میں اس کے ہاتھ پر کئی چھوٹے چھوٹے سوراخ نما زخم درج کیے گئے ہیں۔ آؤٹ لک کے ذریعے دیکھی گئی تصویروں میں کئی  ایسی چوٹیں نظر آتی ہیں جو پیلٹ لگنے جیسی معلوم ہوتی ہیں۔‘

میگزین نے چوٹوں کی تصویریں اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی ہیں۔

یہ واقعہ بھی پالیکا بازار کے قریب پیش آیا، جہاں ارشاد اور ایک دوسرے زخمی شخص کو چوٹ لگی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، صحافی بال بال بچ گیا اور اس کے سینے اور چہرے پر گولی نہیں لگی، تاہم اس کے ہاتھ میں شدید زخم آئے۔ فائر ہونے کے عین وقت پر وہ آر اے ایف اہلکار کی سمت سے مڑ گیا تھا۔

دہلی پولیس مسلسل اپنے اہلکاروں کی جانب سے 20 جولائی کو پیلٹ گن کے استعمال کے دعووں کی’فیکٹ چیک‘کرتی رہی ہے اور اس موضوع پر رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو بھی اسی طرح کے جواب دیتی رہی ہے۔

تاہم، پرامن احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال کا الزام دہلی پولیس پر نہیں بلکہ ریپڈ ایکشن فورس پر عائد کیا جا رہا ہے، جو سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف)کے ماتحت ہے اور موجودہ احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں اس کی تعیناتی کی گئی ہے۔

دی وائر نے اس معاملے پر آر اے ایف کے انسپکٹر جنرل(آئی جی)سے ردعمل طلب کیا ہے، لیکن خبر شائع ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ دوسری جانب، سی آر پی ایف کے ایک ڈی آئی جی نے دی وائر کو بتایا کہ ان سوالوں کا جواب صرف آر اے ایف کے آئی جی ہی دے سکتے ہیں۔