راہل گاندھی سمیت وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے رہنما جبراً  ہٹائے گئے

وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا  استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔

وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا  استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی کو ہٹا تی پولیس۔ (تصویر: ایکس،آئی این سی انڈیا)

نئی دہلی: طلبہ کے مسائل پر پارلیامنٹ میں بحث اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئےوزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر منگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریسی اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے زبردستی  وہاں سے ہٹا کر حراست میں لے لیا۔

دہلی پولیس نے لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بھی طاقت کا استعمال کرتے ہوئےہٹانے کی کوشش کی۔ وہیں پرینکا گاندھی اورسماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

یہ بھی ہے

دریں اثنا، کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر جاری اپنےاحتجاج میں عوام سے بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔

راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد حکومت کا  رخ نرم، پارلیامنٹ میں نیٹ پر بحث کے لیے تیار

اس سے قبل وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ بحث سے پہلے کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی، جو اس وقت دھرنے پر بیٹھے ہیں، نے اپنی مانگ بدل دی ہے۔

جتیندر سنگھ کے مطابق، شروع میں راہل گاندھی اس معاملے پر صرف بحث کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی شامل کر دیا۔

سی جےپی کا احتجاج جاری

سوموار (20 جولائی) کو ہوئے تشدد کے بعد بڑی تعداد میں مظاہرین طلبہ کی قیادت میں جاری سی جے پی کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے جنتر منتر پہنچے ہیں۔سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کے توسط سے حکومت کو سونپے گئے مطالبے پر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

اسی بیچ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے صدر شرد پوار اور پارٹی کی رکن پارلیامنٹ سپریا سولے بھی جنتر منتر پہنچے اور مظاہرے میں حصہ لیا۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال پارٹی رہنماؤں آتشی اور سوربھ بھاردواج کے ساتھ تشدد کے ایک دن بعد جنتر منتر پہنچے اور مظاہرین سے ملاقات کی۔

دریں اثنا، کیجریوال نے سوموار کوسی جے پی کے احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے چھ طلبہ کی ضمانت کرانے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا،’میں جلد  ہی 11 اورطلبہ کی رہائی بھی یقینی بناؤں گا۔ ‘

سی جے پی نے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مجوزہ دھرنا واپس لیا

سوربھ داس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا،’دہلی پولیس نے سینکڑوں پرامن مظاہرین پر وحشیانہ اور جان لیوا طاقت  کا استعمال کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا ہے۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس حراست میں لیے گئے لوگوں  سے وکیلوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی اور نہ ہی حراست میں لیے گئے لوگوں کی مکمل فہرست فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا،’اگر رات آٹھ بجے تک حراست میں لیے گئے افراد کے اس آئینی حق کا احترام نہ کیا گیا تو میں، آشوتوش رانکا اور دیپک بلیان دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن دھرنا دیں گے۔‘

اس کے بعد رات آٹھ بجے سے ٹھیک پہلے سوربھ داس نے ایک اور پوسٹ میں لکھا،’ہمارے وکیلوں نے ابھی اطلاع دی ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس لیے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مجوزہ دھرنا واپس لیا جاتا ہے۔  تمام لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی جاتی ہے۔‘

سادے کپڑوں میں لاٹھی لیے لوگوں کی موجودگی پر سوال

احتجاج کے متعدد ویڈیو میں کچھ لوگ سادہ کپڑوں میں نظر آ رہے ہیں، جن کے ہاتھوں میں پولیس جیسی لاٹھیاں نظر آرہی تھیں۔ اس پر سوشل میڈیا، خصوصی طور پر سی جے پی نے ان کی پہچان اور کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔

سی جے پی نے دہلی پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے ایکس پر لکھا،’یہ سادہ کپڑوں میں لاٹھیاں اٹھائے غنڈے کون ہیں؟ ہمیں مارنے کے لیے آپ نے کن لوگوں کو بھرتی کیا ہے؟ ہندوستان میں ایسے لوگوں کو پولیس کیوں کہا جاتا ہے؟‘

حکومت نے احتجاج میں پیلیٹ گن کے استعمال کی تردید کی

حکومت نے سوموار کو دہلی میں ہوئے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پیلیٹ گن استعمال کیے جانے کی تردید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ تصویریں اور ویڈیو سامنے آئے تھے، جن میں مظاہرین کے جسم پر پیلیٹ جیسے زخم نظر آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سی جے پی نے ترجمان وجیتا دہیا کو عہدے سے ہٹایا

اسی دوران سی جے پی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا،’ہم اپنے ترجمان وجیتا دہیا کے انتہائی غیر حساس رویے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ جب پرامن مظاہرین اور ہماری ٹیم پولیس کے وحشیانہ تشدد کا سامنا کر رہے تھے، اُس دوران ان کے ویڈیو سامنے آئے۔ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے، سنگین بے راہ روی کی عکاسی کرتا ہے اور ہماری تحریک کی اقدار اور اصولوں کے بالکلیہ خلاف ہے۔‘

پارٹی نے کہا کہ اسی تناظر میں وجیتا دہیا کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے اور انہیں تمام ذمہ داریوں سے بھی آزاد کیا جاتا ہے۔

اس دوران ہیومن رائٹس واچ نے بھی دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

راہل گاندھی اور نڈا نے آر ایم ایل اسپتال میں زخمی مظاہرین سے ملاقات کی

اس سے قبل منگل کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال پہنچ کر زخمی مظاہرین سے ملاقات کی۔

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے بھی اسپتال جا کر زخمی مظاہرین سےملاقات کی۔

وہیں، احتجاج کے دوران زخمی ہوکر آر ایم ایل اسپتال میں وینٹی لیٹر پر بھرتی خاتون کو ہوش آ گیا ہے۔ یہ جانکاری مختلف خبروں میں دی گئی ہے۔