سی جے پی تحریک: پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر

نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی میں مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتی پولیس۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سوربھ داس نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی پولیس نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی کے بال کھینچے اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک 12 سالہ بچی کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے، جبکہ 40 سے 50 دیگر مظاہرین کے سر بھی پھٹ گئے ہیں۔

وہیں، سماجوادی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ڈمپل یادو اور پارٹی کے دیگر اراکین پارلیامنٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سی جے پی کا دعویٰ: دو گھنٹے انتظار کے بعد ہوئی جے پی نڈا سے ملاقات

سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے ایکس پر بتایا کہ وہ اور پارٹی کے دوسرے ترجمان آشوتوش رانکا بی جے پی کے صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پر دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد نڈا نے تقریباً 10 منٹ تک ان سے ملاقات کی۔

داس نے لکھا،’ہم نے انہیں اپنی مطالبات کا تحریری میمورنڈم سونپا ہے۔ انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے پر اندرونی سطح پر بات کریں گے۔ فی الحال یہی عمل جاری ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔’

سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ وہ اور سوربھ داس اب بھی جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جے پی نڈا نے ان سے کچھ وقت مانگا ہے تاکہ وہ پارٹی قیادت سے درج ذیل مطالبات پر تبادلہ خیال کر سکیں؛

ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی فوراً رہائی۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ۔

نیٹ کی تیاری کر رہے خودکشی کرنے والے تمام امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ۔

رانکا نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے ڈی سی پی نے مذاکرات کا ذریعہ قائم کرنے کے لیے تنظیم سے رابطہ صرف گزشتہ رات دیر گئے کیا تھا۔

ان کے مطابق، آج صبح 6 بجے سے سنجیدگی سے بات چیت شروع ہوئی، جبکہ تقریباً 11:45 بجے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات پر اتفاق ہوا۔

تنظیم نے دہلی پولیس سے پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو فوراً بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

گراؤنڈ رپورٹ: صحافیوں کو ریکارڈنگ سے روکا گیا، ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا

دی وائر کے نمائندے وپل کمار نے موقع سے بتایا کہ پارلیامنٹ سے تقریباً 100 سے 150 میٹر کے فاصلے پر واقع پی ٹی آئی عمارت کے باہر ایک شخص کو پولیس کی بس سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا، جس کے بعد ایک پولیس افسر نے اسے بری طرح مارا پیٹا۔

ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے صحافیوں اور دیگر افراد کو اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے سے بھی روکنے کی کوشش کی۔

وپل کمار نے بتایا کہ پی ٹی آئی عمارت کے باہر پولیس نے متعدد مظاہرین کو بسوں میں بٹھا کر حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا، کئی مظاہرین کو گھسیٹا گیا اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ اس دوران ایک بار پھر لاٹھی چارج کیا گیا، جبکہ موقع پر سکیورٹی فورسز کی تعداد مسلسل بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’سنسد چلو‘مارچ میں شریک تقریباً 800 سے 1,000 مظاہرین پارلیامنٹ کے کافی قریب تک پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان پر بار بار لاٹھی چارج کیا اور انہیں پیچھے دھکیلا۔

موقع پر موجود نمائندوں کے مطابق، پارلیامنٹ کے احاطے کے قریب سکیورٹی فورسز کی تعیناتی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

پارلیامنٹ کے علاقے سے مظاہرین کو پیچھے دھکیل کر پٹیل چوک تک پہنچا دیا گیا ہے، جہاں اب وہ بڑی تعداد میں دھرنےپر بیٹھے ہیں۔

دی وائر کے نمائندوں کے مطابق، جنتر منتر پر بھاری بیریکیڈنگ اور پولیس کی بڑی نفری کی تعیناتی کے باوجود تقریباً ایک لاکھ افراد بیریکیڈز کے باہر جمع ہو چکے ہیں اور پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی’ری اسٹور اسٹیٹ ہڈ‘ (ریاست کا درجہ بحال کرو)لکھا ہوا جیکٹ پہن کر سی جے پی کے احتجاج میں شرکت کی۔