گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔

’ہم ایسا معاشرہ نہیں بنانا چاہتے جہاں ہر بات خاموشی سے برداشت کر لی جائے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پُرامن طریقے سے اپنی بات حکومت تک پہنچائیں۔ یہ حکومت بھی جھکے گی، ہمیں یقین ہے۔‘(تمام تصویریں: سونیا یادو / دی وائر)
’ہماری لڑائی صرف دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے لیے نہیں بلکہ چنی ہوئی حکومت کی جوابدہی کے لیے ہے۔‘
نئی دہلی:یہ بات دہلی کے جنتر منتر پر ہریانہ سے آئے ایک نوجوان نے کہی۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کے سوموار (20 جولائی) کو’چلو پارلیامنٹ‘مارچ میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی تصویریں اور کئی پوسٹر بھی لائے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سوموار کی صبح سے ہی جنتر منتر پر لوگوں کے ایک بڑے ہجوم کا مشاہدہ کیا گیا۔ ایک طرف طلبہ، والدین اور سول سوسائٹی کے ہزاروں افراد نظر آئے، تو دوسری جانب دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں اور افسران کی بڑی تعداد میں تعیناتی کا مشاہدہ کیا گیا ۔ اس دوران کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند رہے۔

جنتر منتر کی طرف جانے والی سڑک پر تعینات ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار۔
جنتر منتر جانے والے تمام راستوں پر دہلی پولیس نے بھاری بیریکیڈنگ کر رکھی ہے۔ مختلف مقامات پر تحریری طور پر یہ انتباہ بھی آویزاں ہےکہ’بی این ایس کی دفعہ 163 نافذ ہے‘۔ پولیس دھرنے کی جگہ پر مسلسل اس کا اعلان بھی کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں جیمر نصب کیے گئے ہیں، جس کے باعث انٹرنیٹ کی سہولت متاثر ہو گئی ہے۔

جنتر منتر پر احتجاج کے پیش نظر لگایا گیا پوسٹر۔
اس دوران پولیس نے بیریکیڈ توڑنے والے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، جنہیں بعد میں پارلیامنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن لے جانے کی اطلاع دی گئی۔ دھرنے کی جگہ سے باہر نکلنے والے راستے پر چار لیئر کی بیریکیڈنگ کی گئی تھی اور تقریباً سات فٹ اونچی بیریکیڈبھی لگائی گئی تھی، جنہیں مظاہرین نے گرا دیا۔ اسی دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ کانسٹی ٹیوشن کلب کے قریب مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے۔
اس احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی کے روہنی سے آئے نہال سنگھ نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ میں تین سے چار مرتبہ آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں آنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح پرچہ لیک ہونے کا سلسلہ روکا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ طلبہ کے لیے ذہنی دباؤ کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔

جنتر منتر کے احتجاجی مقام کے باہر تعینات دہلی پولیس کے اہلکار۔
نہال نے بتاتے ہیں،’میں تین مرتبہ نیٹ کا امتحان دے چکا ہوں۔ پہلی بار گزشتہ سال 2025 میں دیا تھا، لیکن چند نمبروں کی کمی کی وجہ سے مجھے اپنی پسند کا میڈیکل کالج نہیں مل سکا۔ پھر اس سال 3 مئی اور 21 جون کے دونوں امتحانات دیے۔ 3 مئی والا پرچہ بہت اچھا ہوا تھا، امید تھی کہ ایک سال کی محنت رنگ لائے گی، لیکن اسی دوران پرچہ لیک ہو گیا۔ جب دوبارہ امتحان دینا پڑا تو ظاہر ہے حالات بہت مشکل تھے۔ اتنے کم وقفے میں ایک ہی امتحان دو مرتبہ دینا خود ایک ذہنی صدمہ (ٹراما) ہے۔ اب میں دوبارہ کوالیفائی تو ہو گیا ہوں، مگر پھر بھی اپنی پسند کا کالج نہیں ملے گا۔ اب میں مزید وقت ضائع نہیں کر سکتا، اس لیے داخلہ تو لینا ہی پڑے گا، لیکن ہمیشہ کے لیے ملال رہے گا۔‘

جنتر منتر سے پارلیامنٹ اسٹریٹ تھانے جانے والی سڑک پر بکھرے مظاہرین کے جوتے اور چپل۔ پولیس یہاں سے انہیں پکڑ کر بسوں میں بھر رہی تھی۔
اس احتجاج میں گزشتہ کئی دنوں سے شریک کرانتی کاری یووا سنگٹھن کی کارکن اور دہلی یونیورسٹی کی طالبہ پوجا نے دی وائر کو بتایا کہ یہ عوامی ہجوم اور طلبہ کا غصہ حکومت کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت پہلے ہی جوابدہی طے کر دیتی تو بھوک ہڑتال اور احتجاج کی نوبت ہی نہ آتی۔
پوجا کے مطابق،’نوجوان ہی حکومت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔ ہم بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کے ماننے والے ہیں، جنہوں نے اپنے وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ ہم گاندھی کے بھی ماننے والے ہیں، جنہوں نے ہمیں ستیہ گرہ کا راستہ دکھایا۔ آج ہمارے احتجاج میں گاندھی بھی ہیں اور بھگت سنگھ بھی، اور ان کے سامنے حکومت کو جھکنا ہی پڑے گا۔‘

جنتر منتر کے باہر بڑی تعداد میں جمع ہوئے مظاہرین۔
اپنے دو بچوں کے ساتھ غازی آباد سے جنتر منتر پہنچنے والی آستھا بتاتی ہیں کہ وہ یہاں نہ کسی کی مخالفت کرنے آئی ہیں اور نہ کسی کی حمایت کرنے، وہ صرف اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آئی ہیں، جو آنے والے برسوں میں نیٹ اور جے ای ای جیسے امتحانات میں بیٹھنے والے ہیں۔
آستھا کہتی ہیں، ’میری بیٹی نویں جماعت میں ہے، جبکہ میرا بیٹا اس سال بارہویں میں پہنچا ہے۔ دونوں آئندہ برسوں میں مسابقتی امتحانات دیں گے، جس کی وجہ سے ہم سب ابھی سے ذہنی دباؤ میں ہیں۔ اسی لیے ہم اس ملک کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے یہاں آئے ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ پلیز ایسی ٹھوس کارروائی کیجیے جس سے ہم سب کو یہ یقین ہو جائے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔‘
جنتر منتر پر موجود ایک خاتون پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ علی الصبح تین بجے سے یہاں تعینات ہیں اور انہیں صرف اتنی ہدایت دی گئی ہے کہ خواتین مظاہرین کو سنبھالنا ہے اور ان کے مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔
معلوم ہو کہ حال ہی میں مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کی خبروں کے بعد تعلیمی نظام کی ناکامیوں پر حکومت کی جوابدہی یقینی بنانے کے مطالبے کے ساتھ سی جے پی گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔
اس دوران طلبہ کارکنوں اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی دیکھی گئی، جس کے حق میں ملک اور بیرون ملک سے یکجہتی کے متعدد پیغامات سامنے آئے۔

راجیو چوک سے جنتر منتر جانے والی سڑک پر مظاہرین کا ہجوم۔
اس احتجاج میں شریک کئی نوجوانوں نے کہا،’ہم ایسا معاشرہ نہیں بننا چاہتے جہاں ہر چیز خاموشی سے برداشت کر لی جائے۔ ہندوستان میں پُرامن احتجاج کی ایک طویل روایت رہی ہے، اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اکثر ایسے احتجاج کے سامنے جھکتے دیکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پُرامن طریقے سے اپنی بات حکومت تک پہنچائیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ حکومت بھی جھکے گی۔‘

جنتر منتر کے باہر نوجوانوں کا جم غفیر۔
قابل ذکر ہے کہ صبح نو بجے پارلیامنٹ مارچ شروع ہونا تھا، لیکن پولیس نے جنتر منتر پر بیریکیڈ لگا کر اسے روکنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود بیریکیڈ کے باہر بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے، جو’جئے بھیم‘ اور ’انقلاب‘کے نعروں کے ساتھ مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان نوجوانوں نے مارچ کا آغاز کیا، جس کے بعد بیریکیڈ کے اندر موجود مظاہرین نے بیریکیڈ گرا دیے اور آگے بڑھے۔

نئی دہلی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر ہاتھوں میں ترنگا اور بھگت سنگھ کی تصویر اٹھائے نعرے لگاتے مظاہرین۔
غور طلب ہے کہ اس مارچ میں کئی مظاہرین صرف احتجاجی مقام سے ہی نہیں بلکہ مختلف دیگر مقامات سے بھی شامل ہوئے۔ مثال کے طور پر، متعدد افراد پٹیل چوک، سنچار بھون اور سینٹرل سکریٹریٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب سے بھی جلوس میں شامل ہوئے۔ مجموعی طور پر مظاہرین کا کہنا تھاکہ،’اگر آج وہ رک گئے تو ان کا مستقبل بھی رک جائے گا۔‘
اس دوران پولیس حراست میں لی گئی ایک طالبہ، جنہیں پولیس نے ایک بس میں بٹھایا تھا، نے کہا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی’حالیہ ناکامیوں‘کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ اگرچہ استعفیٰ شاید کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن اس سے جوابدہی ضرور طے ہوگی، اور ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔ ویسے بھی جب بھی نوجوانوں نے اپنی آواز بلند کی ہے، حکومت نے دباؤ اور سختی کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن ہر بار نوجوانوں کی طاقت ہی کامیاب ہوئی ہے، اور اس بار بھی جیت ہماری ہی ہوگی۔‘

پولیس کی حراست میں لی گئی ایک طالبہ۔
بنارس سے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ بی ایچ یومیں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ طلبہ کے مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے دہلی آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک فرد، تنظیم یا رہنما کی نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں طلبہ کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ جمہوریت میں حکومت سے جواب طلب کرنا ہر شہری کا حق ہے، اور یہ حق کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔
بتادیں کہ سوموار کوابھیجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے تین اراکین-نہا، آمین اور منیش-نے بعض اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور فنکاروں کی اپیل پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ آئسا کے یہ اراکین گزشتہ 23 دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔