نوجوانوں کی تحریک پر پہلی بار بولے پی ایم؛ جواب میں سی جے پی اور راہل گاندھی نے مانگا دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ

سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک نیٹ پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں گڑبڑی کو لے کر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کے درمیان پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے۔ تاہم، اس کے جواب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور سی جے پی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگا ہے۔

سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک نیٹ پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں گڑبڑی کو لے کر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کے درمیان پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے۔ تاہم، اس کے جواب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور سی جے پی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی:گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج اور 20 جولائی کو ’سنسد مارچ‘میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے بعد آخرکار وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی بار پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے بیان دیا ہے۔

انہوں نے جمعرات (23 جولائی) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیپر لیک کرنے والوں کو سزا دلانے کے لیے حکومت نے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا یہ ایک اہم قدم ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔

وزیراعظم کے اس بیان پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا،’آپ نے ہی ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے نہ صرف ہمارے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے اور اس کو برباد کرنے کی اجازت دی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی-اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔‘

انہوں نے طلبہ کے تین مطالبات بھی پیش کیے، جس میں دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا،طلبہ سے معافی مانگنا اورطلبہ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بات شامل تھی۔

وزیراعظم کے بیان پر جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کر رہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا،’دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘

سی جے پی نے کہا،’وزیراعظم میں یہ ہمت نہیں کہ وہ پارلیامنٹ میں کھڑے ہو کر اس بڑےمسئلے پر بحث میں حصہ لیں، جیسا کہ ماضی کے تمام وزرائے اعظم نے وقت کی ضرورت کے مطابق کیا ہے۔‘

پارٹی نے مزید کہا،’آج صبح انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ انہیں ملک بھر کے طلبہ کے مسائل کی فکر ہے، لیکن حقیقت میں یہ پوسٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دباؤ میں ہیں اور پوری طرح سے پریشان ہیں۔ ووٹ کی چوری،سیٹ چوری، چندہ چوری، امتحانی پرچوں کی چوری… یہ فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔‘

وہیں، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اس معاملے پر وزیر تعلیم پر طنز کیا۔

کانگریس نے کہا کہ صرف دھرمیندر پردھان کی کرسی بچانے کے لیے پوری بی جے پی ان کے دفاع میں اتر آئی ہے۔ جے پی نڈا کے بعد اب نریندر مودی بھی یہ سمجھانے آ گئے ہیں کہ طلبہ اور اپوزیشن کو کیا قبول کرنا چاہیے۔

کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا،’20جولائی کی صبح تقریباً آٹھ گھنٹے کی نیند کے بعد جب وزیراعظم نریندر مودی پارلیامنٹ پہنچے، اس سے پہلے پارلیامنٹ جانے والی سڑکوں پر اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ بے رحمی کی گئی۔ ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، ان کے سر پھوڑے گئے، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، پیلٹ گن  چلائی گئی، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، اور خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔‘

انہوں نے مزید لکھا،’ان سب کے بعد ہی ’مہاراجہ نریندر دامودر داس مودی‘بیدار ہوئے اور پیپر لیک کے ملزمان کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور فوری سزا دلانے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ اس ملک کے نوجوان وزیراعظم مودی کی نمائشی ہمدردی نہیں بلکہ انصاف، جوابدہی اور اپنے مطالبات کو پورا کیے جانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ اس کی شروعات دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے ہو سکتی ہے۔‘

کئی میٹرو اسٹیشن بند

دریں اثنا،دہلی میٹرو نے بتایا ہے کہ جمعرات کو بھی اس کے کئی میٹرو اسٹیشن بند رہیں گے۔

دہلی میٹرو نے ایکس پر اطلاع دیتے ہوئے لکھا،’صبح 7:30 بجے سے اگلے حکم تک درج ذیل میٹرو اسٹیشن بند رہیں گے۔ تاہم، راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور سینٹرل سکریٹریٹ اسٹیشنوں پر انٹرچینج (لائن تبدیل کرنے) کی سہولت دستیاب رہے گی۔‘

اس دوران جن میٹرو اسٹیشنوں کو بند کیا گیا ہے ان میں لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک، رام کرشن آشرم مارگ، بارہ کھمبا روڈ، سپریم کورٹ، سیوا تیرتھ، جن پتھ، منڈی ہاؤس، سینٹرل سکریٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، اندرپرستھ، خان مارکیٹ، زور باغ اور شیواجی اسٹیڈیم شامل ہیں۔

حالاں کہ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور سینٹرل سکریٹریٹ اسٹیشنوں پر صرف انٹرچینج (لائن تبدیل کرنے) کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ان اسٹیشنوں پر مسافر نہ داخل ہو سکیں گے اور نہ ہی باہر نکل سکیں گے۔

سی جے پی نے ان اسٹیشنوں کو بندکرنےکی اطلاع پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس پر لکھا،’اس کا کیا مطلب ہے؟ مودی جی، سیدھے دھرمیندر پردھان کو ہٹائیے اور معاملہ ختم کیجیے۔‘

کاکروچ جنتا پارٹی نے مزید لکھا،’میٹرو اسٹیشنوں کو روز روز بند کرنے کا یہ ڈراما کیوں؟ کچھ بھی کر و، لوگ جنتر منتر آکررہیں گے۔‘

وہیں، منگل کی رات دیر گئے دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ داس نے کہا،’میں نے آج سونم وانگچک سے کئی بار بات کی۔ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں اور احتجاج کو پُرامن طریقے سے جاری رکھیں۔ اس ملک میں پہلے بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران حکمران جماعت کی جانب سے شرپسند عناصر کو داخل کیا گیا اور پھر الزام احتجاج کرنے والوں پر ڈال دیا گیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

مرکزی وزیر جے پی نڈا کی پریس کانفرنس پر انہوں نے کہا،’جے پی نڈا کو شرم آنی چاہیے۔ لوگ یہاں 30 دن سے زیادہ عرصے سے بیٹھے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، انہیں جانا ہی ہوگا۔ تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔‘

اس سے پہلے مرکزی وزیر جے پی نڈا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا،’ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ پارلیامنٹ ہی وہ مناسب جگہ ہے جہاں بحث کی جا سکتی ہے۔ ہمیں مضبوط پالیسی لانی چاہیے کیونکہ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ یہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے۔‘

اس دوران جے پی نڈا نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا، ’اگر میں جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کے امتحان میں ہونے والے پیپر لیک کی بات کروں، جہاں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی حکومت ہے۔ اسی طرح ہماچل پردیش میں اسکول اگزامینیشن بورڈ کا پرچہ لیک ہوا، وہاں بھی کانگریس کی حکومت ہے۔ جھارکھنڈ میں جے اے سی کے ہندی اور سائنس کے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، جہاں کانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی حکومت ہے۔‘

تاہم جموں و کشمیر میں پیپر لیک کے معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ مذکورہ واقعہ سال 2022 کا ہے، جب وہاں مرکز کے زیر انتظام حکومت تھی۔

عمر عبداللہ کا جواب

عمر عبداللہ نے کہا،’جے پی نڈا جی، آپ نے جموں و کشمیر میں ایس ایس بی بھرتی امتحان کے پیپر لیک کا ذکر کر کے ایک صحیح مسئلہ اٹھایا، لیکن اس کی تاریخ غلط بیان کی۔ یہ معاملہ 2022 کا تھا اور اس وقت جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حکومت نہیں تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا،’اس وقت انتظامیہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں چل رہی تھی۔ پھر بھی اس ناکامی کی یاد دہانی کرانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے کئی اہم ریمارکس دیے تھے اور اہم احکامات بھی جاری کیے تھے۔ لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی اور اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔‘

غور طلب ہے کہ نیٹ پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر حکومت کو سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے خلاف ہزاروں نوجوان ملک کے مختلف حصوں سے جنتر منتر پہنچ کر احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، میزورم اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں بھی اس احتجاج  کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔