سوموار کو ’سنسد مارچ‘ کے دوران زخمی ہونے والے 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری کی لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں سرجری ہوئی ہے۔ ان کے دوست نے دعویٰ کیا کہ انہیں ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار کی جانب سے چلائے گئے پیلٹ گن جیسے ہتھیار سے چوٹ لگی۔ تاہم، دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

لیڈی ہارڈنگ اسپتال پہنچنے کے بعد شیخ ارشاد منصوری کی لی گئی دو سیلفی۔ پہلی تصویر سوموار کو اسپتال پہنچنے کے فوراً بعد (بائیں) اور دوسری چند گھنٹے بعد (دائیں)۔
نئی دہلی:سوموار (20 جولائی) کو ’سنسدمارچ‘کے دوران پولیس کارروائی میں شدیدطور پر زخمی ہونے والے 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری کا منگل کو لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں آپریشن کیا گیا۔ ابتدائی حالات سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں پیلٹ گن یا اس سے ملتے جلتے کسی ہتھیار سے چوٹ لگی ہو سکتی ہے۔
ارشاد کے ایک دوست، جو انہیں اسکول کے زمانے سے جانتے ہیں اور مسلسل اسپتال میں ان کے ساتھ موجود ہیں، نے دی وائر کو بتایا کہ ڈاکٹر اس بارے میں بہت محدود معلومات دے رہے ہیں کہ ارشاد کی چوٹیں کس وجہ سے آئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اب تک انہیں ارشاد کی چوٹوں یا صحت کی حالت سے متعلق کوئی تحریری میڈیکل دستاویز فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔
منگل کو ارشاد کا تقریباً تین گھنٹے تک آپریشن چلا۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا کہ جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کا یہ ان کا پہلا دن تھا۔ وہ گروگرام میں رہتے اور وہیں کام کرتے ہیں۔
اسپتال کے بستر سے لی گئی ایک سیلفی میں ان کے چہرے اور گردن پر پیلٹ جیسے متعدد چھوٹے زخموں کے نشان ر نظر آرہے ہیں۔
ان کے دوست نے دی وائر کو بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان میں سے دو چوٹیں-ایک آنکھ کے نیچے اور دوسرا گلے پر-انتہائی سنگین تھیں۔
دی وائر کی موجودگی میں اسپتال کے عملے نے ارشاد کے دوست سے ایک کاغذ پر دستخط کروائے، جس میں لکھاتھا کہ انہیں اس بات کی جانکاری دے دی گئی ہے کہ آپریشن کے دوران ارشاد کی بینائی جانے کا خدشہ ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے لیے ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
ارشاد کے دوست نے بتایا کہ جب وہ زخمی ہوئے تو دونوں کناٹ پلیس کے علاقے میں موجود تھے۔ ان کے مطابق، تقریباً 40 سے 50 میٹر کے فاصلے سے ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار نے یہ ہتھیار چلایا تھا، جس سے ارشاد کو چوٹ لگی۔
ارشاد اور ان کے دوست نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے وہاں کسی اور شخص کو اسی طرح کے ہتھیار سے زخمی ہوتے نہیں دیکھا۔آر اے ایف، سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف)کی ایک یونٹ ہے، جسے موجودہ احتجاج کے دوران اس کی تعیناتی کی گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ منگل کو مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے لیڈی ہارڈنگ اسپتال جا کر زخمی مظاہرین سے ملاقات کی تھی، ان میں ارشاد بھی شامل تھے۔
ان ملاقات کا ایک ویڈیو اے این آئی سمیت کئی خبر رساں ایجنسیوں نے شیئر کیا، تاہم اس میں آڈیو نہیں تھا۔ ویڈیو اس انداز میں فلمایا گیا ہے کہ اس میں ارشاد کی چوٹیں واضح طور پر دکھائی نہیں دیتیں۔
اس ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر ارشاد کے دوست نے دی وائر کو بتایا کہ جے پی نڈا نے ارشاد کو پھلوں کی ایک ٹوکری پیش کی اور ان سے کہا،’سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘
دوست کے مطابق، نڈا نے ارشاد سے یہ بھی پوچھا کہ انہیں چوٹ کیسے لگی۔ اس پر ارشاد نے بتایا کہ وہ سوموار کے احتجاج میں شریک تھے اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو نشانہ بنانے کے دوران زخمی ہوئے۔
ارشاد نے نڈا سے یہ بھی کہا کہ وہ اس تحریک میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ وہ تعلیمی نظام اور ملک کے نوجوانوں سے متعلق مسائل پر مرکزی حکومت کی کارکردگی اور ناکامیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔
البتہ، خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری ویڈیو میں اس بات چیت کا کوئی آڈیوسنائی نہیں دیتا۔ ویڈیو میں صرف اتنا دکھائی دیتا ہے کہ نڈا ارشاد کو تسلی دے رہے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔
دی وائر نے بدھ کی صبح ارشاد سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ سرجری کے بعد انہیں کافی درد ہو رہا ہے۔ ارشاد نے کہا کہ آپریشن کے دوران ان کے جسم میں دھنسنے والی زیادہ تر بیرونی اشیاء نکال دی گئی ہیں۔
بدھ کو انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا،’مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے اور آگے کیا ہوگا۔ لیکن میری آواز نہیں بدلے گی۔ میرا ملک مجھ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔‘
قابل ذکر ہے کہ اس احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات پہلی بار سوموار کو سامنے آئے تھے۔ کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)نے بھی ارشاد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔ تاہم، دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا۔
نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس(ڈی سی پی)نے ایکس پر لکھا،’یہ دعویٰ کہ پولیس پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کر رہی ہے، سراسر جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ مواد شیئر یا پھیلانے سے گریز کریں۔ کسی بھی معلومات کو پوسٹ یا فارورڈ کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔‘
بدھ کی صبح بھی دہلی پولیس نے اپنے اس دعوےکو دہرایا۔
تاہم، پیلٹ گن کے استعمال کا الزام دہلی پولیس پر نہیں بلکہ ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف)کے جوانوں پر لگایا گیا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔