سنسد مارچ کے دوران آر اے ایف جوان نے پیلٹ گن سے 7 راؤنڈ فائر کیے تھے، 5 مظاہرین کو لگے: جانچ میں انکشاف

گزشتہ20جولائی کو سنسد مارچ کے دوران آر اے ایف کے ایک جوان نے پیلٹ گن سے سات راؤنڈ فائر کیے تھے، جن میں سے پانچ مظاہرین کو لگے۔ یہ بات سی آر پی ایف کی شروعاتی جانچ میں سامنے آئی ہے۔ اندرونی جائزے میں ہجوم کو قابو کرنے کے طریقے پر بھی سنگین سوال اٹھائے گئے ہیں۔

گزشتہ20جولائی کو سنسد مارچ کے دوران آر اے ایف کے ایک جوان نے پیلٹ گن سے سات راؤنڈ فائر کیے تھے، جن میں سے پانچ مظاہرین کو لگے۔ یہ بات سی آر پی ایف کی شروعاتی جانچ میں سامنے آئی ہے۔ اندرونی جائزے میں ہجوم کو قابو کرنے کے طریقے پر بھی سنگین سوال اٹھائے گئے ہیں۔

لیڈی ہارڈنگ اسپتال پہنچنے کے بعد شیخ ارشاد منصوری کی لی گئی دو سیلفی۔ پہلی تصویر سوموار کو اسپتال پہنچنے کے فوراً بعد (بائیں) اور دوسری چند گھنٹے بعد (دائیں)۔

نئی دہلی: سنسد مارچ کے دوران 20 جولائی کو مظاہرین پرکی گئی کارروائی کے حوالے سے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی شروعاتی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے ایک جوان نے اپنی پیلٹ گن سے کم از کم سات راؤنڈ فائر کیے تھے۔ ان میں سے پانچ پیلٹ مظاہرین کو لگے، جبکہ دو زمین پر گرے۔ یہ جانکاری معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے انڈین ایکسپریس نے دی ہے۔

اس سے قبل بھی انڈین ایکسپریس نے خبر دی تھی کہ سی آر پی ایف نے اس بات کی جانچ شروع کی ہے کہ کیا سنسد مارچ کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آر اے ایف اہلکاروں نے پیلٹ گن کا استعمال کیا تھا۔

گزشتہ20جولائی کے احتجاج کے بعد کم از کم تین لوگوں کا اسپتالوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے علاج کیا گیا۔ ان میں گروگرام میں کام کرنے والے 25 سالہ ارشاد شیخ، دہلی یونیورسٹی کے 19 سالہ طالبعلم ساحل  اور آؤٹ لک میگزین کے 28 سالہ صحافی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، آر اے ایف اہلکاروں کی ڈیوٹی لاگ بک اور اندراجات کی جانچ کے دوران پتہ چلاا کہ کناٹ پلیس علاقے میں تعینات ایک جواننے سات پیلٹ راؤنڈ فائر کیے تھے۔ ان میں سے پانچ مظاہرین کو لگے، جبکہ دو زمین پر جا گرے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پتھراؤ شروع کر دیا تھا۔

سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل گیانندر پرتاپ سنگھ نے اس معاملے پر انڈین ایکسپریس سے کہا کہ چونکہ احتجاج اب ختم ہو چکا ہے اور مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں، اس لیے فورس ہیڈکوارٹر ہر بڑے آپریشن کی طرح اس کارروائی کا پیشہ ورانہ انداز میں جائزہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی ہیڈکوارٹر کا موقف سامنے رکھا جائے گا۔

اس معاملے میں آر اے ایف کی انسپکٹر جنرل سیما دھندھیا اور سی آر پی ایف کے ترجمان سے ردعمل طلب کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

دریں اثنا، انڈین ایکسپریس نے اتوار کو ایک اور رپورٹ میں بتایا تھا کہ آر اے ایف کی آئی جی سیما دھندھیا نے اپنے افسران سے کہا ہے کہ 20 جولائی کے مارچ کے دوران ہجوم کو قابو کرنے کے لیے اپنایا گیا ’فورس گریڈیئنٹ‘ مقررہ معیاروں اور آر اے ایف کی تربیت کے مطابق نہیں تھا۔ یہ تبصرہ اس اندرونی جائزے کے بعد سامنے آیا جس میں کارروائی کے دوران کئی سنگین آپریشنل خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

پولیسنگ کی اصطلاح میں فورس گریڈیئنٹ سے مراد صورتحال اور مزاحمت کی سطح کے مطابق طاقت کے استعمال کی مختلف درجہ بندیاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق، سیما دھندھیا نے 22 جولائی کو دہلی میں تعینات کمپنی کمانڈروں اور کمانڈنٹس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ اس میں جنتر منتر پر جاری دھرنے اور ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران آر اے ایف کے رول، تعیناتی اور کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مستقبل میں امن و امان سے متعلق ڈیوٹیوں کے لیے کئی اصلاحی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

افسران کو ہدایت دی گئی کہ طاقت کا استعمال صرف اتنی حد تک کیا جائے جتنی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے ضروری ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ طاقت کا استعمال غیر جانبدار، متوازن، انصاف پسندی اور حساس طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ کسی بھی طرح  کا طاقت استعمال کرنے سے پہلے ضروری وارننگ دی جائے اور حالات کے مطابق مرحلہ وار ہجوم کو قابو کرنے کا طریقہ اپنایا جائے۔ اس میں پہلے لاٹھی چارج، پھر آنسو گیس اور اس کے بعد ہی دیگر منظور شدہ طریقوں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔