گزشتہ20جولائی کو نوجوانوں کے ’سنسدچلو‘مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق تمام خبروں کے درمیان راہل گاندھی نے جمعہ کو ساحل نامی ایک نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو دہلی میں پرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے 19 سالہ ساحل کے چہرے پر پیلٹ گن سے حملہ کیا تھا ۔

راہل گاندھی میڈیا کے سامنے ساحل کے زخم دکھاتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: 20 جولائی کو نوجوانوں کے’سنسد چلو‘مارچ کے دوران پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے بعد کچھ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کے الزام سامنے آئے ہیں۔
اس سلسلے میں جمعہ (24 جولائی) کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ساحل نامی نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے 19 سالہ ساحل کے چہرے پر دہلی پولیس نے پیلٹ گن سے حملہ کیا۔
راہل گاندھی نےبتایا،’ساحل دہلی یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، لیکن اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پارٹ ٹائم کار بھی چلاتے ہیں۔ وہ خود 2025 میں ایس ایس سی دہلی کانسٹبل بھرتی امتحان کے پیپرلیک کے متاثرین میں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ہم ساحل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ہر اس طالبعلم کے ساتھ ہیں جو جوابدہی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مودی جی، اپنے اس گناہ کے لیے ملک کے نوجوانوں سے معافی مانگیے، اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کیجیے اور دھرمیندر پردھان کو فوراً برخاست کیجیے۔‘

تصویر: پی ٹی آئی
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی کئی میڈیا رپورٹس میں پیلٹ گن جیسے ہتھیار کے استعمال کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، جن کی دہلی پولیس نے واضح طور پر تردید کی ہے۔
اس سے پہلے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سوربھ داس نے 20 جولائی کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک زخمی شخص کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا،’دہلی پولیس کی غنڈہ گردی! پرامن مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا۔‘
اس پر ڈی سی پی (نئی دہلی) نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا،’پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس فورس کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق خبریں مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیر مصدقہ مواد شیئر یا نشر نہ کریں۔ کسی بھی معلومات یا مواد کو پوسٹ یا فارورڈ کرنے سے پہلے اسے سرکاری ذرائع سے ضرور تصدیق کر لیں۔‘
FACT CHECK
Claims stating that Delhi Police forces used pellet guns against peaceful protesters yesterday are completely false and misleading.Delhi Police neither possess pellet guns nor do they use them in the ongoing protest.The public is requested not to share or…
— Delhi Police (@DelhiPolice) July 22, 2026
تاہم اب میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ گزشتہ سوموار کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا تھا، اور دہلی کے اسپتالوں میں کم از کم تین ایسے افراد زیر علاج ہیں جن کے زخم پیلٹ گن سے لگے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، سی آر پی ایف نے یہ معلوم کرنے کے لیے جانچ کا حکم دیا ہے کہ 20 جولائی کو کیا واقعات پیش آئے تھے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا اس کی ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف )کے اہلکاروں نے مظاہرین پر پیلٹ گن استعمال کی تھی ؟
معلوم ہو کہ ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف)، سی آر پی ایف کی ایک اسپیشل یونٹ ہے، جسے 1992 میں فسادات سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلیٹ گن کے استعمال سے واضح طور پر انکار کیا ہے، تاہم پیلٹ گن اور شاک بیٹن ریپڈ ایکشن فورس کے سازوسامان کا حصہ ہیں۔ سی آر پی ایف کی اس یونٹ کے اہلکار 20 جولائی کو پولیس کے ساتھ تعینات تھے، اور اس وقت بھی جنتر منتر پر ان کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔
گزشتہ 20 جولائی کو ہوئے احتجاج اور سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے بعد پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے تین افراد کے بارے میں جانکاری سامنے آئی ہے۔
دی وائر نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دہلی کے ایک اسپتال میں بھری 25 سالہ ارشاد شیخ گڑگاؤں میں کام کرتے ہیں، وہیں 19 سالہ ساحل دہلی یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، جنہیں راہل گاندھی نے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ تیسرا زخمی شخص 28 سالہ صحافی ہے، جو آؤٹ لک میگزین کے ساتھ کام کرتا ہے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، سوموار کو پالیکا بازار کے قریب ارشاد کو آر اے ایف کے ایک افسر نے نشانہ بنایا تھا۔ ان کے دوست نے بتایا کہ ان کے چہرے اور پورے جسم پر تقریباً 30 سے 40 زخم آئے ہیں۔ ان میں سے چار زخم، جن میں گردن پر لگنے والا زخم بھی شامل ہے، کافی گہرے تھے، جس کی وجہ سے ان کی سرجری کرنا پڑی۔
انڈین ایکسپریس نے بتایا کہ ساحل کو ایمس ٹراما سینٹر میں داخل کیا گیا تھا، جہاں منگل کو ان کی سرجری کی گئی۔
ایمس کے ایک سینئر افسر نے اخبار کو بتایا کہ ساحل کے جسم کے دائیں حصے پر’پیلٹ سے لگنے والے زخم‘ہیں۔ افسر نے کہا،’مریض کی حالت اس وقت مستحکم ہے اور انہیں درد کم کرنے کی دوائیں دی جا رہی ہیں۔ جہاں تک ان کی بینائی متاثر ہونے کا تعلق ہے، اس کا علاج جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ انہیں ہر ممکن بہتر علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔‘
وہیں، پیلٹ گن حملے میں زخمی ہونے والے تیسرے شخص آؤٹ لک کے صحافی ہیں۔ صفدر جنگ اسپتال کی 22 جولائی کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر پیلٹ گن سے ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دائیں ہاتھ، سینے اور کمر پر چھوٹے چھوٹے زخم ہیں، اور ڈاکٹروں نے ان زخموں کو’پیلٹ سے لگنے والے زخموں سے مشابہ‘قرار دیا ہے۔
دی ہندو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 20 جولائی کو پارلیامنٹ کی جانب مارچ کے دوران نہتے مظاہرین پر ریپڈ ایکشن فورس کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق اخبار کی رپورٹ شائع ہونے کے دو دن بعد، سی آر پی ایف کے ایک افسر نے کہا کہ وہ اس معاملے میں’میڈیا رپورٹس کی تصدیق‘کر رہے ہیں۔
افسر نے کہا کہ ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور حقائق کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
اخبار کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے ایکس پر لکھا کہ طلبہ کے چہروں پر پیلٹ گن سے حملے کے چار دن بعد بھی آر اے ایف صرف’میڈیا رپورٹس کی تصدیق‘کر رہی ہے۔ یہ شرمناک ہے!
Even after 4 days of firing pellet guns at students’ faces, RAF is “verifying media reports”. Shame!
There has been no press conference by the home minister or police commissioner disclosing the number of people injured, types of injuries & details of FIRs registered. Govt… https://t.co/OG16959b0G pic.twitter.com/mfRzifnWyN— Anjali Bhardwaj (@AnjaliB_) July 24, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر نہ وزیر داخلہ اور نہ ہی پولیس کمشنر کی جانب سے کوئی پریس کانفرنس کی گئی، جس میں زخمی لوگوں کی تعداد، زخموں کی نوعیت اور درج کی گئی ایف آئی آر کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہوں۔ حکومت ہرقدم پر شفافیت اور جوابدہی سے بچ رہی ہے۔
FACT CHECK