دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں جاری نوجوانوں کی تحریک کے دباؤ کے درمیان وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات دیر گئے پہلی بار اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ دو ماہ میں پیپر لیک کوروکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔اس پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پی ایم پر طلبہ کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی
نئی دہلی: دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جاری طلبہ تحریک اور احتجاجی مظاہروں کے دباؤ میں جمعرات (23 جولائی) کو دیر رات وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کیا۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں وزیر اعظم نے کہا کہ پیپرلیک کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے اور ان کی حکومت نے گزشتہ دو ماہ میں اسے روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً آدھی رات کو جاری کیا گیا یہ ویڈیو وزیر اعظم کے دن میں دیے گئے اس پہلے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے نوجوانوں کے مفادات اور ان کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور پیپر لیک کے مجرموں کو سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
تاہم، طلبہ مظاہرین اور اپوزیشن اب بھی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر قائم ہیں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں مجوزہ بل کا ڈرافٹ مل چکا ہے، جس میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور سخت سزاؤں کی شقیں شامل ہیں۔ اس پر جمعہ کو کابینہ میں غور کیا جائے گا اور آئندہ ہفتے اسے پارلیامنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
حالاں کہ ،وزیر اعظم نے ایک ہی دن میں دو بیانات دیے، لیکن ان میں سے کسی میں بھی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے بڑھتے ہوئے استعفیٰ کے مطالبے کا ذکر نہیں کیا، جسے احتجاجی طلبہ اور اپوزیشن مسلسل اٹھا رہے ہیں۔
معلوم ہوکہ سوموار (20 جولائی) کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘(سی جے پی) کے’سنسد چلو‘مارچ کے دوران دہلی پولیس کی سخت کارروائی کے باوجود دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اب یہ طلبہ تحریک ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ چکی ہے اور کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
پی ایم نے کیا کہا؟
جمعرات کی رات اپنے ویڈیو بیان میں مودی نے کہا،’میں جانتا ہوں کہ پیپر لیک کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اسی لیے اس واقعہ کے بعد حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ گناہ گاروں کوپکڑا ہے اور آج وہ جیل میں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹ-یو جی امتحان منسوخ ہونے کے بعد حکومت نے گزشتہ ماہ’کم سے کم وقت‘میں دوبارہ امتحان منعقد کرایا، اور صرف پانچ چھ دن پہلے، یعنی 19 تاریخ کو اس کے نتائج بھی جاری کر دیے گئے۔ ملک بھر سے کامیاب طلبہ کی خوشی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
More strict actions against paper leaks to come in tomorrow’s Cabinet! pic.twitter.com/NRysBukk5U
— Narendra Modi (@narendramodi) July 23, 2026
وزیر اعظم نے آگے بتایاکہ حکومت اب بھی مطمئن نہیں ہے، اسی لیے انہوں نے پیپر لیک کے معاملوں کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے کہا،’آج محکموں نے دن رات کام کیا اور رات گئے مجھے ایک ڈرافت سونپا۔ اس میں فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں کی شقیں شامل ہیں، جن پر کل (جمعہ) کابینہ میں غور کیا جائے گا۔ کابینہ کے ساتھیوں کی تجاویز کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔
پی ایم نے کہا کہ جب سوموار کو پارلیامنٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگا تو حکومت اس بل کو جلد از جلد منظور کرانے کی کوشش کرے گی، تاکہ پیپر لیک جیسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو فوری اور سخت ترین سزا دی جا سکے۔
افسران کے تبادلے اور تقرریاں
جمعرات کو ہی کابینہ کی تقرری کمیٹی (اے سی سی)نے کئی اہم وزارتوں میں سکریٹری سطح کی تقرریوں، تبادلوں اور عہدے پر ترقی کا اعلان کیا، جن میں وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری کا عہدہ بھی شامل ہے۔
راجستھان کیڈر کے 1994 بیچ کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کا نیا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جہاں انہوں نے ونیت جوشی کی جگہ لی ہے۔ گنگوار ابھی محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کے سربراہ ہیں، وہیں ونیت جوشی اب وزارت پنچایتی راج کے نئے سکریٹری ہوں گے۔
تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ اس تبادلے کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا اس کے ذریعے طلبہ میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس تحریک کے دوران کچھ تبدیلی کی گئی ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔ کیونکہ وینیت جوشی گزشتہ کچھ عرصے سے شعبۂ تعلیم میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ سی بی ایس ای کے چیئرمین، این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل، یو جی سی کے ایگزیکٹو چیئرمین اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری رہ چکے ہیں۔
تاہم گنگوار، جو اس سے پہلے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کے سکریٹری تھے، ان کی شعبہ تعلیم میں مہارت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ اسی ماہ کے آغاز میں مودی حکومت نے مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادوکے چاروں اہم معاونین کا تبادلہ کر دیا تھا، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اچانک ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ صرف افسران کے تبادلوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح کی بات چیت کا آغاز صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے ہونا چاہیے۔
گزشتہ چند دنوں میں، خصوصی طور پر سوموار کو دہلی پولیس کی مبینہ بربریت کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ دہلی پولیس براہ راست ان کے ماتحت کام کرتی ہے۔ بعض حلقوں میں وزیر اعظم مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ایک ہی دن میں وزیر اعظم مودی کے دو بیان اور سرکاری افسران کے تبادلوں کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف سڑکوں پر احتجاج جاری ہے اور دوسری طرف اپوزیشن پارلیامنٹ کے اندر اور باہر حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے غیر معمولی دھرنے کے دو روز بعد، کانگریس رہنما راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں کے تقریباً 100 ارکان پارلیامنٹ جمعرات کی شام دیر گئے تیس جنوری مارگ پر واقع گاندھی اسمرتی پہنچے۔ وہاں انہوں نے نیٹ پیپر لیک کے بعد جان گنوانے والے طلبہ اور احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبہ کے لیے دعا کی۔
اس پوری سرگرمی کا مقصد حکومت کو یہ یاد دلانا تھا کہ ملک کی بنیاد عدم تشدد پر قائم ہے۔ پارلیامنٹ کے اندر اپوزیشن نے کہا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا، وہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی بحث کی تجویز قبول نہیں کریں گے۔
طلبہ کی توہین نہ کریں: راہل گاندھی
وزیر اعظم کی جانب سے دیررات جاری کیے گئے ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ان پر طلبہ کی توہین کا الزام لگایا۔
Mr. Modi, our students are demanding Dharmendra Pradhan’s resignation.
Don’t insult their intelligence with this pathetic midnight video.
1. Sack Pradhan.
2. Punish those who beat students.
3. Apologise https://t.co/7SLB6pQqZx— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 23, 2026
راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا،’مودی جی، ہمارے طلبہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آدھی رات کو پوسٹ کیے گئے اس بیکار ویڈیو کے ذریعے ان کی سمجھداری کی توہین مت کیجیے۔‘
انہوں نے طلبہ کی جانب سے تین مطالبات ایک بار پھر دہرائے، جس میں دھرمیندر پردھان کو برخاست کرنا، طلبہ پر تشدد کرنے والوں کو سزا دینا اور معافی مانگنا شامل ہے۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ برقرار: سی جے پی
اس سلسلے میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سمیت ان کے تمام مطالبات بدستور برقرار ہیں اور انہی نکات پر حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔
سوربھ داس نے کہا،’حکومت نے غیر جانبدار مقام پر بات چیت کی ہماری تجویز قبول کر لی ہے، جس پر ہمیں خوشی ہے۔ مذاکرات کے لیے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ حکومت کھلے ذہن کے ساتھ ہمارے سامنے آئی ہے اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والے لوگوں کی بات سننے کے لیے تیار ہے۔‘
#WATCH दिल्ली: कॉकरोच जनता पार्टी के मुख्य प्रवक्ता सौरव दास ने कहा, “हम खुश हैं। हमने कल भी पत्र लिखकर सोनम सर से उपवास समाप्त करने का अनुरोध किया था…यह आंदोलन जब तक हमारी मांग पूरी नहीं हो जाती तब तक जारी रहेगा। हम बहुत खुश हैं कि सरकार हमारा अनुरोध मान गई है कि बातचीत… pic.twitter.com/KlEnfRGs6V
— ANI_HindiNews (@AHindinews) July 23, 2026
انہوں نے مزید کہا،’وہ جنتر منتر بھی آ سکتے تھے، لیکن ہم نے ان کے سامنے ایک متبادل رکھا ہے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ شاید وہ جنتر منتر آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ ہم پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ ہیں، اسی لیے ہم نے ان کے سامنے ایک غیر جانبدار مقام کا اختیار پیش کیا۔‘
سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی
معلوم ہو کہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے جمعرات کی دیر رات گروگرام کے میدانتا اسپتال میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
سونم وانگچک نے اس حوالے سے ایکس پر لکھا،’کچھ دیر قبل مرکزی وزیر جے پی نڈا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور لیہ-لداخ کی ایپکس باڈی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں، میں نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔‘
END OF HUNGER… BEGINNING OF ACCOUNTABILITY…!
Sonam Wangchuk ends his fast after 26 days upon getting assurance from the government and members of parliament of all political parties that the issue of accountability in the failing examination system will be discussed on the… pic.twitter.com/0C9YX5VlsL— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 24, 2026
انہوں نے کہا،’اس سے پہلے مختلف سیاسی جماعتوں کے 65 اراکین پارلیامنٹ مجھ سے ملنے آئے تھے یا انہوں نے خط لکھ کر مجھ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ یہ فیصلہ مختلف شرائط پر طویل بات چیت اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘
سونم وانگچک نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پوری طرح محتاط رہیں تاکہ ملک میں کہیں بھی کسی قسم کا تشدد نہ ہونے پائے۔
بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا،’میں نے ان سے تحریری یقین دہانی حاصل کی ہے۔ وزراء نے تحریری طور پر یقین دلایا ہے کہ حکومت پیپر لیک ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی، اور جن طلبہ نے پیپر لیک کے باعث خودکشی کی، ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ بھی دیا جائے گا۔‘
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر لکھا،’ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ سر، آپ کی غیر معمولی بہادری اور قربانی کے لیے شکریہ۔‘
دیپکے نے مزید کہا،’آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ آپ کی زندگی اس ملک کے لیے بے حد قیمتی ہے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج جاری رہے گا۔‘
We are relieved and grateful that Sonam sir has ended his hunger strike after 26 days.
Thank you, sir, for your extraordinary courage and sacrifice. By putting your own life on the line, you awakened the conscience of an entire nation. Your life is far too precious to this… pic.twitter.com/XXaubgkEbW
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 23, 2026
معلوم ہو کہ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندر سے بھی احتجاج میں شریک طلبہ کے ساتھ پولیس کے رویے پر سوال اٹھنے لگے تھے۔
بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر تعلیم مرلی منوہر جوشی نے جمعرات کی شام ایکس پر لکھا،’طلبہ کے خدشات اور مطالبات حقیقی ہیں۔ ان کا ہمدردی اور دور رس حل کے ساتھ ازالہ کیا جانا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اسے صرف لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سمجھ کر طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ خواتین پر ظلم دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا ہے۔‘
غور طلب ہے کہ سی جے پی کی قیادت میں یہ تحریک 20 جون کو شروع ہوئی تھی۔ اس کے مطالبات میں مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے لیے جوابدہی طے کی جائے، تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کی جائے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔
سونم وانگچک 28جون کو اس تحریک میں شامل ہوئے تھے، اور کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔
سی جے پی نے 24 جولائی کو ملک بھر میں پُرامن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ ہر ضلع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں۔