مرکزی حکومت نے محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کیا ہے۔ راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر کے خاندان کو ’کامرشیل فصلوں‘، خصوصی طور پر کھیرے کی کھیتی کوبڑھاوا دینے کے لیےنیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔

نریش پال گنگوار اور انہیں ملی سرکاری سبسڈی پر انڈین ایکسپریس کی خبر۔
نئی دہلی: حکومت ہند نے محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کیا ہے۔ ان کی تقرری کے بعد ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے جس میں ان کا نام آخری بار سرخیوں میں آیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی ایک پڑتا کے مطابق، راجستھان کیڈر کے 1994 بیچ کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کے خاندان (ماں، بیوی اور بیٹے) کو ’کامرشیل فصلوں‘، خصوصی طور پر کھیرے کی کھیتی کو بڑھاوا دینے کے لیے نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔
یہ اسکیم کامرشیل فصلوں کو بڑھاوادینے، خصوصی طور پر کھیرے (ککڑی) کی کھیتی کے لیے چلائی جاتی ہے۔ اخبار کی جانچ کے مطابق، یہ رقم ان کے خاندان کو پانچ سال کے عرصے کے دوران ملی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ پوری رقم خاندان کے افراد کو پانچ سال میں مختلف مراحل کے دوران ملی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود بھاگیرتھ چودھری، جو راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں، نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اسی بورڈ کے تحت ’پیداوار اور فصل کی کٹائی کے بعد کے مینجمنٹ کے ذریعے کامرشیل باغبانی کی ترقی‘ کے نام سے سبسڈی اسکیم چلائی جاتی ہے۔
وزیر بھاگیرتھ چودھری نے بھی اسی سال ’کامرشیل کھیتی‘ کو فروغ دینے والی اسی اسکیم کے تحت 50 فیصد سبسڈی کے طور پر 99.6 لاکھ روپے حاصل کیے۔
اپنی ہی وزارت کے تحت چلنے والی اسکیم سے مرکزی وزیر کو سبسڈی ملنے کا معاملہ راجستھان کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی تنازعہ کا باعث بنا تھا۔
اس وقت چودھری نے سبسڈی لینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا،’میں ایک کسان ہوں اور بچپن سے ہی زراعت سے وابستہ رہا ہوں… میں نے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے۔ ہزاروں کسان پالی ہاؤس لگاتے ہیں اور سبسڈی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔‘
اسی دوران سینئر آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کا کردار بھی سرخیوں میں آیا تھا۔
اس وقت گنگوار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ انہوں نے سال 2021-22 کے لیے محکمہ پرسونل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی)کو دی جانے والی لازمی غیر منقولہ جائیداد کی تفصیل میں اس اسکیم کے تحت منظور شدہ صرف ایک منصوبے کی معلومات دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سروس رول کے مطابق صرف بڑے پیمانے پر منافع کمانے والے منصوبوں کی تفصیلات دینا ضروری ہے۔
اس اسکیم کے تحت ایک خاندان کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک کی سبسڈی دینے کا اہتمام ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ونیت جوشی (1992 بیچ کے افسر)، جن کی جگہ گنگوار لیں گے، کا تبادلہ پنچایتی راج محکمہ میں سکریٹری کے عہدے پر کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رکن پارلیامنٹ جان برٹاس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس تقرری پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے لکھا،’جوابدہی یقینی بنانے کا وزیر اعظم کا یہی طریقہ ہے۔ ‘
The ultimate farce! While the nation demands accountability for exam scams & paper leaks, Govt appoints Naresh Pal Gangwar as the new Higher Education Secretary!
This is the same IAS officer whose mother, wife & son collectively received over ₹1.16 crore in government subsidies… pic.twitter.com/Y24xc4VskZ— John Brittas (@JohnBrittas) July 24, 2026
انہوں نے مزید کہا،’یہ تو ستم ظریفی کی انتہا ہے! جب ملک امتحان گھوٹالوں اور پیپر لیک کے معاملوں میں جوابدہی کا مطالبہ کر رہا ہے، اس وقت حکومت نے نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کر دیا ہے۔ یہی وہ آئی اے ایس افسر ہیں جن کی ماں، بیوی اور بیٹے کو نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ’کامرشیل فصلوں کوبڑھاوا دینے‘ (کھیرے کی کھیتی) کی اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔‘