اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے 2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔

گزشتہ 20 جولائی کو جنتر منتر کے قریب مظاہرین۔( تصویر: پی ٹی آئی)
ہندوستان کی جین-زی نے صرف تیس دنوں کے اندر وہ کر دکھایا جو ہندوستان کی پارلیامانی حزب اختلاف بارہ برس سے زائد عرصے میں بھی نہ کر سکی تھی۔
پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے مجبور اور پسپا ہوکر وزیر تعلیم دھر میندر پردھان کو عہدے سے ہٹا دیا۔ 2001 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے نریندر مودی نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا تھا، جو عوامی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا ہے۔
پچھلے کئی سالوں سےامتحانات میں دھاندلی، پیپر لیک، بھرتیوں میں شفافیت کے خاتمے اور روزگار کے حصول میں مسلسل ناکامی نے ہندوستان کی نوجوان نسل کے لیے لاتعداد مسائل کھڑے کیے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق، پچھلے دس برسوں میں 152بار پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ معاملے ہیں، جو رپورٹ ہوئے ہیں۔
متوسط طبقہ کی بڑھتی آبادی اور شدید مقابلے کے باعث طلبہ پر کارکردگی دکھانے کا اتنا دباؤ بڑھ گیا ہے کہ 2014سے 2024کے درمیان سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ23ہزار طلبہ نے خود کشی کرکے اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔
میڈیکل تعلیم کا داخلہ امتحان جو 2015سے اب قومی سطح پر منعقد ہوتا ہے کے پیپر لیک کی وجہ سے 2026میں ہی 30کے قریب طلبہ نے اپنی جان لے لی۔
گو کہ احتجاج کی شدت، طلبہ کی مایوسی اور مسلسل بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد بالآخر مرکزی وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا، لیکن سوال یہ ہے کہ پیپر لیک کی وبا ء کہیں کسی بڑی سازش کا عندیہ تو نہیں دیتی ہے۔
اگر اس پورے بحران کو صرف انتظامی نااہلی یا چند بدعنوان عناصر کی ذاتی لالچ کا نتیجہ سمجھا جائے تو یہ حقیقت کو سطحی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔
جب کسی ملک میں مقابلے کے امتحانات کا پورا ڈھانچہ بار بار مفلوج ہونے لگے، تو یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے: کیا یہ صرف بدعنوانی ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی گہری سیاسی اور نظریاتی سازش کارفرما ہے؟
کیا یہ ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور نوکر شاہی کے اندر اپنے مخصوص نظریاتی کارکنوں کو گھسانے اور آہستہ آہستہ پوری ریاست پر قبضہ کرنے کا کوئی بڑا منصوبہ تو نہیں؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں بس ایک دہائی قبل ترکیہ کی طرف جانا ہوگا۔
سن دو ہزار دس (2010) کی گرمیاں ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے لیے غیر معمولی طور پر کشیدگی اور دباؤ سے بھری ہوئی تھیں۔ ترکیہ کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے ’پبلک پرسنل سلیکشن اگزامینیشن‘، جسے کے پی ایس ایس کے نام سے جانا جاتا ہے،محض ایک مقابلے کا ٹیسٹ یا امتحان نہیں ہوتا ہے۔
ہندوستان کے یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی طرح، ترکیہ میں بھی یہ امتحان ایک محفوظ سرکاری کیریئر، سماجی ترقی اور معاشی استحکام کی سب سے بڑی اور بنیادی ضمانت ہے۔
ہندوستان کی طرح، پورے ترکیہ میں ڈگری ہولڈر نوجوان اور گریجویٹس اس امتحان کی تیاری کے لیے سالہا سال صرف کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کوچنگ اداروں کی بھاری فیس ادا کرنے کے لیے دوسروں سے پیسے ادھار اور قرض لیتے ہیں۔ طلبہ اپنی شادیاں ملتوی کر کے اور ملازمت کے دیگر تمام مواقع کو پسِ پشت ڈال کر اس امتحان کی تیاری کے لیے پورا زور لگادیتے ہیں۔
لیکن جب 2010 میں اس امتحان کے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہوا، تو نمبروں اور اسکور کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ماہرِ شماریات نے ایک ایسی بات محسوس کی جو ابتدائی طور پر کسی کمپیوٹر کی تکنیکی غلطی یا سافٹ ویئر کا نقص معلوم ہوتی تھی۔
امتحان کے ایک پرچے میں تین سو پچاس امیدواروں نے مکمل ترین اسکور حاصل کیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ تین ہزار دو سوسے زائد امیدواروں نے سوسے زیادہ سوالات کے بالکل درست جوابات دیے تھے۔
ترکیہ کے سب سے زیادہ کٹھن اور سخت ترین مقابلے کے امتحانات میں سے ایسا غیر معمولی تھا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی تھی۔جب صحافیوں، ٹریڈ یونینوں اور تعلیم کے ماہرین نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے ان اعلیٰ ترین امیدواروں کے ناموں اور کوائف کا باہمی موازنہ کرنا شروع کیا، تو ان کے سامنے ایک خاص پیٹرن ابھر کر سامنے آیا۔
ان میں سے بہت سے امیدوار آپس میں شادی شدہ جوڑے نکلے۔ دیگر کئی ایسے امیدوار تھے جو ایک ہی رہائشی پتے پر مقیم تھے اور آپس میں ایک جیسے رہائشی مکانات شیئر کرتے تھے، یا پھر وہ بالکل ایک جیسے تعلیمی حلقوں اور دائروں سے تعلق رکھتے تھے۔
وہ بات جسے شروع میں ایک بعید از قیاس اور ناممکن شماریاتی اتفاق سمجھا جا رہا تھا، اب تیزی سے ایک منظم اور گہرے نیٹ ورک کی شکل میں سامنے آ رہی تھی۔
اس معاملے کی سب سے اہم اور فیصلہ کن پیش رفت ترکیہ کے مغربی صوبہ اسپارتا کے ایک چھوٹے سے ضلع یالواچ میں ہوئی۔ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، مقامی پراسیکیوٹرنے تفتیش کاروں کو ہدایت دی کہ وہ باکی ساچی نامی ایک ٹیچر کے کمپیوٹر کا معائنہ کریں۔
ترکیہ کے سائنسی و تکنیکی تحقیقاتی کونسل یعنی ٹوبی ٹیک کے ڈیجیٹل فارنسک ماہرین نے جب اس کمپیوٹر کا جائزہ لیا تو ایک ایسی دریافت کی جس نے اس پوری تفتیش کی بنیاد ہی ہلا کر رکھ دی۔
ڈیجیٹل ثبوت اور ای میلز کے نشانات انقرہ کے ایک مرکزی آپریٹر تک پہنچے جس کی شناخت برات کوشر کے نام سے ہوئی۔ کوشر کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے تھا جسے ترگت اوزال تھاٹ اینڈ ایکشن ایسوسی ایشن کے نام سے جانا جاتا تھا۔
یہ ایسوسی ایشن کوئی عام کمیونٹی گروپ، فلاحی ادارہ یا تعلیمی چیریٹی نہیں تھی۔ یہ دراصل واعظ فتح اللہ گولن کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے ایک اہم تنظیمی فرنٹ کے طور پر کام کر رہی تھی۔
یہ ایک انتہائی طاقتور، دائیں بازو کی نظریاتی تحریک تھی جس نے ترکیہ کے سماج کے اندر کام کرتے ہوئے دہائیاں گزاری تھیں،جسے بعد میں ترکیہ کے حکام اور ریاست کی جانب سے باضابطہ طور پر فیٹو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔
سال 2010 میں یہ تحریک حکومت کے اندر تو موجود نہیں تھی، مگر ہندوستان کے راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس کی طرح حکومت کی ایک انتہائی اہم اور طاقتور اتحادی تھی۔
اس معاملے کی تفتیش و تحقیق میں مسلسل تاخیر کی گئی او2014ء تک اس میں بار بار رکاوٹیں ڈالی گئیں۔مگر جیسے جیسے ڈیجیٹل ثبوت اور شہادتیں اکٹھی ہوتی گئیں، تفتیش کاروں نے دائرہ کار محض2010کے امتحان تک محدود رکھنے کے بجائے اس سے آگے بڑھانا شروع کر دیا۔
تفتیش سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ صرف ایک بار کا پیپر لیک ہونے کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہری سازش تھی جس کا مقصد ریاست کے اداروں، بیوروکریسی، عدلیہ اور انتظامیہ کے اندر بظاہر یہ سماجی گروپ اپنے حامیوں اور کارکنوں کو آہستہ آہستہ گھسا رہا تھا اور اس کا مقصد نظام کو اندر سے مفلوج کر کے اس پر قابض ہونا تھا۔
ترک تفتیش کاروں کے مطابق فتح اللہ گولن کی تحریک جسے ترکیہ کی عوامی اور سیاسی زبان میں ’خدمت یا ہزمت‘کا نام بھی دیا گیا تھا، نے برسوں سے ایک ایسا خاموش، صبر آزما اور نہایت منظم منصوبہ بنا رکھا تھا جس کی بنیاد امتحانات کے نظام میں نقب زنی پر رکھی گئی تھی۔
ان کے بقول ان کا طریقہ کار یہ نہیں تھا کہ کھلے عام حکومت پر حملہ کیا جائے یا کوئی سیاسی پارٹی بنا کر انتخابات لڑے جائیں۔ اس کے برعکس، ان کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ امتحانی مراکز، ایجنسیوں اور نتائج مرتب کرنے والے ملازمین میں اپنے معتمد افراد کو بٹھایا جائے۔
جیسے ہی کے پی ایس ایس اور دیگر مقابلے کے امتحانات قریب آتے، تو وہ امتحانی سوالنامے خفیہ طور پر حاصل کر کے تحریک کے تحت چلنے والے خصوصی رہائشی مراکز اور تعلیمی حلقوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
نتائج یہ نکلتے کہ جہاں عام اور محنتی طلبہ سالہا سال رات دن ایک کر کے بھی ایک ایک نمبر کے لیے ترستے رہتے، وہاں اس تحریک سے وابستہ کارکنان غیر معمولی اور سو فیصد نمبر حاصل کر کے سول سروس، پولیس، عدلیہ، مالیاتی اداروں اور عسکری شعبوں کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو جاتے تھے۔
انقرہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر فرقان حمید کے مطابق اس عمل کے ذریعے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری بیوروکریسی، فوج اور عدلیہ کے اندر ایک متوازی قوت جنم لے چکی تھی جو آئین یا پارلیامان کے بجائے اپنے پس پردہ بیٹھے نظریاتی رہنما کی ہدایات پر عمل پیرا تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ گولن تحریک کی اہمیت صرف اس کی مذہبی تنظم سازی میں نہیں تھی، بلکہ اس کی اصل طاقت تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی طویل مدتی سرمایہ کاری میں پوشیدہ تھی۔ اس تحریک نے جزوی طور پر ترکیہ کے معتبر اسلامی مفکر سعید نورسی جنہیں عوام میں استاد بدیع الزماں کے نام سے جانا جاتا ہے، سے تحریک حاصل کی تھی۔
ایک ایسے وقت میں جب ترکیہ کے سخت سیکولر سیاسی نظام میں مذہبی پابندیوں کا سامنا تھا، گولن تحریک نے انتخابی سیاست سے ہٹ اسکول، طلبہ کے ہاسٹل، خیراتی ادارے، کاروباری مراکز، میڈیا ہاؤسز اور پرائیویٹ انٹری ٹیسٹ کے تیاری کے مراکز قائم کرکے نورسی تحریک کی طرز پر اسلامی شعار کو زندہ رکھنے کی سعی کی۔
تحریک کے نمائندے غریب یا سماجی طور پر قدامت پسند خاندانوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کی نشاندہی کرکے ان کی تعلیم، رہائش اور اعلیٰ تعلیم کے لیے معاونت فراہم کرتے تھے۔ ان کو مذہبی تعلیمات سے روشناس کراکے ایک نیٹ ورکس میں شامل کیاجاتا تھا۔ اس عمل نے تعلیم یافتہ اور نظریاتی طور پر پرعزم پیشہ ور افراد کی ایک نئی نسل تیار کی۔ ان میں سے اکثر بالآخر یونیورسٹیوں، پولیس، عدلیہ، سول سروس اور مسلح افواج میں داخل ہو گئے۔
اس طرح تحریک نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر کھلے عام کام کیے بغیر ایک وسیع ادارہ جاتی موجودگی قائم کر لی۔ ایسے ادارے صرف ترکیہ تک محدود نہیں تھے، بلکہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور کئی افریقی ممالک میں بھی قائم کیے گئے تھے تاکہ صلاحیتوں کی شناخت کی جا سکے اور ان کی فکری تربیت کی جا سکے۔
تحریک نے منظم انداز میں اپنے کیڈر کی رہنمائی کی تاکہ وہ عدلیہ، پولیس، فوج اور شہری انتظامیہ سمیت ریاست کے کلیدی شعبوں میں داخل ہو سکیں۔اس حد تک اس تحریک کے ساتھ اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مگر غیر فطری اور مجرمانہ عمل کا استعمال کرتے ہوئے کلیدی شعبوں میں عمل داری حاصل کرنا کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
خیر اسی دوران 1999کے بعد ترکیہ میں ایک اور شخصیت منظر عام پر آرہی تھی۔ یہ موجودہ صدر رجب طیب ایردوان تھے۔ استنبول شہر کے میئر اور نجم الدین اربکان کی اسلام پسند رفاء پارٹی کے ایک کارکن کی حیثیت سے وہ عوامی طور پر متعارف ہو چکے تھے۔ رفاء پارٹی جو بعد میں سعادت پارٹی میں تبدیل ہوگئی میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بے چین ایردوان نے اس کو چھوڑ کر 2002 میں ایک نئی آق پارٹی کی بنیاد ڈالی۔
بتایا جاتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے لیے گولن نے سیکولر ملٹری-بیوروکریٹک نظام کے خلاف ان کی مدد کی۔ اگرچہ ایردوان نے استنبول شہر کے میئر کی حیثیت سے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا تھا، لیکن قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے انہیں ایک سہارے کی ضرورت تھی۔
ان کی آق پارٹی کے پاس عوامی مقبولیت اور ووٹ کی طاقت تھی؛ جبکہ گولن تحریک نے تربیت یافتہ عملہ، میڈیا کا اثر و رسوخ اور گہرے ادارہ جاتی نیٹ ورکس فراہم کردئے۔مگر اقتدار میں آنے کے بعد خارجہ پالیسی، سول سروس کے کنٹرول، وزیروں و مشیروں کی تقرری اور بعد میں انٹری ٹیسٹ کے مراکز کے معاملات پر ایردوان اور گولن کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی۔
فرقان حمید یاد کرتے ہیں کہ پیپر لیک کے اسکینڈلز کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کشیدگی میں اضافہ ہوا، مگر اتحاد دسمبر 2013 میں اعلانیہ طور پر ٹوٹ گیا۔ گولن تحریک سے وابستہ ججوں نے ایردوان کے متعدد وزراء کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں تھیں تاکہ حکومت کو امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کی تحقیقات سے روکا جا سکے۔
یہ تصادم بالآخر 15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت پر منتج ہوا، جس کا الزام گولن نواز افسران پر عائد کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ریاستی سطح پر برطرفیاں، گرفتاریاں اور گولن سے وابستہ اداروں کی وسیع پیمانے پر بندش عمل میں آئی۔
اس ناکام بغاوت کے بعد ایک مکمل تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ان تمام افسران کو برطرف کیا گیا جو گولن کے راستے کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ ملازمتوں میں شامل ہوئے تھے۔ترک عدالت کے دستاویزات اور بعد کی تحقیقات کے مطابق، افشا ہونے والے امتحانات کے مبینہ فائدہ اٹھانے والوں نے سول سروس، عدلیہ، پولیس، فوج اور تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ عہدے حاصل کیے تھے۔ان میں ایر فورس کے متعدد پائلٹ و ملٹری جنرل بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر پردھان کی وداعی سے آر ایس ایس کے تعلیمی ایجنڈے کو شدید جھٹکا
انقرہ میں آزاد سیاسی مبصرین اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2010 کا اسکینڈل ایک طویل عرصے سے جاری آپریشن کا محض ایک نظر آنے والا عروج تھا۔ 2010 سے کئی سال پہلے بھی ملٹری اکیڈمی کے انٹری ٹیسٹوں، پولیس اکیڈمی کی بھرتیوں کے امتحانات اور عدالتی امیدواروں کے انتخاب میں خاموشی سے اسی طرح کے پرچے لیک ہوتے رہے تھے۔ جب تک عوام کو اندازہ ہوا کہ کیا ہو رہا ہے، تب تک یہ نیٹ ورک اہم ریاستی اداروں کے اندر ایک بڑی طاقت بن چکا تھا، جس نے آنے والے سالوں میں شدید سیاسی عدم استحکام کی بنیاد رکھی۔
سابق ایجوکیشن یونین لیڈر اسماعیل کونجوک ان ابتدائی آوازوں میں سے تھے جنہوں نے 2010 کے ’کے پی ایس ایس‘امتحانات کے نتائج پر سوال اٹھائے تھے۔ ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے دلیل دی کہ اعداد و شمار کے یہ غیر معمولی فرق اتنے بڑے تھے کہ انہیں محض اتفاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ان کی جدوجہد نے اس مسئلے کو ان سالوں میں بھی زندہ رکھنے میں مدد کی جب تحقیقات رکی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
قانونی ماہر پروفیسر الیاس دوآن بتاتے ہیں کہ مسابقتی امتحانات اپنا جواز اس یقین سے حاصل کرتے ہیں کہ ہر امیدوار برابر کے موقع کے ساتھ شرکت کرتا ہے۔ ایک بار جب وہ اعتماد ختم ہو جائے، تو شہری نہ صرف انفرادی تقرریوں پر بلکہ ان اداروں کی مشروعیت پر بھی سوال اٹھانے لگتے ہیں جو ان تقرریوں سے وجود میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا؛
’ایک ایسی بیوروکریسی جسے قابلیت کے بجائے جوڑ توڑ کا نتیجہ سمجھا جائے، وہ ناگزیر طور پر جمہوری طرزِ حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔‘
ترکیہ نے بالآخر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے سلسلے میں سینکڑوں مشتبہ افراد پر مقدمات چلائے۔ اس کے بعد متعدد سزائیں سنائی گئیں۔
ترکیہ کی اس تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم ہندوستان کے موجودہ تعلیمی اور سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو حالات کی مشابہت انتہائی تشویشناک اور ہولناک روپ دھار لیتی ہے۔
پچھلے کچھ سالوں کے دوران ہندوستان میں نیٹ، یو جی سی نیٹ اور مختلف ریاستوں کے پبلک سروس کمیشنز مثلاً راجستھان، بہار، اتر پردیش، اور مدھیہ پردیش کے تحت ہونے والے امتحانات میں جس بڑے پیمانے پر دھاندلیاں، پرچوں کا افشا ہونا اور امتحانی ایجنسیوں کی پراسرار ناکامیاں سامنے آئی ہیں، تو سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا وہ صرف چند مقامی مافیاؤں یا پیسوں کے لالچی ایجنٹوں کی کارروائی ہو سکتی ہیں؟
جب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی جیسے مرکزی اور بااختیار ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں، جب ہزاروں طلبہ کا مستقبل ایک ہی لمحے میں تاریک ہو جاتا ہے، اور جب تحقیقاتی اداروں کی کارروائیوں میں اصل محرکات تک پہنچنے کے بجائے معاملات کو دبانے اور پردہ پوشی کرنے کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے، تو عوامی اور تعلیمی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونجنے لگتا ہے کہ؛کیا ہندوستان میں بھی امتحانی نظام کی اس بربادی کے پیچھے کوئی متوازی نظریاتی منصوبہ کام کر رہا ہے؟ کیا میرٹ کو دانستہ طور پر مفلوج کر کے مخصوص نظریاتی سوچ اور کیڈرز کے لوگوں کو انتظامی مشینری میں داخل کرنے کا کام جاری ہے؟
ہندوستان کے سیاسی پس منظر میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دائیں بازو کی نظریاتی تنظیمیں خصو صاً آر ایس ایس اور ان کی ذیلی شاخیں دہائیوں سے سماج کے مختلف طبقات، بالخصوص تعلیمی اداروں، نصاب سازی کے بورڈز، اور یونیورسٹیوں کے انتظامی عہدوں پر اپنے کارکنوں کو بٹھانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ 1998میں جب اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی کی مخلوط حکومت بنی تو وزراتوں کے حصول کے لیے ایک طرح سے جوتیوں میں دال بٹ رہی تھی۔ آر ایس ایس نے واجپائی اور اڈوانی کو بس ایک پیغام بھیجا تھا کہ اگر چہ تمام ملائی والی وزارتیں اتحادیوں کو دینی پڑ جائیں،تعلیم یعنی انسانی وسائل کی وزارت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔
یہ وزارت آر ایس ایس کے پرچارک اور بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی کے حوالے کی گئی۔ اس دوران انہوں نے تاریخ اور دیگر نصابی کتابوں میں ردو بدل کرنے کی روش جاری کی۔ 2004میں کانگریس کی حکومت میں جب ارجن سنگھ کو یہ وزارت ملی، گو انہوں نے اس زہریلے مواد کو نصاب سے ہٹانے کا ایک پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا، مگر کامیاب نہیں ہوپائے۔
جب مقابلے کے امتحانات کا شفاف نظام ٹوٹتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا نقصان متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ان محنتی طلبہ کو ہوتا ہے جن کے پاس نہ تو بڑی رقم دینے کی وسعت ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی یا نظریاتی پشت پناہی۔
اس کے برعکس، جب امتحانی پرچے افشا ہوتے ہیں یا دھاندلی کے ذریعے من پسند افراد کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے، تو نظام میں وہ افراد جگہ بنا لیتے ہیں جن کی وفاداری آئین اور ملک کے قانون سے زیادہ اپنے نظریاتی آقاؤں کے ساتھ ہوتی ہے۔
ہندوستان میں والدین مجموعی طور پر اپنے بچوں کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے سالانہ1,320 بلین روپے خرچ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے قومی تعلمی بجٹ بھی لگ بھگ اتنا ہی یعنی 1,400 بلین روپے ہے۔
ترکیہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کسی ملک کے امتحانی نظام میں بدعنوانی اور نظریاتی گھس بیٹھ کو پنپنے کا موقع دیا جاتا ہے، تو اس کے اثرات صرف تعلیمی سال کی بربادی تک محدود نہیں رہتے۔ یہ ایک ایسا زہر ہے جو ریاست کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے انتہائی سنجیدہ سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔
اگر آج بھی اس امتحانی چوری، پیپر لیکس اور متوازی گھس بیٹھ کی گہری اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی چہروں کو ننگا نہ کیا گیا، تو آنے والی نسلیں نہ صرف اس تعلیمی تباہی کا خمیازہ بھگتیں گی، بلکہ ریاست کا پورا نظام ایک ایسے نظریاتی قبضے کا شکار ہو جائے گا جس سے واپسی کا راستہ شاید ناممکن حد تک کٹھن ہوگا۔