وارانسی: پلے اسکول کی ٹیچر کے خلاف پانچ سالہ بچے کے پرائیویٹ پارٹ کوگرم چاقو سے جلانے کا الزام، کیس درج

وارانسی کے ایک پلے اسکول سے بے حدغیر حساس معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک پانچ سالہ بچے کے پینٹ میں پیشاب کرنے کے واقعہ سے مبینہ طور پر ناراض ہوئی ٹیچر نے بچے کے پرائیویٹ پارٹ کو گرم چاقو سے جلا دیا۔ساتھ ہی دوبارہ ایسا ہونے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ متاثرہ خاندان کی شکایت پر ٹیچر، پرنسپل اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

وارانسی کے ایک پلے اسکول سے بے حدغیر حساس معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک پانچ سالہ بچے کے پینٹ میں پیشاب کرنے کے واقعہ سے مبینہ طور پر ناراض ہوئی ٹیچر نے بچے کے پرائیویٹ پارٹ کو گرم چاقو سے جلا دیا۔ساتھ ہی دوبارہ ایسا ہونے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ متاثرہ خاندان کی شکایت پر ٹیچر، پرنسپل اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:اتر پردیش کے وارانسی کے پانڈے پور میں واقع ’سرین سونی پلے اسکول‘کی انتظامیہ اور ایک ٹیچر کے خلاف اتر پردیش پولیس نے مجرمانہ معاملہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ یہاں نرسری میں پڑھنے والے ایک پانچ سالہ بچے کے پینٹ میں پیشاب کرنے کے  غصے میں ٹیچر نے اس کے پرائیویٹ پارٹ کو گرم چاقو سے داغ دیا۔

اس معاملے میں متاثرہ بچے کے والد، جو پیشے سے وکیل ہیں، کی شکایت پر پلے اسکول کی ٹیچر پریتی کشواہا، پرنسپل ہیم لتا سنگھ اور اسکول مینیجر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ معاملہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 118(1) (خطرناک ہتھیار یا طریقے سے جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا)، 351(2) (مجرمانہ دھمکی) اور 115(2) (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں وارانسی پولیس نے دی وائر کو بتایا کہ ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، تاہم آگے کی  پولیس کارروائی، جس میں گرفتاری بھی شامل ہو سکتی ہے، بچے کے میڈیکل جاچ کے نتائج پر منحصر ہوگی۔

پولیس شکایت کے مطابق یہ واقعہ جمعہ (24 جولائی) کو پیش آیا، جب پانچ سال کے بچے نے اپنی ٹیچر پریتی کشواہا سے ٹوائلٹ جانے کی اجازت مانگی تھی۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ ٹیچر کے منع کرنے کے بعد بچے نے غلطی سے پینٹ میں پیشاب کردیا، جس کے ٹیچر غصے میں بچے کو ایک الگ کمرے میں لے گئیں اور ایک چاقو کو لال ہونے تک گرم کیا اور پھر اس سے بچے کے پرائیویٹ پارٹ کو جلا دیا۔

والد نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ اس دوران ٹیچر نے بچے کو مارا پیٹا  بھی اور دھمکی دی کہ اگر اس نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو اسے اور سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھر واپس آنے پر بچے نے انہیں اپنی آپ بیتی  سنائی۔ والد نے کہا کہ بیٹے سے بات کرنے کے فوراً بعد انہوں نے ملزمہ ٹیچر کو فون کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

اس کے بعد ان کی اہلیہ نے پرنسپل ہیم لتا سنگھ سے رابطہ کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا،’جو کرنا ہے کرو، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘

والد نے بتایا کہ جب وہ سنیچر (25 جولائی) کو اسکول مینیجر سے ذاتی طور پر ملے تو وہاں بھی انہیں اسی طرح کا جواب ملا۔

قابل ذکر ہے کہ لال پور-پانڈے پور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اتل کمار سنگھ، جہاں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، نے دی وائر کو بتایا کہ حالاں کہ حتمی طبی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے، لیکن ابتدائی جانچ سے پتہ  چلتا ہے کہ بچے کو کسی گرم چیز سے جلایا گیا ہے۔

سنگھ نے کہا،’جہاں بچے کو ی چوٹ دی گئی ہے،وہاں نشان صاف نظر آ رہا ہے۔ تاہم چوٹ کی شدت کا درست اندازہ ڈاکٹروں کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری کے بارے میں فیصلہ اس بات پر منحصر کرےگا کہ ’میڈیکل شواہد جرم کی سنگینی کو کسزمرے میں رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ چوٹ کی شدت کا تعین ڈاکٹر ہی کریں گے۔

اس معاملے پر کینٹونمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اپورو پانڈے نے تصدیق کی ہے کہ قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور یقین دلایا ہے کہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ملزم کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

غور طلب ہے کہ اس واقعہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اسے’انتہائی سنگین‘ معاملہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس واقعے کا بچے پر طویل مدتی نفسیاتی اثر پڑ سکتا ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس کا دردناک اور خوفناک اثر اس بچے پر زندگی بھر ہو سکتا ہے۔ اساتذہ میں اتنی سمجھ ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت کے ساتھ پیش آئیں۔ فوری طور پر ضروری کارروائی ہونی چاہیے! ‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔