مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ جمہوریت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبے باقی ہیں۔ وہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے نوجوانوں کی جیت اور مودی حکومت کے غرور کی شکست قرار دیا ہے۔

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے شدید دباؤ کے درمیان آخرکار مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے، تاہم ان کا استعفیٰ منظور ہونا ابھی باقی ہے۔
اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا،’ہمیں کاکروچ کہنے کے لیے میں ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر آپ نے ہمیں کاکروچ نہ کہا ہوتا تو دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا ہوتا۔‘
ابھیجیت دیپکے نے مزید کہا،’ہم نے کر دکھایا۔ دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ ڈرتے نہیں ہیں، اگر آپ اس حکومت کے سامنے جھکتے نہیں ہیں، تو آپ کسی سے بھی استعفیٰ دلوا سکتے ہیں۔ جمہوریت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
VIDEO | Delhi: As Union Education Minister Dharmendra Pradhan posts a letter, saying he has sent his resignation to PM Modi, CJP founder Abhijeet Dipke says, “We have done it. Dharmendra Pradhan has resigned.”
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/M7XmkgYhRG
— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2026
وہیں، سی جے پی کے ہینڈل سے کیے گئے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا پہلا مطالبہ، یعنی وزیر تعلیم کا استعفیٰ، پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبے باقی ہیں۔ جن میں خودکشی کرنے والے بچوں کے خاندانوں کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ اور 20 جولائی کو نوجوانوں پر مبینہ تشدد کے لیے پولیس افسران کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
اس میں مزید کہا گیا،’ہم ایسے جانے والے نہیں ہیں، یاد رکھیے، کاکروچ سے پنگا مت لیجیے۔‘
This is democracy. He has resigned. We have two more demands. We won’t go like this.
Dharmendra Pradhan has resigned. But the families of the children who committed suicide should receive compensation of one crore rupees. They should get it.
One crore rupees compensation to all… pic.twitter.com/CyhfGDUola— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 25, 2026
وہیں، پیپر لیک معاملے کو لے کر 26 دن تک بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو جمہوریت کی جیت قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’یہ جمہوریت کی جیت ہے، جمہوریت کی جیت، جو براہ راست سڑکوں سے آئی ہے۔ یہ امن، صبر اور عزم کی جیت ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور ملک کی ’جین زی‘ کو مبارکباد۔ ساتھ ہی ان تمام شہریوں کا بھی شکریہ جنہوں نےڈر اور ڈر کے ڈرکو چھوڑ کر ملک کے ہر کونے سے آواز اٹھائی۔‘
انہوں نے آخر میں لکھا،’جوابدہی سے اب اصلاح کی طرف۔‘
IT’S A VICTORY OF DEMOCRACY
direct democracy… straight from the streets.
It’s a victory of peace, patience & persévérance.
Congratulations CJP, Gen Z of the nation and thank you all citizens for shedding fear and the fear of fear and rising up from every corner of the nation.… pic.twitter.com/rSLOfvba2R— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 25, 2026
معلوم ہو کہ مرکزی حکومت نہ صرف جنتر منتر اور ملک کے دیگر شہروں میں نوجوانوں کی تحریک کے باعث دباؤ میں تھی، بلکہ پارلیامنٹ کے اندر اور باہر بھی اپوزیشن جماعتیں وزیرتعلیم کے استعفیٰ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہی تھیں۔
اپوزیشن نے کہا -جین زی کی جیت
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کانگریس نے کہا کہ یہ نوجوانوں کی جیت ہے،ہندوستان کے جین زی کی جیت ہے۔ یہ جیت ان کروڑوں نوجوانوں کی ہے، جنہوں نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے آواز بلند کی۔ نوجوانوں کی سچائی کے سامنے نریندر مودی کا غرور ٹوٹ گیا ہے اور ان کے جھوٹ کی شکست ہوئی ہے۔
धर्मेंद्र प्रधान का इस्तीफा युवाओं की जीत है, भारत के GEN Z की जीत है।
ये जीत उन करोड़ों युवाओं की है, जिन्होंने देशभर में शिक्षा व्यवस्था को दुरुस्त करने के लिए आवाज बुलंद की।
युवाओं के सत्य के सामने नरेंद्र मोदी का घमंड टूटा है, उनके झूठ की हार हुई है।
युवाओं ने एक अयोग्य…
— Congress (@INCIndia) July 25, 2026
کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان کے’طلبہ کی گونج‘آخرکار اس مغرور اقتدار کے دروازے تک پہنچ ہی گئی ہے۔ یہ ہمارے ان لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جنہوں نے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ملک بھر کی سڑکوں پر اپنی آواز اٹھائی۔ یہ سچ کی جیت ہے اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید کہا،’یہ ان تمام خاندانوں کی جیت ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا، کیونکہ یہ حکومت بدعنوان ہے۔ یہ متحدہ اپوزیشن کی جیت ہے، جس نے طلبہ کے مفاد میں پارلیامنٹ سے لے کر سڑکوں تک اپنی آواز بلند کی۔‘
भारत के ‘छात्रों की गूँज’ आख़िरकार अंहकारी सत्ता की दहलीज़ तक पहुँच गई।
ये हमारे करोड़ों युवाओं की जीत है जिन्होंने देशभर में शिक्षा व्यवस्था को दुरुस्त करने के लिए सड़क पर आवाज़ उठाई।
ये सत्य की जीत है और मोदी जी के हठ की हार है।
ये उन सभी परिवारों की जीत हैं जिन्होंने…
— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 25, 2026
کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ اب مودی کی باری ہے کہ وہ ہماری نوجوان نسل سے معافی مانگیں اور ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنہوں نے ان پر لاٹھیاں اور پیلٹ گن چلائیں۔
وہیں،راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیامنٹ منوج کمار جھا نے کہا کہ مودی حکومت کو آج پہلی شکست نوجوانوں کے جوش، ان کے سوال اور جمہوریت کے اس تصور کی وجہ سے ملی ہے جس میں جوابدہی کو خاص مقام حاصل ہے، اور جسے یہ حکومت مسلسل ختم کر رہی تھی۔ آج طلبہ اور نوجوانوں نے اسے دوبارہ حاصل کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا،’حالاں کہ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، اس کے آگے ایک بہتر نظام قائم کیا جانا چاہیے، جہاں جوابدہی طے ہو، سوال اٹھانے والوں کو اینٹی نیشنل نہ کہا جائے اور جمہوری اقدار سے سمجھوتہ نہ کیا جائے۔‘
VIDEO | “First setback for Modi government, thanks to the resolve of our youths and students”, says RJD MP Manoj Jha, on Union Education Minister Dharmendra Pradhan’s resignation.
(Source: Third Party)
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/ufNi2zr9dK
— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2026
عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت کو عوام کے سامنے جھکنا پڑا۔ انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا،’دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پورے ملک کو مبارکباد۔ جمہوریت کے لیے یہ ایک بڑی جیت ۔‘
Congratulations to the entire country on Dharmendra Pradhan’s resignation. Big win for democracy. pic.twitter.com/whzjhwSjOs
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) July 25, 2026
وزیر تعلیم کے استعفیٰ ری-پوسٹ کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے فیض احمد فیض کی نظم’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘کے ساتھ’جئے ہند‘لکھا۔
Laazim hai ki hum bhi dekhenge….
Jai Hind! https://t.co/UwdeiBb63f— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) July 25, 2026
این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار نے کہا،’نیٹ پیپر لیک معاملے میں دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں نے مسلسل 28 دنوں تک جو جدوجہد اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ مظاہرین کے مسلسل مطالبے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم نے آخرکار آج استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ لڑائی، جو بغیر خوف کے جبر کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہی اور حکومت کو ناانصافی کے خلاف اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کیا، جمہوریت کی طاقت کی علامت ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک میں نوجوانوں کے اتحاد کی ایک بڑی جیت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے حزب اختلاف کے تمام ارکان پارلیامنٹ کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے ملک کے نوجوانوں کو اخلاقی اور پارلیامانی حمایت فراہم کی۔
انہوں نے مزید کہا،’میں یقینی طور پر کہنا چاہوں گا کہ ملک میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے، اور اس کا کریڈٹ بلا شبہ ملک کی نوجوان نسل کو جاتا ہے۔‘
NCP(SP) chief Sharad Pawar (@PawarSpeaks) posts, “The struggle and determination shown by the youth over 28 consecutive days at Jantar Mantar in Delhi in the NEET paper leak case is truly commendable. In response to the insistent demand of the protesters, the Union Education… pic.twitter.com/BGvctThuec
— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2026
ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا،’دیر آئے درست آئے، اگر پہلے آ جاتے تو یہ نقصان نہ ہوتا۔ نوجوان نسل کا اگزام سے بھروسہ اٹھ چکا ہے، پورا سسٹم بدلناچاہیے اور ایک نیاسسٹم آنا چاہیے۔‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے پہلا ردعمل مرکزی وزیر کرن رجیجو کی طرف سے آیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر دھرمیندر پردھان کے دور کی تعریف کی اور تعلیمی اصلاحات میں ان کی خدمات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پر لکھا،’حقیقی قیادت کی پہچان دہائیوں کے کام سے ہوتی ہے اور دھرمیندر پردھان جی کی عوامی زندگی اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے ان کا عزم اس کا ثبوت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مرکزی کابینہ میں ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ دھرمیندر پردھان تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ہر فیصلے میں لاکھوں طلبہ کے مفاد کو ترجیح دینے کے لیے مکمل طور پر وقف تھے۔
True leadership is measured over decades & @dpradhanbjp ji’s journey stands as a testament to lifelong engagement with public life & student welfare.
Having worked alongside him in the Union Cabinet, I have seen his sincere dedication to strengthening India’s education ecosystem… pic.twitter.com/dNavUuVVh7
— Kiren Rijiju (@KirenRijiju) July 25, 2026
غور طلب ہے کہ نیٹ-یو جی امتحان کے پیپر لیک ہونے کے معاملے پرکاکروچ جنتا پارٹی 20 جون سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس سے پہلے جمعہ (24 جولائی) کو دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔ یہ بات چیت تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہی، جس میں سی جے پی نے واضح طور پر کہا کہ وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے بات چیت میں شامل جے پی نڈا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سی جے پی کے مطالبے پر غور کرنے کے بعد سنیچر کی دوپہر کے بعد پھر سے بات چیت کریں گے۔