پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

جنتر منتر پر سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ساتھ ثنا کے والدین شیخ جعفر حسین اور حبیب النساء شیخ۔ (تصویر: تاروشی اسوانی)
نئی دہلی:شیخ جعفر حسین اور ان کی اہلیہ حبیب النساء شیخ، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘(سی جے پی)کے دھرنے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچے۔ یہ لوگ نہ توپروفیسر ہیں، نہ طالبعلم، نہ ہی ایکٹوسٹ؛ اور نہ ہی ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی لینا دینا ہے۔ لیکن نیٹ پیپر لیک نے انہیں ایسا زخم دیا ہے جسے وہ پوری زندگی بھلا نہیں پائیں گے۔
دراصل، اس جوڑے نے اپنی 19 سالہ بیٹی ثنا شیخ کو نیٹ کے دوبارہ امتحان سے ٹھیک ایک دن پہلے 20 جون کو کھو دیا تھا۔ حیدرآباد میں میڈیکل کی پڑھائی کرنے والی ثنا ایک اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئی تھیں؛ پولیس کے مطابق یہ خودکشی کا معاملہ تھا۔
پولیس کے مطابق، جائے وقوعہ سے ایک نوٹ ملا جس میں ثنا نے لکھا تھا، ’میری موت کے لیے کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔ میں اپنی جان دے رہی ہوں۔‘
رپورٹ کے مطابق، تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ پڑھائی کاتناؤ، اچھی کارکردگی کا دباؤ اور گزشتہ امتحان میں ناکامی کے سبب طالبہ نے یہ قدم اٹھایا ہوگا۔
پولیس نے بتایا کہ ثنا نے گزشتہ سال بھی نیٹ کا امتحان دیا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے کوچنگ میں داخلہ لیا اور 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ امتحان میں دوبارہ شرکت کی۔
پولیس کے مطابق، ثنا نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم 90 فیصد سے زیادہ نمبروں کے ساتھ مکمل کی تھی۔ وہ 21 جون کو ہونے والے نیٹ کے دوبارہ امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔
خبروں کے مطابق، 21 جون کو ہونے والے نیٹ کے دوبارہ امتحان میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی۔
ثنا کی موت ملک بھر میں طلبہ کی خودکشی کے افسوسناک سلسلے کا ایک اور واقعہ ہے؛ ادارہ جاتی بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید دباؤ، تشویش اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے امیدوار اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جہاں انہیں اس انتہائی قدم کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
خاندان نے ثنا کے خودکشی نوٹ کی ایک نقل ’دی وائر‘ کو دکھائی، جس میں 700 الفاظ پر مشتمل اس نوٹ کی شروعات ان الفاظ سے ہوتی ہے؛ ’میری موت کے لیے کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔ میں اپنی جان دے رہی ہوں۔‘
اس نوٹ میں ثنا نے بار بار اپنی گہری بے چینی، امتحان سے متعلق دباؤ، ناکامی کے خوف اور توقعات پر پورا اترنے کے بھاری بوجھ کا ذکر کیا ہے۔
سال2025 سے نیٹ کی تیاری کر رہی ثنا نے اس امتحان کے لیے اپنی ساری طاقت جھونک دی تھی، لیکن ان کے خواب ناقص اور ناانصافی پر مبنی امتحان کے نظام کی وجہ سے چکنا چور ہو گئے۔
خاندان اور اس افسوسناک واقعہ کے بعدان کے رابطہ میں آنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ ثنا کی قابلیت- جو انٹرمیڈیٹ امتحانات میں ان کے 1000 میں سے 980 نمبروں سے بھی جھلکتی ہے- کے باوجود سسٹم نے انہیں گھٹتے بڑھتے پرسنٹائل اسکور کی وجہ سے نااہل محسوس کرنے پر مجبور کر دیا۔
نیٹ امتحانات کے بدانتظامی کے سبب اپنے اور دوسرے طلبہ کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ثنا کے والد شیخ جعفر محسوس کرتے ہیں کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی وجہ سےجان گنوانے والوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کا ساتھ دینا ان کا فرض ہے۔
حبیب النساء کے چہرے پر بے شمار سوالوں کے ساتھ گہرا درد صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے ’دی وائر‘ سے کہا،’میں جنتر منتر صرف اپنی بیٹی کے لیے نہیں گئی تھی؛ میں ان تمام 23 طلبہ کے لیے گئی تھی جنہوں نے خودکشی کی۔ جو مظاہرین وہاں پرامن طریقے سے اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں، وہ بھی ہمارے بچوں کے لیے ہی وہاں موجود ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ مرنے والے بچوں کو کبھی جانتے بھی نہ ہوں، پھر بھی وہ وہاں کھڑے ہیں۔‘
اس جوڑے کی دو اور بیٹیاں ہیں جو اسکول جاتی ہیں۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے جنتر منتر جانا تو کہیں زیادہ آسان تھا، لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی ہیں کہ اس غم سے گزرنے والے اپنے بچوں کو کیسے سنبھالیں۔
اس واقعہ سے غمزدہ ماں نے کہا،’میں ابھی بھی اپنے غم سے باہر نہیں آ سکی ہوں۔ پیپر لیک جیسی اپنی غلطیوں کے بعد این ٹی اے فوراً دوبارہ امتحان کرانے کا حکم دے دیتا ہے۔ ووٹر کے طور پر جب حکومت ناکام ہوتی ہے تو کیا ہمیں بھی دوبارہ ووٹ دینے کا موقع نہیں ملنا چاہیے؟ وہ ایسے غلط فیصلے لے رہے ہیں جن کی وجہ سے اتنے سارے طلبہ اپنی جان گنوا رہے ہیں… وہ اور کتنے طلبہ کی جان لینا چاہتے ہیں؟‘
انہوں نے غصے میں کہا،’بچے اتنے دباؤ میں ہیں کہ وہ ٹوٹ رہے ہیں۔ حکومت سے کوئی سوال کیوں نہیں پوچھ رہا؟ اگر وہ حکومت نہیں چلا سکتے تو انہیں ووٹ دے کر اقتدار سے باہر کر دینا چاہیے۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔