طلبہ تحریک: وزیراعظم نے پھر وہی وعدہ دہرایا، جو تین برس میں چار بار کر چکے ہیں

گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی

نئی دہلی:پیپرلیک اور دوسرے معاملوں کو لے کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی نوجوانوں کی تحریک کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات (23 جولائی) کو اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپناپہلا بیان دیا۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ ’پیپر لیک میں ملوث افراد کو جلد اور سخت سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور مستقبل سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں‘اور’جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچائیں گے، انہیں بخشانہیں کیا جائے گا۔‘

پی ایم مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے مفادات اور ان کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کے سلسلے میں یہ ایک اہم قدم ہے، اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کوبخشا نہیں جائے گا۔

تاہم، اس دوران وزیراعظم نے جنتر منتر پر جاری احتجاج، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں وزیراعظم نے پارلیامنٹ اور انتخابی ریلیوں، دونوں ہی جگہوں پر کئی بار تقریباً انہی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے یہی وعدے دہرائے ہیں۔

اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں-

جولائی 2024

صرف دو سال قبل پارلیامنٹ میں بولتے ہوئے وزیراعظم مودی نے تقریباً انہی الفاظ میں ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ 2 جولائی 2024 کو صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو’حکومت چھوڑے گی نہیں۔‘

انہوں نے کہا تھا،’محترم صدر جمہوریہ نے بھی اپنے خطاب میں پیپر لیک کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ میں ملک کے ہر طالبعلم اور نوجوان سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بہت فکرمند ہے، اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے جنگی سطح پر اقدامات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا،’جو لوگ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہیں، انہیں بالکل بھی بخشا نہیں کیا جائے گا۔ نیٹ معاملے میں ملک بھر میں مسلسل گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ مرکزی حکومت پہلے ہی ایک سخت قانون بنا چکی ہے، اورامتحانات کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

اس کے اگلے ہی روز، 3 جولائی 2024 کو، انہوں نے راجیہ سبھا میں اپنے جواب کے دوران بھی اسی طرح  کا بیان دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا،’میں ملک کے نوجوانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ حکومت ان لوگوں کو ہرگز نہیں چھوڑے گی جنہوں نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ جن لوگوں نے ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے، انہیں کڑی سے کڑی سزا دلانے کے لیے مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

ان کے مطابق،’ہم نے پارلیامنٹ میں ان بے ضابطگیوں کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں۔ ہم پورے نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں میرے ملک کے نوجوانوں کو کسی قسم کی پریشانی یا تشویش کا سامنا نہ کرنا پڑے، وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں اور انہیں ان کا حق مل سکے۔ ہم اسی سمت میں کام کر رہے ہیں۔‘

یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب اسی سال 18 جون کو منعقد یو جی سی-نیٹ کا امتحان، 19جون کو بے ضابطگیوں کے باعث رد کر دیا گیا تھا۔ایسی خبریں آئی تھیں کہ امتحان کی شفافیت اور سکیورٹی پر سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ امتحان رد کرنے کا یہ فیصلہ نیٹ-یو جی امتحان، جو اسی سال 5 مئی کو منعقد ہوا تھا، میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران لیا گیا تھا۔

فروری 2024

اسی طرح فروری 2024 میں 17ویں لوک سبھا کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے اسی ماہ ’پبلک اگزامینیشنز (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) بل، 2024، ‘ منظور کیا تھا، کیونکہ پیپر لیک کے واقعات نے نوجوانوں کو ناراض کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا،’پیپر لیک کی وجہ سے ہمارے نوجوان پریشان اور فکرمند رہتے تھے۔ نوجوان سسٹم سے ناراض تھے۔ اسی لیے پارلیامنٹ نے ایک سخت قانون منظور کیا۔‘

دسمبر 2024

اس کے چند ماہ بعد، راجستھان میں بی جے پی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا  تھاکہ جہاں پیپر لیک’راجستھان کی پہچان‘بن چکے تھے، وہیں بی جے پی حکومت نے ان کی جانچ شروع کی۔

انہوں نے کہا تھا،’پچھلی حکومت نے راجستھان کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی۔ پیپر لیک اور بھرتیوں میں دھوکہ دہی راجستھان کی پہچان بن گئے تھے۔ بی جے پی حکومت نے جانچ شروع کی اور کئی لوگوں کو گرفتار کیا۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی حکومت نے نئی بھرتیاں بھی کی ہیں۔‘

انہوں نےکہا تھا،’پیپر لیک کی وجہ سے ہمارے نوجوان پریشان اور فکرمند رہتے تھے۔ نوجوان سسٹم سے ناراض تھے۔ اسی لیے پارلیامنٹ نے ایک سخت قانون پاس کیا۔‘

نومبر 2023

اسی طرح 2023میں راجستھان اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم مودی نے کانگریس پر ریاست میں امتحانات کے پرچے فروخت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیپر لیک میں ملوث افراد کو جیل بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا،’ملک بھر سے طلبہ پڑھائی کے لیے کوٹہ آتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے گزشتہ پانچ برسوں میں بار بار نوجوانوں کے خواب توڑے ہیں۔ کانگریس نے تمام امتحانات کے پرچے بیچے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پیپر لیک میں ملوث ہر شخص کو جیل بھیجا جائے گا۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے۔‘

اس سے ٹھیک ایک ماہ قبل، 5 اکتوبر 2023 کو راجستھان میں انتخابی مہم کے دوران بھی وزیر اعظم مودی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو وہ کانگریس کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے پیپر لیک مافیا کا خاتمہ کر دے گی۔

انہوں نے کہا تھا،’کانگریس کے پیپر لیک مافیا نے راجستھان میں لاکھوں طلبہ کا مستقبل برباد کر دیا ہے۔ راجستھان کے نوجوان انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران کانگریس نے بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن پارٹی نے نوجوانوں کو پیپر لیک مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ بی جے پی کی نئی حکومت ایسے پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے کہا تھا،’یاد رکھیے، بی جے پی آئے گی، راجستھان کو روزگار ملے گا، پیپر مافیا ختم ہو جائے گا۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔