پاسپورٹ شہریت کا ثبوت ہے یا نہیں: تنازعہ کے بعد وزارت خارجہ نے اپنے سابقہ بیان سے دوری اختیار کی

گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔

گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔

ہندوستانی پاسپورٹ کی علامتی تصویر۔ (فوٹو: وکی میڈیا کامنس/ مرلی ایس آر/ سی سی بی وائی-ایس اے 4.0 ڈی ای ای ڈی)

نئی دہلی:ہندوستان کا پاسپورٹ سفری دستاویز ہے یا شہریت کا ثبوت بھی، یہ سوال اس وقت تنازعہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے جواب میں منگل (14 جولائی) کو وزارت خارجہ نے پاسپورٹ ایکٹ 1967 کی تعریف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے بیرون ملک سفر کو منظم کرتا ہے۔

معلوم ہو کہ گزشتہ ماہ وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر افسر کے اس بیان پر تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم، منگل (14 جولائی) کو جب اس معاملے پر وزارت خارجہ سے براہ راست سوال کیا گیا تو اس کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس بات کو دہرانے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے پاسپورٹ ایکٹ 1967 کی زبان کو دہرایا۔

انہوں نے کہا،’ہندوستانی پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے جو حکومت ہند پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت جاری کرتا ہے، تاکہ ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کیا جا سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاسپورٹ ایک طے شدہ عمل اور ضروری جانچ پڑتال کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی شہریوں یا دیگر افراد کو پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل پاسپورٹ ایکٹ 1967 اور پاسپورٹ رول 1980 کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق، ’اس وقت ہندوستان کے 8 فیصد سے بھی کم شہریوں کے پاس پاسپورٹ ہے۔‘

گزشتہ25جون کو وزارت کی جانب سے دیے گئے بیان سے الگ جیسوال نے یہ نہیں دہرایا کہ پاسپورٹ ’شہریت کا دستاویز نہیں ہے‘۔ اس کے بجائے انہوں نے بار بار کہا کہ پاسپورٹ ’ہندوستانی کے شہریوں‘ کو جاری کیے جاتے ہیں، جو پاسپورٹ ایکٹ کی زبان سے مطابقت رکھتا ہے۔

وزارت کی سابقہ وضاحت ان سوالوں کے جواب میں سامنے آئی تھی جن میں پوچھا گیا تھا کہ کیا ایس آئی آرکے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کو چیلنج کرنے کے لیے ہندوستانی پاسپورٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت وزارت خارجہ کے ایک افسر نے کہا تھا کہ اگرچہ پاسپورٹ بیرونِ ملک سفر کے دوران ہندوستانیوں کی قومیت کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ سفری دستاویز ہے، ’شہریت کا دستاویز نہیں‘۔

افسر نے یہ بھی کہا تھا کہ پاسپورٹ مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی جاری کیے جاتے ہیں اور متعلقہ حکام کو یہ اطمینان کرنا ہوتا ہے کہ درخواست گزار پاسپورٹ حاصل کرنے کا حقدار ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان باتوں نے وسیع توجہ حاصل کی تھی، کیونکہ پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 6 (2)(اے)کے تحت پاسپورٹ حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر درخواست گزار ہندوستان کا شہری نہ ہو تو اسے پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔

اسی طرح اس قانون کی دفعہ 20مرکزی حکومت کو بعض مخصوص حالات میں غیر شہریوں کو پاسپورٹ یا سفری دستاویز جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ حکومت کے پاسپورٹ مینوئل میں بھی پاسپورٹ کو شناخت اور سفری دستاویز قرار دیا گیا ہے جو ’ہولڈر کی شہریت کا ثبوت فراہم کرتا ہے‘، اورساتھ ہی ان قانونی استثنائی صورتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت غیر شہریوں کو سفری دستاویز جاری کیے جا سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گیا کیونکہ بہار میں ایس آئی آرکے عمل کے لیے الیکشن کمیشن نے جن دستاویزوں کو قابل قبول قرار دیا تھا، ان میں پاسپورٹ بھی شامل تھا؛ جبکہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی سے متعلق جاری قانونی اور سیاسی بحث میں یہ سوال اہم رہا ہے کہ کون سے دستاویز ہندوستانی شہریت کوثابت کرتے ہیں۔