الیکشن کمیشن نے انتخابی قواعد میں ضروری ترمیم کیے بغیر ہی فارم-6 میں نئی شق شامل کی

ملک کی کئی ریاستوں میں جاری ایس آئی آرکے درمیان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے نئے اہتمام کے تحت اب نئے درخواست دہندگان کو بتانا ہوگا کہ کیا ان کا یا ان کے والدین کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں شامل تھا یا نہیں۔ تاہم، عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960 کے تحت فارم-6 ایک قانونی فارم ہے، اور اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں بلکہ مرکزی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارت قانون کےنوٹیفکیشن کے ذریعے قواعد میں تبدیلی کرتی ہے۔

ملک کی کئی ریاستوں میں جاری ایس آئی آرکے درمیان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے نئے اہتمام کے تحت اب نئے درخواست دہندگان کو بتانا ہوگا کہ کیا ان کا یا ان کے والدین کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں شامل تھا یا نہیں۔ تاہم، عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960 کے تحت فارم-6 ایک قانونی فارم ہے، اور اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں بلکہ مرکزی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارت قانون کےنوٹیفکیشن کے ذریعے قواعد میں تبدیلی کرتی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:الیکشن کمیشن نے پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے والے نئے ووٹروں کے لیے آن لائن رجسٹریشن کے عمل میں ایک نئی شق نافذ کی ہے۔ اب فارم-6 بھرنے والے درخواست دہندگان کو اپنے والدین کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر)کی جانکاری بھی دینی ہوگی۔ اگر آن لائن درخواست کے دوران یہ اعلامیہ بھرا نہیں جاتا، تو درخواست آگے نہیں بڑھے گی۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، نئے اہتمام کے تحت درخواست دہندگان کو یہ بتانا ہوگا کہ کیا ان کا یا ان کے والدین کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں شامل تھا یا نہیں۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے پورٹل  ای سی آئی نیٹ پر آن لائن فارم-6 میں ‘جے’ اور ‘کے’ سیکشن کے درمیان ایک نیا ‘ڈیکلریشن’ شامل کیا ہے۔

درخواست دینے والے کو تین اختیارات دیے گئے ہیں-

میرا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں موجود ہے۔

میرے والدین/دادا دادی کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں موجود ہے۔

نہ میرا اور نہ ہی میرے والدین کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی ووٹر لسٹ میں تھا۔

اگر درخواست دہندہ پہلے یا دوسرے آپشن کا انتخاب کرتا ہے تو اسے متعلقہ اسمبلی حلقہ، پولنگ اسٹیشن اور ووٹر لسٹ میں درج سیریل نمبر بھی دینا ہوگا۔ اگر یہ معلومات دستیاب نہ ہوں تو صرف تیسرا آپشن منتخب کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اس نئی شق کو سرکاری طور پر لازمی قرار نہیں دیا گیا، لیکن جب تک اسے پر نہ کیا جائے، آن لائن درخواست آگے نہیں بڑھتی۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ ہونے والے آف لائن فارم-6 میں یہ نیا سیکشن موجود نہیں ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک گیرایس آئی آرعمل کی جانچ جاری ہے۔

اخبار کے مطابق، اس عمل کے تحت گزشتہ سال سے اب تک 10 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ سے 5.58 کروڑ سے زائد نام ہٹائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان لوگوں کے بچوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا انتظام ان تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے آن لائن پورٹل پر نظر آ رہا ہے جہاں 2025-26 کے دوران ایس آئی آر مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔ تاہم، بہار، جہاں یہ عمل سب سے پہلے شروع ہوا تھا، اور آسام، جہاں اس وقت ایس آئی آر نہیں ہو رہا، وہاں یہ نیا انتظام نظر نہیں آ رہا۔

حالاں کہ، الیکشن کمیشن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اگر کوئی درخواست دہندہ تیسرا آپشن منتخب کرتا ہے، یعنی اس کا یا اس کے والدین کا نام گزشتہ ایس آئی آر میں شامل نہیں تھا، تو اس کی درخواست کی جانچ یا کارروائی پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ آن لائن تبدیلی رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 میں کسی متعلقہ ترمیم کے بغیر نافذ کی گئی ہے۔

اخبار نے عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کی دفعہ 28 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے،’مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد، سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کرکے ہی اس ایکٹ کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔’

اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے دو سابق سینئر عہدیداروں نے کہا کہ فارم میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے لیے پہلے قواعد میں ترمیم ضروری ہوتی ہے۔

ایک سابق عہدیدار نے اخبار کو بتایا،’الیکشن کمیشن اپنی طرف سے فارم میں ایک کاما بھی شامل نہیں کر سکتا۔’

رپورٹ کے مطابق، عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960 کے تحت فارم-6 ایک قانونی فارم ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم کا اختیار مرکزی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرکے قواعد میں تبدیلی کرتی ہے۔

مثال کے طور پر، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب پارلیامنٹ نے 2021 میں ووٹر لسٹ کو آدھار سے جوڑنے کا قانون منظور کیا تھا، تو 17 جون 2022 کو وزارت قانون نے سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرکے عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کے تحت فارم-6 میں تبدیلیاں کی تھیں۔ یعنی پہلے قواعد میں ترمیم کی گئی، پھر فارم میں تبدیلی کی گئی۔ تاہم، اس بار اب تک ایسا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا ہے۔