پاسپورٹ تنازعہ: کیا پردے کے پیچھے مودی حکومت کا کوئی خوفناک عمل جاری ہے؟

کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ  کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ  کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکروورتی۔

گزشتہ25جون 2025 کو وزارت خارجہ کے ایک گمنام افسر نے غیر رسمی طور پر یہ بیان دے کر تنازعہ کھڑا کر دیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز ہے اور یہ شہریت کا ثبوت نہیں ہوتا۔

گویا یہ بات بذات خود کم تشویشناک تھی کہ نریندر مودی حکومت اس سے بھی زیادہ خطرناک دعوے پر مصر ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے قانونی طور پر جاری کیا گیا، اور ہر لحاظ سے درست و مستند سمجھا جانے والا پاسپورٹ بھی کسی ہندوستانی کی شہریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

تاہم، اس دعوے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ حکومت سرکاری طور پر سامنے آنے کے بجائے گمنام’ ذرائع‘اور بغیر چوں و چرا ان کی بات مان لینے والےمیڈیا کے ذریعے اس کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس دعوے کی ساکھ پر سوال کھڑے ہو جاتے  ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی حکومت کا کوئی بھی سینئر وزیر یا افسر اپنا نام ظاہر کرتے ہوئے ملک کے پاسپورٹ کی ساکھ اور وقار پر کیے جا رہے اس سیاسی حملے کی ذمہ داری لینے کے لیے سامنے نہیں آیا۔

فرضی دلائل

حکومت کے قریبی میڈیا میں جن گمنام ’ذرائع‘کے حوالے سے باتیں کی جا رہی ہیں، وہ دو بنیادی دلائل دے رہے ہیں، اور دونوں ہی بالکلیہ گمراہ کن ہیں۔

پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاسپورٹ ایکٹ، 1967 کی دفعہ 20 حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر وہ عوامی مفاد میں ضروری سمجھے تو کسی ایسے شخص کو بھی پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے جو ہندوستانی شہری نہ ہو۔

اسی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ کسی شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہونا اس کی ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

اصل میں،پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 20 ایک استثنائی شق (ایکسپیشنل سیونگ کلاز)ہے۔ ممکنہ طور پر؛اسے اس لیے بنایا گیا تھا کہ غیر معمولی حالات میں ہندوستان اپنے کسی غیر ملکی خفیہ اتحادی، ایجنٹ یا کسی دوست ملک کے فرد کی مدد کے لیے اسے ہندوستانی پاسپورٹ جاری کر سکے۔

لیکن کیا اس ایک استثنیٰ کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 99.9999 فیصد ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈر، جو دراصل  ہندوستانی شہری ہیں، ان کے لیے بھی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں مانا جائے گا؟

غور طلب ہے کہ حکومت ان چند غیر ملکی افراد کی فہرست کو انتہائی خفیہ رکھتی ہے، جنہیں دفعہ 20 کے تحت ہندوستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے۔ فرض کریں کہ 1967 سے اب تک ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں تک بھی پہنچ گئی ہو، تب بھی آج قانونی ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والے کی تعداد ممکنہ طور پربہت کم ہوگی۔

ایسی صورت میں اگر کسی شخص کی شہریت کے بارے میں شبہ ہو تو وزارت داخلہ کے محفوظ ڈیٹا بیس میں ایک معمولی سے سرچ کے ذریعے فوراً معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری ہے یا نہیں۔ یعنی حکومت کے پاس ایسا ریکارڈ موجود ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ’پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہو سکتا کیونکہ کچھ غیر ہندوستانیوں کو بھی پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں‘ایک کمزور دلیل ہے۔

دوسری  دلیل، جسے مشتہرکیا جا رہا ہے، وہ 2013 میں بامبے ہائی کورٹ کے ایک فیصلے پر مبنی ہے۔ یہ معاملہ چار مبینہ بنگلہ دیشی شہریوں سے متعلق تھا، جن پر فراڈ کرکے ہندوستانی پاسپورٹ، برتھ سرٹیفکیٹ اور آدھار کارڈ سمیت دیگر ہندوستانی دستاویزحاصل کرنے کا الزام تھا۔

حالاں کہ جسٹس کے یو چاندی وال کا فیصلہ آن لائن دستیاب نہیں ہے، لیکن ٹائمز آف انڈیا نے 3 ستمبر 2013 کو اس معاملے پر ’پاسپورٹ الون نو پروف آف سٹیزن شپ: بامبے ہائی کورٹ‘ (صرف پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں: بامبے ہائی کورٹ) کے عنوان سے خبر شائع کی تھی۔

اگر ان’ذرائع‘نے واقعی اس خبر کو پڑھنے کی زحمت کی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ؛(الف)خبر میں کہیں بھی جج کے حوالے سے وہ بات نہیں کہی گئی جو سرخی میں لکھی گئی ہے۔اور (ب)اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ جج نے اپنے فیصلے (جو اب دستیاب نہیں) میں سرخی میں درج بات واضح طور پر لکھی تھی، تب بھی جس معاملے کی سماعت ہو رہی تھی، اس میں متعلقہ پاسپورٹ پہلے ہی ’رد ‘کیے جا چکے تھے، ممکنہ طور پراس لیے کہ حکومت کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔


بامبے ہائی کورٹ نے ایک شخص اور تین دیگر افراد کو راحت دینے سے انکار کر دیا، جن پر غیر قانونی تارکین وطن ہونے کا الزام تھا، حالانکہ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں، پاسپورٹ (جو بعد میں رد کر دیے گئے)، آدھار کارڈ اور برتھ سرٹیفکیٹ پیش کیے تھے۔


دوسرے لفظوں میں، یہ سوال کہ کیا ایک قانونی طور پر درست ہندوستانی پاسپورٹ بذات خود شہریت کا ثبوت سمجھا جا سکتا ہے، ابھی تک عدالتوں کی جانب سے حتمی طور پر طے نہیں کیا گیا ہے۔

فراڈ ثابت ہونے تک شہریت کی قانونی حیثیت

جہاں حکومت نے میڈیا میں گمنام ذرائع اور کمزور دلائل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، وہیں یہ خوش آئند ہے کہ سابق سکریٹری خارجہ نروپما راؤ نے وزارت خارجہ کے اس مؤقف کو، کہ پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا، زیادہ معقول انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا؛


’پاسپورٹ صرف اسی وقت جاری کیا جاتا ہے جب حکومت اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ آپ ایک ہندوستانی شہری ہیں۔ اس لیے روزمرہ کی زندگی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سفر میں بھی یہ شہریت کا ایک مضبوط ثبوت ہوتا ہے۔ لیکن اگر عدالت میں شہریت کے حوالے سے کوئی قانونی تنازعہ پیدا ہو جائے، تو اس صورت میں شہریت ایکٹ ہی نافذ العمل قانون ہوگا، اور پاسپورٹ ایسا آخری اور فیصلہ کن ثبوت نہیں ہوگا جو دیگر تمام شواہد کو غیر متعلق بنا دے۔‘


ایک سطح پر دیکھیں تو یہ ایک عام قانونی اصول ہے، جو ان تمام معاملوں پر لاگو ہوتا ہے، جہاں کسی قانونی دستاویز کی حیثیت کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کو اپنے کسی مرحوم رشتہ دار کی جائیداد وصیت کی بنیاد پر ملتی ہے، تو وہ وصیت اس جائیداد پر اس کے قانونی قبضے اور ملکیت کا مضبوط ثبوت ہوتی ہے۔ لیکن اگر وصیت کے بارے میں عدالت میں تنازعہ پیدا ہو جائے، تو اس معاملے میں وراثت سے متعلق نافذ ہوگا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وصیت کو ایسا آخری اور فیصلہ کن ثبوت نہ مانا جائے جو دیگر تمام شواہد کو غیر متعلق قرار دے دے۔

لیکن ذرا تصور کیجیے کہ اگر کل امت شاہ یہ اعلان کر دیں کہ باقاعدہ رجسٹرڈ وصیت کو اب وراثت کا ثبوت نہیں مانا جائے گا، تو اس کے کتنے سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اگرچہ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ شہریت سے متعلق معاملوں میں شہریت ایکٹ ہی سب سے بڑا قانون ہے، لیکن نروپما راؤ کی اس وضاحت میں ایک اہم بات کا اضافہ ضروری ہے۔ جب تک کسی قانونی اور باقاعدہ عمل کے ذریعے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ہندوستانی پاسپورٹ دھوکہ دہی، جعلسازی یا فریب کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے، اس وقت تک ہندوستانی پاسپورٹ کے ساتھ شہریت کی ایک مضبوط قانونی حیثیت وابستہ رہنی چاہیے۔

اگر کسی شخص کی شہریت کے بارے میں قانونی تنازعہ پیدا ہو اور بعد میں یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے پاسپورٹ پاسپورٹ ایکٹ یا شہریت ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دھوکہ دہی یا جعلی دستاوی کی بنیاد پر حاصل کیا تھا، تو قانون حکومت کو اس پاسپورٹ کو ضبط یا رد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

دراصل، پاسپورٹ کی منسوخی کا یہ نظام اسی لیے رکھا گیا ہے تاکہ پاسپورٹ کے تقدس کی حفاظت کی جا سکے۔

چونکہ پاسپورٹ ہونا ہندوستانی شہری ہونے کی لازمی شرط نہیں ہے، اور ہندوستان کی صرف تقریباً 10 فیصد آبادی کے پاس ہی پاسپورٹ ہے، اس لیے صرف پاسپورٹ کے رد ہو جانے محض سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ کوئی شخص ہندوستانی شہری نہیں رہ گیا۔

شہریت ایکٹ واضح کرتا ہے کہ ہندوستانی شہریت درج ذیل بنیادوں پر حاصل کی جا سکتی ہے؛(الف)اگر آپ کی پیدائش 1987 سے پہلے ہندوستان میں ہوئی ہو؛ یا(ب)اگر آپ کی پیدائش 1987 کے بعد ہندوستان میں ہوئی ہو، تو آپ کے والدین میں سے کم از کم ایک ہندوستانی شہری ہو؛(ج)اگر آپ کی پیدائش 2003 کے بعد ہندوستان میں ہوئی ہو، تو والدین میں سے کم از کم ایک ہندوستانی شہری ہو اور دوسرا والدین ہندوستان میں غیر قانونی طور پر مقیم نہ ہو؛(د)ہندوستان میں رہائش، شادی، نسب، پناہ گزین کی حیثیت، یا قانون میں مقرر دیگر بنیادوں پر رجسٹریشن کے ذریعے۔

حالاں کہ، ان تمام صورتوں میں یہ شرط لاگو ہوتی ہے کہ متعلقہ شخص نے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار نہ کی ہو۔

جب کسی شخص کوہندوستانی پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت ہند اس بات کی تصدیق کر چکی ہوگی کہ درخواست گزار مذکورہ بالا کسی ایک زمرے میں آتا ہے، کیونکہ صرف ہندوستانی شہری ہی ہندوستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ دراصل، پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 6(2) کے تحت پاسپورٹ کی درخواست مسترد کرنے کی پہلی اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ؛درخواست گزار بھارت کا شہری نہیں ہے۔

ہر درخواست گزار کو اپنی شہریت کی بنیاد (پیدائش، نسل یا قدرتی شہریت) بتانے کے لیے چیک لسٹ میں ایک باکس پر ٹک کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، اگر بعد میں یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے اس حوالے سے جھوٹی معلومات دے کر پاسپورٹ حاصل کیا  ہے، تو پاسپورٹ جاری کرنے والے افسر کو پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاسپورٹ ضبط یا رد کر دے۔

بامبے ہائی کورٹ نے 2025  میں کیا کہا

دراصل، 2025 میں بامبے ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ بھی آیا تھا، جس میں جسٹس امت بورکر نے 2013 کے ایک کافی ملتے جلتے ایک تنازعہ کی سماعت کی تھی۔ یہ فیصلہ اس پورے مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

تھانے کے رہائشی بابو عبدالرؤف سردار کو حکام نے بنگلہ دیشی شہری قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ (ووٹر آئی ڈی)، پین کارڈ اور پاسپورٹ سمیت ہندوستانی حکام کی جانب سے جاری کردہ کئی دستاویز  ہیں۔

استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام دستاویز دھوکہ دہی سے حاصل کیے گئے تھے۔ اس کی حمایت  میں استغاثہ نے سردار کے موبائل فون سے برآمد ان کے مبینہ بنگلہ دیشی برتھ سرٹیفکیٹ کا حوالہ دیا۔

دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس امت بورکر نے کہا؛


میرے خیال میں ہندوستان میں کسی شخص کی قومیت (شہریت) سے متعلق سوالوں کا فیصلہ کرنے والا بنیادی اور حتمی قانون شہریت ایکٹ، 1955 ہے۔ یہی قانون طے کرتا ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہو سکتا ہے، شہریت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے، اور کن حالات میں اسے کھویا جا سکتا ہے۔ محض آدھار کارڈ، پین کارڈ یا ووٹر شناختی کارڈ جیسے دستاویز کا ہونا بذات خود کسی شخص کو ہندوستانی شہری نہیں بنا دیتا۔

یہ دستاویز شناخت ثابت کرنے یا مختلف سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، لیکن یہ شہریت ایکٹ میں مقرر کردہ بنیادی قانونی تقاضوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ جج نے اپنے فیصلے میں آدھار اور پین کارڈ (جن کے لیے غیر شہری بھی درخواست دے سکتے ہیں) اور ووٹر شناختی کارڈ (جس کے لیے صرف ہندوستانی شہری ہی درخواست دے سکتے ہیں) کا ذکر کیا، لیکن ان دستاویزوں کی فہرست میں پاسپورٹ کو شامل نہیں کیا، جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ہونا ’بذات خود کسی شخص کو ہندوستانی شہری نہیں بنا دیتا۔‘

حالانکہ سردار کے وکیل نے عدالت کے سامنے ان کے ہندوستانی پاسپورٹ کا بھی حوالہ دیا تھا۔ بھلے ہی اسے جج کی ایک غیر ارادی کوتاہی سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جسٹس بورکر کے فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں اصل سوال یہ نہیں تھا کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت ہے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ کیا وہ پاسپورٹ دھوکہ دہی سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں؛


جب کسی شخص پر یہ الزام ہو کہ اس کی شناخت فرضی ہے یا وہ غیر ملکی نژاد ہے، تو عدالت صرف اس کے پاس موجود چند شناختی دستاویزوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر سکتی۔ ایسے معاملوں میں شہریت کے دعوے کی جانچ شہریت ایکٹ، 1955 کی دفعات کے مطابق ہی کی جانی چاہیے۔


قانونی حیثیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر دھوکہ دہی کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، توفطری طور پر یہ جانچ کرنی ہوگی کہ کیا وہ حقیقت میں پاسپورٹ حاصل کرنے کا اہل تھا ۔ اس مقصد کے لیے اس کے معاملے کی ابتدا سے ازسرنو شہریت ایکٹ کی دفعات کے مطابق جانچ کی جانی چاہیے۔

لیکن اگر کسی شخص پر نہ تو دھوکہ دہی کا الزام ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی شبہ موجود ہو، تو یہ ماننے کی قانونی بنیاد موجود ہوگی کہ ایک درست اور قانونی ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والا شخص ہندوستانی شہری ہی ہے۔

دراصل، چونکہ برتھ سرٹیفکیٹ میں بایومیٹرک شناخت موجود نہیں ہوتی، اس لیے اگر کبھی ہندوستان میں یا بیرون ملک کسی ہندوستانی شہری کو اپنی شہریت ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئے، تو پاسپورٹ ہی وہ دستاویز ہے جس کے ذریعے وہ آسانی سے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کر سکتا ہے۔

اس پورے تنازعے کو سمجھنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ جعلی دستاویزوں کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہندوستانی پاسپورٹ کا موازنہ جعلی ہندوستانی کرنسی سے کیا جائے۔ دونوں بظاہر حکومت ہند کی جانب سے جاری کیے گئے معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کی شناخت کر کے انہیں چلن سے باہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

لیکن جس طرح جعلی نوٹوں کی موجودگی سے ہندوستانی روپیہ لین دین کے ایک جائز ذریعے کے طور پر اپنی حیثیت نہیں کھوتا اور نہ ہی اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اسی طرح حکومت کے ’ذرائع‘بھی کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹ اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ اصلی کرنسی ہے۔

اسی طرح اگر کچھ غیر شہری دھوکہ دہی کے ذریعے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کر بھی لیں، تو اس سے ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر غیر معتبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آبادی کو لے کر ڈر پھیلانے کی سیاست

شہریت کے ثبوت کے طور پر پاسپورٹ کو ناقابل قبول قرار دینے کے سرکار کے فیصلے سے جو ہنگامہ ہوا ہے، اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔

کم و بیش  ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات اور سہولیات تک رسائی تقریباً سب کے لیے یکساں تھی۔ یعنی عام طور پر کسی شخص کی شہریت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا تھا۔ لیکن نریندر مودی کی آبادیاتی عدم تحفظ پر مبنی جارحانہ سیاست کے دور میں صورتحال تبدیل ہوگئی۔ اب لاکھوں غریب ہندوستانیوں، خصوصی طور پر مسلمانوں، کو ووٹ ڈالنے کے حق، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ کہ رہائش (ڈومیسائل) سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

دوسری وجہ ہے، مودی حکومت سیاسی محرکات پر مبنی انتظامی من مانی کے ذریعے شہریت کی نئی تشریح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر عمل سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا مقصد ان افراد کو حق رائے دہی سے محروم کر کے سزا دینا ہے جنہیں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی سیاسی طور پر مشکوک سمجھتی ہے۔

آخرمیں حکومت کا مقصدحقیقی (بونافائیڈ) ہندوستانی شہریوں کی شہریت تک چھین لینا بھی ہو سکتا ہے۔ شہریت (ترمیمی) قانون(سی اے اے) اور این آر سی کے ذریعے امت شاہ بھی یہی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن آسام میں اس عمل کے نتائج ایسے سامنے آئے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہندو’غیر ملکی ‘کے زمرے میں آ گئے۔

5 جنوری 2026 کو مغربی بنگال کے ضلع ندیا میں ایس آئی آرکے تحت دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کے ایک مرکز پر لوگوں کی بھیڑ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

جدید جمہوری ریاستیں اپنی انتظامی مشینری کو من مانے فیصلوں اور بدعنوانی سے محفوظ رکھنے کے لیے واضح قوانین اور طریقہ کار وضع کرتی ہیں۔

پاسپورٹ کے معاملے میں بھی ہندوستانی ریاست نے پاسپورٹ ایکٹ (اور بالواسطہ طور پر شہریت ایکٹ) کی بنیاد پر ایسے قواعد بنائے ہیں جو سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ہر درخواست گزار کو انہی قوانین اور شرائط پر پورا اترنا ہوتا ہے، تبھی اسے پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔

پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت ایک مقررہ فارم پُر کرنا ہوتا ہے، جس میں جائے پیدائش، شہریت کی بنیاد (مثلاً پیدائش، نسب یا نیچرلائزیشن) اور دیگر ذاتی معلومات دینی ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تاریخ پیدائش اور رہائش کے ثبوت بھی جمع کرانے ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ان معلومات کی تصدیق کے لیے پولیس ویریفکیشن کی جاتی ہے۔ تصدیق کیے جانے اور تمام شرائط پوری ہونے کے بعد ہی پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔


غور طلب ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ درخواست فارم میں 1987 کے بعد پیدا ہونے والے درخواست گزاروں سے ان کے والدین کی شہریت کا ثبوت طلب نہیں کیا جاتا۔ یہی نہیں، درخواست کے ساتھ پیدائش کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا بھی لازمی نہیں، اور نہ ہی جائے پیدائش کا دستاویزی ثبوت دینا ضروری ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ ملک کے بیشتر لوگوں کے لیے ایسے دستاویز حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس لیے درخواست گزار اپنی طرف سےایک تصدیق شدہ حلف نامے پر دستخط کرتا ہے، جبکہ حکومت پولیس ویریفکیشن کے ذریعے ان معلومات کی تصدیق کرتی ہے۔ جب حکومت کسی درخواست گزار کے ہندوستانی  ہونے یا شہریت سے متعلق دستاویزی ثبوت کے بجائے پولیس ویریفکیشن کو کافی سمجھ کر پاسپورٹ جاری کرتی ہے، تو بعد میں وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔


ایک بار پاسپورٹ جاری ہو جانے کے بعد، اسے اس بات کا ثبوت سمجھا جانا چاہیے کہ پاسپورٹ ایکٹ کے تحت حکومت ہند کی مقرر کردہ تمام شرائط پوری کی گئی ہیں۔ انہی قوانین کے مطابق، جو شخص ہندوستانی شہری نہ ہو، اسے ہندوستانی پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا سکتا، (سوائے دفعہ 20 میں دیے گئے ایک استثنیٰ کے، جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے)۔

دوسرے لفظوں میں، جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت درخواست گزار نے جعلی دستاویز یا غلط معلومات فراہم کی تھیں اور اسی بنیاد پر اس کا پاسپورٹ ضبط یا رد نہیں کر دیا گیا ہے، تب تک ہندوستانی پاسپورٹ کو ہندوستانی شہریت کا ثبوت سمجھا جانا چاہیے۔

یہ اصول ان تمام حالات میں لاگو ہونا چاہیے جہاں شہریت ثابت کرنا ضروری ہو، مثلاً ووٹ ڈالنے کا حق، سرکاری یا دیگر ملازمت، آئینی عہدوں پر تقرری، یا بعض سرکاری فلاحی اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنا۔

ایک بار جب مجاز اتھارٹی کسی شخص کو پاسپورٹ جاری کر دیتا ہے، تو حکومت کا کوئی دوسرا افسر یا محکمہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ آپ ہندوستانی شہری ہیں۔‘

جب تک اس کے برعکس شبہ کرنے کی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہ ہو، یہ مانا جانا چاہیے کہ ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والا شخص ہندوستانی شہری ہے۔

اگر حکومت کے کسی محکمے کو کسی شخص کی شہریت پر شبہ ہو، تو اسے خود پاسپورٹ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے بجائے اس کی اطلاع مجاز اتھارٹی کو دینی چاہیے۔ اس کے بعد یہی اتھارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا پاسپورٹ کو رد یا ضبط کرنے جیسی کوئی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔

من مانی

اگر شہریت کے حوالے سے کوئی قانونی تنازعہ پیدا ہوتا ہے، تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں شہریت کا قانون ہی نافذ العمل قانون ہوگا۔ لیکن ہندوستانی پاسپورٹ کی اہمیت کے بارے میں بغیر کسی مضبوط بنیاد کے شکوک و شبہات پیدا کر کے مودی حکومت نے ’دراندازی‘کے حوالے سے اپنے خوف پھیلانے والے بیانیے کو مزید خطرناک رخ دے دیا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وزارت داخلہ خود سرکاری طور پر یہ تسلیم کر چکی ہے کہ اس کے پاس ہندوستان میں بغیر درست دستاویز کے مقیم غیر ملکیوں کی تعداد کا کوئی مستند اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود نریندر مودی اور امت شاہ نے ایسے مبینہ’غیر ملکیوں‘کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کے مقصد سے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر کرایا۔

الیکشن کمیشن نے بھی اس عمل کو جس حد تک من مانی کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا تھا، اسی انداز میں نافذ کیا، جس کے نتیجے میں بہار، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں لاکھوں ہندوستانی ووٹر حق رائے دہی سے محروم ہو گئے۔

جیسا کہ ہم اس وقت مغربی بنگال میں دیکھ رہے ہیں، حق رائے دہی سے محروم کیا جانا صرف پہلا قدم ہے۔ جن شہریوں کو الیکشن کمیشن نے من مانے طریقے سے ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا، اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری فلاحی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کے بھی اہل نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد کیا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ’کرونولوجی سمجھیے۔‘

اصل بات یہ ہے کہ آج کسی بھی شہری کے پاس ایسا کوئی دستاویز باقی نہیں بچا  ہے،جسے حکومت اس کی شہریت کا آخری اور فیصلہ کن ثبوت ماننے کو تیار ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریت کا فیصلہ بالآخر حکام کی ذاتی تشریح اور صوابدید پر منحصر ہوگا۔

مان لیجیے کہ آپ کے پاس ایک درست ہندوستانی پاسپورٹ د ہے، پھر بھی حکومت آپ سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ طلب کر سکتی ہے۔ اگر آپ کسی طرح وہ بھی پیش کر دیں، تو کوئی افسر آپ سے یہ مطالبہ بھی کر سکتا ہے کہ آپ اپنی پیدائش کی جغرافیائی لوکیشن (جیو لوکیشن) اور وقت (ٹائم اسٹیمپ) کے ساتھ ایک ویڈیو پیش کریں، جس کی گجرات فرانزک سائنس لیبارٹری نے باقاعدہ تصدیق کی ہو۔

اور اگر کسی معجزے سے وہ بھی آپ کے پاس موجود ہو، تو آپ سے یہ ثابت کرنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی مان کے بطن سے پیدا ہونے والا وہ صحت مند نومولود درحقیقت آپ ہی ہیں۔

اور اگر آپ کی پیدائش 2003 کے بعد ہوئی ہے، تو آپ کی مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ اس صورت میں آپ سے یہ ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے والدین میں سے کوئی بھی’غیر قانونی تارکین وطن ‘نہیں تھا۔

حکومتِ ہند کے پاس اتنی انتظامی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی شہریت کی اس انداز میں جانچ پڑتال کر سکے۔ لیکن اگر بوتھ لیول اور بلاک لیول کے ووٹنگ کے رجحانات کو مذہب اور ذات پات کے اعداد و شمار کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے (اور اقتدار میں موجود چند نہایت ہوشیار لوگ بظاہر یہی کر رہے ہیں)، تو نشانے پر آنے والے افراد کی تعداد کہیں کم اور مینج کرنےکے قابل ہو جاتی ہے۔

پاسپورٹ کے تنازعے کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ یہ ہندوستانی متوسط طبقے کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ پردے کے پیچھے اس سے کہیں زیادہ گہرا اور خوفناک عمل جاری ہے۔

یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مکمل اکثریت سے محروم ہو جانے والے وزیر اعظم گویا عوام ہی کو بدل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات بریخت کے اس تند و تیز طنز کی یاد دلاتی ہے، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جب شہری ’حکومت کا اعتماد کھو دیں‘، تو حکومت کے لیے سب سے آسان راستہ یہ ہوگا کہ وہ عوام ہی کو تحلیل کر دے اور کوئی نئی عوام منتخب کر لے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)