وزارت خارجہ نے کہا – پاسپورٹ شہریت کا دستاویز نہیں، اپوزیشن نے اس بیان کو لغو بتایا

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟

علامتی تصویر: دی وائر

نئی دہلی: وزارت خارجہ کے حکام نے بدھ (24 جون) کو کہا کہ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، نہ کہ شہریت کا دستاویز۔ یہ بیان ایک ایسے قانونی اور پیچیدہ مسئلے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں طویل عرصے سے یہ سوال بنا ہوا ہے کہ کون سے دستاویز ہندوستانی شہریت کو حتمی طور پر ثابت کر سکتے ہیں۔

یہ بیان پاسپورٹ سیوا دوس کے موقع پر دیا گیا، جب وزارت نے اپنے پاسپورٹ سے متعلق کام کے وسیع پیمانے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں اس نے تقریباً 1.5 کروڑ پاسپورٹ اور متعلقہ خدمات فراہم کیں، جن میں 1.39 کروڑ پاسپورٹ شامل تھے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال چِپ والےپاسپورٹ شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک تقریباً 1.47 کروڑ ایسے پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ پولیس تصدیق کو چھوڑ کر پاسپورٹ جاری کرنے کا اوسط وقت کم ہو کر پانچ سے چھورکنگ ڈے رہ گیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے ایس آئی آرسے خارج کیے گئے افراد اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ہندوستانی پاسپورٹ استعمال کر سکتے ہیں۔

وزارت کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جواب دیا کہ اگرچہ ہندوستانی شہریوں کے بیرون ملک سفر کے دوران پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سفری دستاویز ہے اور ’شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔‘

افسر نے اس بات پر زور دیا کہ پاسپورٹ صرف’جامع جانچ پڑتال‘کے بعد اور حکام کے اس اطمینان کے بعد جاری کیا جاتا ہے کہ درخواست گزار اس کا اہل ہے۔

ان تبصروں نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ ہندوستانی قانون پاسپورٹ اور شہریت کے تعلق کے بارے میں کوئی آسان یا واضح جواب فراہم نہیں کرتا۔

قانون کیا کہتا ہے؟

پاسپورٹ ایکٹ 1967 کی دفعہ 6(2)(اے)کےمطابق،اگر درخواست گزار ہندوستانی شہری نہ ہو تو پاسپورٹ اتھارٹی کو اسے پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کرنا ہوگا۔

اسی طرح، حکومت کی پاسپورٹ مینول میں پاسپورٹ کو شناخت اور سفری دستاویز قرار دیا گیا ہے، جو’ہولڈر کی قومیت کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔‘ تاہم، اس میں یہ بھی درج ہے کہ ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت مرکزی حکومت مخصوص حالات میں غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ یا سفری دستاویز جاری کر سکتا ہے۔

مینول میں بتایا گیا ہے کہ یہ اختیار بینکاک اور یانگون میں واقع ہندوستانی مشنوں کوہندوستانی نژاد کے بعض مخصوص زمروں کے لیے اور اسی طرح احمد آباد کے پاسپورٹ افسر کو مشرقی افریقہ سے واپس آنے والے بعض ہندوستانی نژاد افراد کے لیے’سرٹیفکیٹ آف آئیڈنٹٹی‘جاری کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ بہار اور دیگر مقامات پر ایس آئی آرعمل کے دوران الیکشن کمیشن نے پاسپورٹ کو قابل قبول دستاویز میں شامل کیا تھا۔

کون سے دستاویز سے ثابت ہوگی شہریت؟

بہارایس آئی آرکو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے دلیل دی تھی کہ’آدھار‘کسی شخص کی شناخت تو ثابت کرتا ہے، لیکن شہریت نہیں، کیونکہ یہ ایسے رہائشیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے جو ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔

ایس آئی آرعمل کو درست قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ شناخت کی تصدیق کے لیے آدھار کو ایک اضافی دستاویز کے طور پر قبول کیا جائے، لیکن اسے شہریت کا ثبوت نہ سمجھا جائے۔ فیصلے میں شناخت ثابت کرنے والے دستاویزوں اور شہریت سے متعلق جانچ میں استعمال ہونے والے دستاویزوں کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا۔

حالاں کہ، یہ بڑا سوال اب بھی حل طلب ہے کہ کون سے دستاویزشہریت ثابت کر سکتے ہیں۔

گزشتہ سال مرکزی وزارت خارجہ نے پارلیامنٹ میں ان دستاویزوں کےزمرے بتانے سے انکار کر دیا جنہیں شہریت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؛ اس کے بجائے وزارت نے شہریت ایکٹ 1955 اور شہریت حاصل کرنے کے مختلف طریقوں کا حوالہ دیا، جن میں پیدائش، نسب، رجسٹریشن، نیچرلائزیشن اور علاقے کے انضمام کے ذریعے شہریت شامل ہیں۔

اس معاملے پر عدلیہ کی جانب سے بھی کوئی واضح اور متفقہ فیصلہ موجود نہیں ہے، کیونکہ مختلف معاملوں میں عدالتوں نے حالات کے مطابق مختلف نقطہ نظر اختیار کیے ہیں۔

سال2018میں پاسپورٹ سے متعلق ایک معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے شہریت کے تنازعے کی جانچ کے دوران ہندوستان پاسپورٹ جاری کیے جانے کو ایک اہم حقیقت قرار دیا اور پاسپورٹ کو قومیت کا ثبوت فراہم کرنے والا دستاویز بتایا۔

حال ہی میں بامبے ہائی کورٹ نے ایک الگ معاملے میں کہا کہ شہریت سے متعلق سوالوں کا فیصلہ بالآخر شہریت ایکٹ 1955 کے تحت ہی کیا جانا چاہیے اور انہیں صرف آدھار، پین یا ووٹر آئی ڈی کارڈ جیسے شناختی دستاویزوں کی بنیاد پر حل نہیں کیا جا سکتا۔

شہریت کا واحد ثبوت ہندو اور بی جے پی کا ووٹر ہونا ہے‘: اپوزیشن

وزارت خارجہ کے بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ جہاں کچھ لوگوں نے کہا کہ پاسپورٹ صرف ہندوستانی شہریوں کو ہی جاری کیا جا سکتا ہے، وہیں کچھ لوگوں نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر طنز کیا۔

منگل کو وزارت کے حکام کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر کپل سبل نے سوال کیا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے آخر کون سا دستاویز ہوگا۔

سبل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا،’وزارت خارجہ، 24 جون 2026؛ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا دستاویز نہیں۔‘ تو پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟‘

دریں اثنا، ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ’ایسا لگتا ہے کہ آج ہندوستانی شہریت کا واحد ثبوت ہندو ہونا اور بی جے پی کا ووٹر ہونا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا،’اس کے علاوہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔‘

وہیں، وزارت کے بیان کو’لغو‘قرار دیتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی آدتیہ ٹھاکرے نے پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے ہونے والی تصدیق پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا یہ دستاویز غیر ہندوستانیوں کو بھی جاری کیا جاتا ہے۔

ٹھاکرے نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا،’اگر وزارت خارجہ کا ماننا ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا دستاویز نہیں ہے، تو؛پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے پولیس کس چیز کی تصدیق کرتی ہے؟ اورکیا ہمارا ملک غیر ہندوستانیوں کو بھی سفری دستاویز کے طور پر پاسپورٹ جاری کرتا ہے؟‘

انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا وزارت خارجہ کا یہ بیان اب’دوسرے ممالک کے ذہنوں میں یہ شک پیدا کرے گا کہ کیاغیر ہندوستانیوں کو بھی سفری دستاویز کے طور پر ہندوستانی پاسپورٹ ملتے ہیں؟‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیامنٹ نے کہا،’اپنی انتہائی الجھی ہوئی خارجہ پالیسی کے علاوہ وزارت خارجہ اور کتنی لغویات کا مظاہرہ کر سکتی ہے؟‘

راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ اگر اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) کو ان کی شہریت پر شک ہو جائے تو انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سبل نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا،’بی ایل او میری شہریت پر شک کر سکتا ہے۔ مجھے ووٹ ڈالنے سے روک سکتا ہے، نتیجہ یہ ہوگا کہ بی جے پی الیکشن جیت جاتی ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ جائے گا! ‘

کانگریس کی کیرالہ یونٹ نے ایک طنزیہ پوسٹ میں شناختی دستاویزوں کے استعمال کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے ایکس پر کہا،’ آدھار صرف ایک کارڈ ہے۔ پین کھانا پکانے کے لیے ہے۔ ووٹر آئی ڈی دکھانے کے لیے ہے، ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں۔ انکم ٹیکس ریٹرن آپ کی آمدنی واپس کرنے کے لیے ہے۔ انتخابی حلف نامہ تخلیقی نمائش کے لیے ہے۔ اور مودی ایک مذاق ہیں! ‘