رام مندر چڑھاوا چوری: ایس آئی ٹی چیف خود دھوکہ دہی اور جعلسازی کے ملزم

رام مندر چڑھاوا چوری اور مبینہ غبن کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی کے چیف، آئی اے ایس افسر وجئے وشواس پنت کا نام مبینہ دھوکہ دہی اور جعلسازی سے متعلق  ایک مجرمانہ معاملے میں ملزم  کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف یہ معاملہ 2013 سے 2015 کے دوران مغربی اتر پردیش میں بجلی ڈسٹری بیوشن کے ایک اعلیٰ افسرکے طور پر ان کے دور میں ہونے والے واقعات سے متعلق ہے۔

رام مندر چڑھاوا چوری اور مبینہ غبن کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی کے چیف، آئی اے ایس افسر وجئے وشواس پنت کا نام مبینہ دھوکہ دہی اور جعلسازی سے متعلق  ایک مجرمانہ معاملے میں ملزم  کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف یہ معاملہ 2013 سے 2015 کے دوران مغربی اتر پردیش میں بجلی ڈسٹری بیوشن کے ایک اعلیٰ افسرکے طور پر ان کے دور میں ہونے والے واقعات سے متعلق ہے۔

رام مندر چڑھاوا گھوٹالے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کے چیف وجئے وشواس پنت۔ پس منظر میں ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کا آخری صفحہ۔

نئی دہلی: ایودھیا رام مندر چڑھاواغبن  معاملےمیں ہائی پروفائل خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی)کی قیادت کر رہے 2004 بیچ کے آئی اے ایس افسر وجئے وشواس پنت کا نام مبینہ دھوکہ دہی اور جعلسازی کے ایک مجرمانہ معاملے میں ملزم  کے طور پرسامنے آیا ہے۔

یہ معاملہ 2013 سے 2015 کے درمیان مغربی اتر پردیش میں بجلی ڈسٹری بیوشن کے محکمے کے ایک اعلیٰ افسر کے طور پر ان کی مدت کار کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2019 میں پنت ان 14 افسران میں شامل تھے، جن کے خلاف میرٹھ کے پریکشت گڑھ تھانے میں آئی پی سی کی دفعات 420 (دھوکہ دہی) اور 465 (جعلسازی) کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ افسران ویسٹرن الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن (ڈبلیو ای ڈی سی)سے وابستہ تھے۔

یہ ایف آئی آر ایک لیبر کانٹریکٹر کی شکایت پر درج کی گئی تھی۔ الزام تھا کہ محکمے کے افسران نے ان کی ادائیگی روکنے کے لیے سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی تھی۔

ایف آئی آر میں پنت کا نام ڈبلیو ای ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر شامل تھا۔ وہ 7 فروری 2013 سے 3 دسمبر 2015 تک اس عہدے پر فائز رہے، تاہم کلیدی الزامات براہ راست انہیں نشانہ بناتے نظر نہیں آتے ہیں۔

پنت اس وقت لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت وہ کانپور کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) تھے، جب 2019 میں لیبر کانٹریکٹر شیوکمار شرما کی شکایت پر یہ معاملہ درج کیا گیا تھا۔

ایس آئی ٹی چیف اور اس زیر التوا دھوکہ دہی کے معاملے کے درمیان تعلق کی خبر سب سے پہلے صحافی ابھیشیک اپادھیائے نے اپنے سوشل میڈیا چینل ’ٹاپ سیکریٹ‘پر دی تھی۔

اپادھیائے نے 8 جولائی 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’جو شخص خود دھوکہ دہی اور جعلسازی کی جانچ کے دائرے میں ہے، وہ رام مندر میں غبن، دھوکہ دہی اور جعلسازی کی جانچ کر رہا ہے! تو رام مندر کی جانچ غیر جانبدار کیسے ہوگی؟ یہ بالکل ویسی ہی ہوگی جیسا حکومت ہدایت دے گی۔

اس معاملے کی خبر پنت کی سربراہی والی ایس آئی ٹی کی جانب سے اتر پردیش حکومت کو  23 جون 2026 کو ایودھیا رام مندر میں چندےکی مبینہ چوری پر اپنی ابتدائی رپورٹ سونپنے کے دس دن بعد سامنے آئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ جولائی کے آخر تک متوقع ہے۔

اس سلسلے میں پنت اور دیگر سےمتعلق پرانے مقدمے کی جانچ کرنے والے میرٹھ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) وشو جیوتی رائے نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش ابھی بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا،’جانچ چل رہی ہے۔‘

انہوں نے اپیل کی کہ  اس معاملے سےمتعلق کوئی بھی شخص جس کے پاس ثبوت ہو ، وہ ان سے رابطہ کرے۔

وہیں، دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے رام مندر چڑھاوا غبن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اس معاملے کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے پنت کا حوالہ دیتے ہوئےکہا،’بی جے پی حکومت نے مندر کے چڑھاوےکی چوری کی جانچ  کرنے والی ایس آئی ٹی کا چیف  اس شخص کو بنایا ہے جس پر لوٹ اور غبن کے الزام ہیں۔‘

دریں اثنا، لکھنؤ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا،’ایس آئی ٹی صرف پردہ پوش ہے۔ اور میں سن رہا ہوں کہ خود ایس آئی ٹی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے ارکان  میں سے ایک آئی پی سی کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی) کے تحت ایف آئی آر کا سامنا کر رہاہے۔ اب آپ ہی بتائیے، ایسا شخص ایس آئی ٹی میں رہنے والا ہے۔‘

دی وائر نے پنت سے ان کے سرکاری نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کال کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس معاملے پر ردعمل جاننے کے لیے بھیجے گئے وہاٹس ایپ پیغام کا بھی پنت نے جواب نہیں دیا۔ ان کا جواب موصول ہونے کے بعد اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

ڈبلیو ای ڈی سی کے افسران (اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیت) کے خلاف معاملہ

شکایت کنندہ شیو کمار شرما، جو درگا الکٹریکل کے مالک ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ محکمے کے افسران نے کریکشن فلوئیڈ (وائٹنر) استعمال کیا اور آفیشیل میزر منٹ بکس میں اعداد و شمار کو اوور رائٹ کیا، تاکہ ان کی کمپنی کی جانب سے کیے گئے کام کو کافی  کم کرکے دکھایاجا سکے۔

شرما نے بتایا، ان کی کمپنی کو ستمبر 2007 میں امبیڈکر گرام وکاس یوجنا کے تحت تین گاؤں-چور، کلندی اور ملہیڑا-میں بجلی کی پہنچانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ یہ کام 31 دسمبر 2007 تک کامیابی سے مکمل ہونے کا سیلف سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا تھا، لیکن شرما کا الزام ہے کہ افسران نے ان کے بلوں کی جانچ سے بچنے کے لیے ان کی کمپنی کو ’مفرور‘قرار دیا اور ادائیگی کے بدلے کمیشن کا مطالبہ کیا۔

شرما نے دی وائر کو بتایا، ’جب میں نے ادائیگی کے بدلے کمیشن دینے سے انکار کیا تو انہوں نے سرکاری ریکارڈ پر فلوئیڈ استعمال کرنا شروع کر دیا۔‘

شرما کا الزام ہے کہ جب انہوں نے اپنی ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا تو بجلی محکمے کے افسران نے سازش کے تحت انہیں ایک بجلی کے حادثے میں غلط طریقے سے پھنسا دیا۔ یہ حادثہ تقریباً تین سال بعد، 29 اگست 2010 کو، ایک نجی کنویں سے متعلق تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے محکمے کے اندر شکایتیں درج کیس، تو انتقامی کارروائی کے طور پر ان کے خلاف تین بے بنیاد ’کاؤنٹر‘ ایف آئی آر درج کر دی گئیں۔ ان میں سے ایک ایف آئی آر ’ایس سی /ایس ٹی ایکٹ‘ کے تحت درج کی گئی تھی، جس میں ان پر سامان کے غبن کا الزام لگایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’مجھے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہراساں کیا جا رہا تھا۔‘

اس معاملے کی تحقیقات کرانے اور ایف آئی آر درج کرانے کے لیے شرما کو لمبے عرصے  تک قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت اس معاملے میں معلومات طلب کیں، لیکن بجلی محکمے نے تین سال تک انہیں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ اس کے بعد انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے حکم دیا کہ ایک ماہ کے اندر انہیں معلومات فراہم کی جائیں۔

آر ٹی آئی کے ذریعے تمام ضروری دستاویز حاصل کرنے میں تاخیر کی وجہ سے شرما نے بتایا کہ پولیس شکایت درج کرانے میں بھی کافی دیر ہوئی۔ آخر کاردسمبر 2017 میں شکایت درج کرائی گئی، جو بجلی محکمے کے ساتھ ان کا کانٹریکٹ شروع ہونے کے تقریباً دس سال بعد کی بات تھی۔

اس معاملے میں جن 14 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا، ان میں رادھے شیام یادو (چیف انجینئر)، شری کانت پرساد، وی این سنگھ (سپرنٹنڈنگ انجینئر، ڈسٹری بیوشن سرکل)، راج پال سنگھ (اس وقت کے سپرنٹنڈنگ انجینئر)، راج ویر سنگھ (ایگزیکٹو انجینئر)، اے سی سریواستو (اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر)، کتاب سنگھ (سابق ایگزیکٹو انجینئر)، سندیپ کمار نربھے (سابق ایگزیکٹو انجینئر)، ستیندر سنگھ رانا (ریٹائرڈ جونیئر انجینئر)، رویندر پال سنگھ (اس وقت کے جونیئر انجینئر)، رام ویر سنگھ (اس وقت کے ایس ڈی او)، یو وی سریواستو (اس وقت کے ایس ڈی او)، ایس کے بہل (جونیئر انجینئر) اور وجئے وشواس پنت (منیجنگ ڈائریکٹر، ڈبلیو ای ڈی سی) شامل ہیں۔

شرما نے ان پر ’سوچی سمجھی سازش اور دھوکہ دہی‘کا الزام لگایا۔

میرٹھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے آرڈر پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ آرڈر سرکل آفیسر (صدر دیہات) چکرپانی ترپاٹھی کی 15 فروری 2019 کی جانچ رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

جانچ شروع کرانے کے لیے شرما نے براہ راست اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے اس معاملے کی شکایت کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انصاف پانے کی اپنی ابتدائی کوششوں کے دوران پہلے جانچ افسر نے ان پر مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ افسر نے انہیں سرکاری محکمے کے خلاف لڑنے کے خطرات سے آگاہ کیا اور سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی۔

معاملہ سسٹم میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے

پولیس نے دو مرتبہ اس معاملے کو بند کرنے کی کوشش کی، لیکن تفتیش میں موجود خامیوں کی وجہ سے عدالت نے سخت اعتراض کیا۔ سب سے پہلے پولیس نے ایک فائنل رپورٹ (کلوزر رپورٹ) پیش کی، جس میں کہا گیا کہ کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔ شرما کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے 16 مارچ 2021 کو اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے میرٹھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو ہدایت دی کہ وہ کسی مجاز افسر سے آگے کی جانچ کروائیں۔ تاہم، سب انسپکٹر رینک کے ایک افسر نے اس کیس کی ذمہ داری سنبھالی اور پہلی رپورٹ جیسی ہی بات کو دہراتے ہوئے دوسری فائنل رپورٹ سونپ دی، جس کے بعد شرما کو دوسری درخواست دائر کرنا پڑی۔

غور طلب ہے کہ22مارچ 2023 کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ونئے کمار نے دوسری کلوزر رپورٹ بھی مسترد کر دی۔ انہوں نے کارروائی میں سنگین خامیوں پر پولیس کو سخت سرزنش کی اور میرٹھ کے ایس ایس پی کو حکم دیا کہ یہ مقدمہ سرکل آفیسر یا اس سے اعلیٰ رینک کے افسر کے سپرد کیا جائے۔

شرما نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ اب بھی جاری ہے اور ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی، تاہم دی وائراس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کمار کے 2023 کے حکم میں جانچ رپورٹ کی متعدد خامیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے آگے کی جانچ کرنا ٹھیک ہے۔

حکم میں یہ بھی بتایا گیا کہ جانچ افسر کی کیس ڈائری کے صفحہ 10 سے وجئے وشواس پنت کا نام بغیر کسی ٹھوس وجہ کے جانچ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ، دونوں جانچ افسران – نریندر سنگھ اور شیو نارائن سنگھ – نے آزاد گواہوں یا تمام ملزمان کے بیان بھی درج نہیں کیے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ شرما نے حکام کے خلاف یہ مقدمہ صرف اس لیے درج کرایا تھاتاکہ وہ اپنے خلاف درج مجرمانہ الزامات سے بچ سکیں۔

سی جے ایم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پولیس نے اووررائٹ کیے گئے دستاویزوں کو ضبط نہیں کیا اور نہ ہی ان کی سائنسی جانچ کرائی۔ اس وقت کے سرکل آفیسر چکرپانی ترپاٹھی کا بیان بھی جانچ افسر نے ریکارڈ نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ شرما کے الزام سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی مناسب جانچ ہونی چاہیے تھی۔

سی جے ایم کمار نے مزید کہا کہ 2021 کے آرڈر میں میرٹھ کے ایس ایس پی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کسی سینئر افسر سےمعاملے کی تفتیش کروائیں، کیونکہ اس میں اعظم گڑھ کے ڈویژنل کمشنر کے عہدے پر تعینات ایک سینئر آئی اے ایس افسر بھی شامل تھے۔ اس کے باوجود، جانچ ایک سب انسپکٹر رینک کے افسر نے کی۔

(عمر راشد آزاد صحافی ہیں۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔