ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کا معاملہ اب صرف ایک مجرمانہ جانچ تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ یہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی ساکھ، رام مندر سے متعلق ان کا کردار، ٹرسٹ کی جوابدہی اور ہندوتوا کی سیاست پر بھی بڑے سوال کھڑے کر رہا ہے۔

ایودھیا کے رام مندر میں وزیر اعظم نریندر مودی۔(تصویر بہ شکریہ: نریندر مودی /وائی ٹی وایا پی ٹی آئی)
نئی دہلی:ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کا معاملہ، جس کی جانچ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) اور ریاستی پولیس کر رہی ہے، اب ایک بڑا سیاسی تنازعہ بن گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے اس معاملے سے خود کو الگ دکھانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
حالیہ متعددسروے،مثلاً سی-ووٹرکے ایک سروے، سے پتہ چلتاہے کہ این ڈی اے کے 53.7 فیصد ووٹروں کا ماننا ہے کہ اس چوری سے ان کا بھروسہ متاثر ہوا ہے۔ عقیدت مند اس واقعہ کو صرف ایک مالی جرم نہیں بلکہ مذہبی عقیدے کے ساتھ ہوئے ایک سنگین خیانت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر بی جے پی کے سب سے وفادار ووٹروں کے طبقے پر پڑتا نظر آ رہا ہے۔
چونکہ بی جے پی نے رام مندر کی تعمیر اور اس سے وابستہ علامات کو پوری طرح سے اپنی سیاسی پہچان سے جوڑ دیا تھا، اور وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اس مذہبی منصوبے کا پورا کریڈٹ لیا تھا، اس لیے اب اگر مندر کے اندر کچھ بھی غلط ہوتا ہے تو اس سے متعلق جوابدہی اور الزامات سے بھی وہ خود کو الگ نہیں کر سکتے۔ خصوصی طور پر، اس صورت میں، جب چوری کے الزامات ان افراد پر لگے ہوں، جنہیں خود مودی نے اس منصوبے کی نگرانی کے لیے منتخب کیا تھا۔
یہاں چھ ایسی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے لیے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے سے خود کو الگ دکھانا مشکل ہو رہا ہے۔
رام مندر بی جے پی کا سب سے بڑا سیاسی سرمایہ ہے، محض ایک مذہبی منصوبہ نہیں
رام مندر کی تعمیر صرف ایک مذہبی منصوبہ نہیں، بلکہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی سب سے بڑی سیاسی حصولیابی اورپہچان کی علامت ہے۔ رام جنم بھومی تحریک ہی کے سہارے بی جے پی قومی سیاست کے مرکز تک پہنچی، اور مندر کی پران پرتشٹھا کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی سب سے نمایاں شخصیت تھے۔
مودی نے باربار رام مندر کی تعمیر کاپورا کریڈٹ خود لیا اور اسے صدیوں پرانے وعدے کی تکمیل کے طور پر پیش کیا، جس کے تحت 1992 میں ہندوتوا کارکنوں کی جانب سے شہید کی گئی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی بات کی جاتی رہی تھی۔
ایسی صورت میں مندر کے احاطے کے اندر پیش آنے والا کوئی بھی گھوٹالہ یا تنازعہ خود بخود بی جے پی سے جڑ جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ علامت ہے جسے پارٹی نے اپنے انتخابی مفاد کے لیے سب سے مؤثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
مندر ٹرسٹ کی تشکیل اور تقرریاں براہ راست مودی حکومت نے کیں
وزیر اعظم مودی اس تنازعہ کو کسی مقامی یا آزاد انتظامی ناکامی قرار دے کر اس سے دامن نہیں چھڑا سکتے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ، جو رام مندر کے انتظام و انصرام اور اس کے مالی معاملات کی نگرانی کرتا ہے، مرکزی حکومت نے قائم کیا تھا، اور اس کے 15 میں سے 12 اراکین کو براہ راست مرکزی حکومت نے نامزد کیا تھا۔
فروری 2020 میں وزیر اعظم مودی نے خود لوک سبھا میں اس ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹرسٹ کے اراکین کے انتخاب میں ان کا اہم کردار تھا۔
اس لیے فطری طور پر عوام ٹرسٹ کے اراکین کی جوابدہی کو براہ راست اسی وزیر اعظم سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اس ٹرسٹ کی تشکیل کرائی اور اس کے اراکین کی تقرری کی۔
چمپت رائے اور مودی کے قریبی تعلقات
یہ تنازعہ براہ راست ان لوگوں تک پہنچتا ہے جو بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی اعلیٰ قیادت سے وابستہ رہے ہیں۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، جنہوں نے حال ہی میں اخلاقی بنیادوں پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، آر ایس ایس کے سینئر رہنما اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے نائب صدر ہیں۔ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کا قریبی ساتھی بھی سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ چمپت رائے کے ڈرائیور کی گرفتاری اور ٹرسٹ کے دیگر منتظمین پر لگنے والے الزامات نے بی جے پی کے لیے یہ کہنا مشکل بنا دیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث افراد تنظیم سے غیر متعلق یا الگ تھلگ ہیں۔
اتنا ہی نہیں، بلکہ بجرنگ دل کے بانی اور بی جے پی کے رہنما ونے کٹیار بھی عوامی طور پر ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ تنازعہ بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کے اندر بھی چرچہ اور الزام تراشی کا سبب بن گیا ہے۔
یہ تنازعہ مودی کے تین سب بڑے سیاسی دعووں پر چوٹ کرتا ہے
وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی امیج بنیادی طور پر تین اہم دعووں پر قائم رہی ہے؛
ہندوتوا کے سب سے بڑا محافظ ہونے کا دعویٰ، یعنی ہندو عقیدے اور مقدس مقامات کے محافظ کے طور پر اپنی پہچان۔
بدعنوانی کے خلاف لڑائی کا دعویٰ، جس کے ذریعے بی جے پی خود کو اقربا پروری اور بدعنوان جماعتوں سے مختلف ظاہر کرتی رہی ہے۔
قوم پرستی کے نام پر مؤثر اور کامیاب حکمرانی کا دعویٰ، جس کے تحت بہتر نظم و نسق اور ترقی کو قوم پرستی سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔
رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کا معاملہ ان تینوں دعووں کو ایک ساتھ متاثر کرتا ہے۔ یہ تنازعہ کروڑوں عقیدت مندوں کے عقیدے کے مرکز سمجھے جانے والے ایک مقدس مقام میں مبینہ بدانتظامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ ایک نہایت اہم اور طویل عرصے سے زیر بحث منصوبے میں منظم بدعنوانی کے خدشات کو بھی جنم دیتا ہے اور بی جے پی کے ’صاف شفاف اور بہتر حکمرانی‘کے دعوے پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
اسی لیے وزیر اعظم مودی کے لیے اس پورے معاملے کو محض ایک معمولی انتظامی غلطی قرار دے کر مسترد کرنا آسان نہیں ہے۔
عقیدت مندوں کے چڑھاوے کی چوری بی جے پی کے لیے اخلاقی اور سیاسی بحران
یہ معاملہ صرف چند روپے چوری ہونے کا نہیں ہے۔جانچ ایجنسیوں کے مطابق، یہ ایک منظم گروہ کا کارنامہ تھا، جس میں تقریباً 200لوگوں کے ملوث ہونے کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ یہ گروہ مقامی سناروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مندر میں آئے سونے اور چاندی جیسی قیمتی دھاتیں ٹرین کے ذریعے ریاست کرناٹک بھیجتا تھا، جہاں انہیں پگھلایا جاتا تھا۔
صرف یہی نہیں، الزام یہ بھی ہے کہ اس گروہ نے مندر کے کم آمدنی والے ملازمین کے لیے بھیجے گئے سردیوں کے جیکٹوں سے بھرے ٹرکوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کا حجم اور اس کا طریقہ کار اتنا وسیع تھا کہ حکمراں بی جے پی کے لیے اسے محض ایک معمولی انتظامی کوتاہی یا لاپرواہی قرار دے کر نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ معاملہ سرکاری خزانے یا کسی کارپوریٹ معاہدے میں مبینہ بے ضابطگی کا نہیں، بلکہ عام عقیدت مندوں کے چڑھاوے سے متعلق ہے۔
ایسی صورت میں، جو جماعت خود کو ہندو عقیدے اور مذہب کی سب سے بڑی محافظ کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، اس کے لیے یہ الزام کہ ملک کے نئے رام مندر میں عقیدت مندوں کا چڑھاوا ہی مبینہ طور پر چوری یا غلط استعمال کا شکار ہوا، سیاسی ہی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی بحران بھی پیدا کرتا ہے۔
مودی کی خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے
اس پورے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی خاموشی کو کانگریس، سماج وادی پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتیں تقریباً روزانہ ایک سیاسی ایشو بنا رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی نے مذہبی عقیدے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا، لیکن جب بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔
وہیں، اگر مودی یا بی جے پی اس معاملے پرمفصل بیان دیتے ہیں تو ٹرسٹ کے فنڈز کے انتظام، نگرانی کے نظام اور اندرونی تحقیقات جیسے کئی سوال سامنے آ سکتے ہیں، جن کی سمت اور دائرہ کار پر پارٹی مکمل طور پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔
اسی وجہ سے بی جے پی ایک ایسے سیاسی جال میں پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے جہاں خاموش رہنا معاملے کو دبانے کی کوشش محسوس ہوتا ہے، جبکہ کھل کر بات کرنا مودی کی قیادت میں نظام کی ناکامی کو تسلیم کرنے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے لیے رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کا معاملہ صرف چند گرفتاریوں کے ساتھ ختم ہو جانے والی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی اپنی سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں سے پیدا ہوئی ایک ساختیاتی سیاسی کمزوری ہے، جس سے صرف خاموش رہ کر باہرنہیں نکلا جا سکتا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔