رام مندر چڑھاوا معاملہ: وی ایچ پی کا مطالبہ – غبن کے الزامات پر اپوزیشن رہنماؤں سے پوچھ گچھ کرے پولیس اور ایس آئی ٹی

وشو ہندو پریشد  نے اتر پردیش پولیس اورایس آئی ٹی کو خط لکھ کر رام مندر میں چڑھاوا کی رقم میں مبینہ غبن کی جانچ میں سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی رام گوپال یادو، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال، ایم پی سنجے سنگھ، اور کانگریس رہنما اور لوک سبھا  ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کے بیان درج کرنے کی اپیل کی ہے۔

وشو ہندو پریشد  نے اتر پردیش پولیس اورایس آئی ٹی کو خط لکھ کر رام مندر میں چڑھاوا کی رقم میں مبینہ غبن کی جانچ میں سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی رام گوپال یادو، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال، ایم پی سنجے سنگھ، اور کانگریس رہنما اور لوک سبھا  ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کے بیان درج کرنے کی اپیل کی ہے۔

تصویر: پی ایم او، وایا پی ٹی آئی

نئی دہلی:وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے اتر پردیش پولیس اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)، جو ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا کی رقم میں مبینہ غبن کی جانچ کر رہی ہے، سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر عوامی طور پربیان دینے والے اپوزیشن رہنماؤں سمیت دیگر اہم شخصیات کے بیان درج کریں اور ان سے اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرنے کو کہیں۔

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، وی ایچ پی نے سنیچر (4 جولائی) کو ایس آئی ٹی کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں وی ایچ پی نے مطالبہ کیا کہ مندر میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے عوامی الزامات لگانے والے اپوزیشن رہنماؤں کے بیان درج کیے جائیں، کیونکہ ’ایسا لگتا ہے کہ انہیں کئی جانکاریاں حاصل ہیں۔‘

وی ایچ پی صدر کا اتر پردیش پولیس کو خط

وی ایچ پی کے صدر آلوک کمار نے سنیچر (4 جولائی) کو ایودھیا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آشوتوش تیواری کو لکھے گئے خط میں کہا کہ تنظیم نے متعدد عوامی شخصیات کے ایسے بیان دیکھے ہیں جو ٹی وی چینلوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور دیگر الکٹرانک میڈیاپر بڑے پیمانے پر نشر کیے گئے ہیں۔

آلوک کمار نے اپنے خط میں سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی رام گوپال یادو، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال، ایم پی سنجے سنگھ اور کانگریس رہنما اور لوک سبھا ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کے تبصروں کا ذکر کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ان رہنماؤں نے عوامی طور پر’خصوصی الزامات‘عائد کیے ہیں اور 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا،’جو بھی ہو، مذکورہ لوگوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس معاملے کے حقائق اور حالات سے واقف ہیں۔‘

آلوک کمار نے دعویٰ کیا کہ’منصفانہ، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات‘کو یقینی بنانے کے لیے اتر پردیش پولیس کو متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ان لوگوں کا بیان درج کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ان سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ ان کے الزامات کی حقیقت کیا ہے، انہیں یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں، اور ان کے پاس کون سے دستاویزی یا دیگر شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا،’اگر مذکورہ لوگوں میں سے کوئی بھی اپنے الزامات کے حق میں قابل اعتماد ثبوت فراہم کرتا ہے تو اس سے تحقیقاتی ایجنسی کو حقیقت تک پہنچنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ اس کے برعکس اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص نے بغیر کسی ٹھوس بنیاد یا ثبوت کے ایسے سنگین عوامی الزامات لگائے ہیں، تو یہ بھی جانچ کا ایک اہم پہلو ہوگا۔‘

آلوک کمار نے کہا کہ اگر یہ بیان’جان بوجھ کر جھوٹے‘یا بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں تو تحقیقاتی ایجنسی کو ان کے خلاف قانونی کارروائی پر بھی غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایسے’بے بنیاد الزامات لگانے، جو معاشرے میں نفرت، تعصب اور اختلاف پیدا کریں، اور پھر بغیر کسی کارروائی کے بچ نکلنے‘کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

چارجولائی کو ایس آئی ٹی کو بھی  لکھا گیاخط

وی ایچ پی نے سنیچر (4 جولائی) کو ایس آئی ٹی کو بھی ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ مندر میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگانے والے اپوزیشن رہنماؤں کے بیان درج کیے جائیں اور ان کے الزامات کی جانچ کی جائے۔

دی ہندو کے مطابق، وی ایچ پی نے کہا کہ پرینکا گاندھی واڈرا، اروند کیجریوال، سنجے سنگھ اور رام گوپال یادو سمیت رہنماؤں کے الزامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ’اس معاملے کے حقائق اور حالات سے واقف ہیں۔‘

وی ایچ پی نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی ٹی ان رہنماؤں سے ان کے الزامات کی حقیقت، معلومات کے ذرائع اور ان کے پاس موجود تمام دستاویزات یا دیگر شواہد کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کے لیے ان کے بیان درج کرے۔

پرینکا گاندھی کا بیان

دی ہندو کے مطابق، کانگریس کی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے رام مندر کے چڑھاوے کی رقم میں مبینہ چوری کے الزامات کو’افسوسناک‘اور’شرمناک‘قرار دیا تھا۔

کیرالہ کے وائناڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے لوگوں نے اپنی عقیدت کی وجہ سے مندر کے لیے چندہ دیا تھا۔

انہوں نے کہا،’ملک بھر سے لوگوں نے،جن کی  عقیدت تھی  اورجو یقین رکھتے تھے،انہوں نے مندر کے لیے چندہ دیا۔ اب یہی چوری ہو گیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے، یہ شرمناک ہے۔ حکومت کو اس کی جانچ کرنی چاہیے کہ یہ کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔‘