پولیس وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی نوکر نہیں؛ شہریوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے: بامبے ہائی کورٹ

بامبے ہائی کورٹ کے جج جسٹس مادھو جامدار نے مہاراشٹر پولیس کی جانب سے ایک سیاسی کارکن کے خلاف جاری کیے گئے ضلع بدر کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو احتجاج اور مظاہرے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال کیا،’کیا تمام شہریوں کو حکومت ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ نہ وہ احتجاج کر سکتے ہیں، نہ ہی تحریک چلا سکتے ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہے؟‘

بامبے ہائی کورٹ کے جج جسٹس مادھو جامدار نے مہاراشٹر پولیس کی جانب سے ایک سیاسی کارکن کے خلاف جاری کیے گئے ضلع بدر کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو احتجاج اور مظاہرے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال کیا،’کیا تمام شہریوں کو حکومت ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ نہ وہ احتجاج کر سکتے ہیں، نہ ہی تحریک چلا سکتے ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہے؟‘

بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار (بائیں) اور بامبے ہائی کورٹ کی عمارت (دائیں)۔ تصویر: بامبے ہائی کورٹ: اےسون/وکی میڈیا کامنز (مارچ 2016)؛ جسٹس جامدار: آفیشیل فوٹو۔

نئی دہلی: بامبے ہائی کورٹ کے جج جسٹس مادھو جامدار نے جمعرات (2 جولائی) کو کہا کہ شہریوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور پولیس ’وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی نوکر‘نہیں بلکہ عوام کی خادم ہے۔

عدالت نے یہ ریمارکس مہاراشٹر پولیس کی جانب سے ایک سیاسی کارکن کے خلاف جاری کیے گئے ضلع بدر کے فیصلے کورد کرتے ہوئے دیے۔

سماعت کے دوران جسٹس جامدار نے کہا،’یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمام شہریوں کو حکومت ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ نہ وہ احتجاج کر سکتے ہیں، نہ ہی تحریک چلا سکتے ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہے؟‘

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے جنرل سکریٹری سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ایکٹ 1955 میں کی گئی ترامیم اور گیان واپی مسجد تنازعہ جیسے معاملات پر احتجاجی پروگرام منعقد کر رہے تھے۔ 3 دسمبر 2025 کو پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے انہیں ایک سال کے لیے متعلقہ علاقے سے باہر رہنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد میں کونکن رینج کے ڈویژنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا۔

تاہم، جمعرات کو ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے اسے’بدنیتی پر مبنی‘قرار دیا۔

جسٹس جامدار نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا،’درخواست گزار نے حکومت ہند کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے اور دھرنے منعقد کیے۔ صرف یہی بات مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کسی شخص کو متعلقہ علاقے سے باہر رکھنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔‘

خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے مطابق، عدالت نے اپنے آرڈر میں مزید کہا،’ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 شہریوں کو نہ صرف اظہار رائے کی آزادی دیتے ہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا حق بھی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت ہند کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنے کی بنیاد پر درخواست گزار کے خلاف کی گئی کارروائی اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘


شنوائی کے دوران جسٹس جامدار نے یہ بھی کہا کہ وہ چودھری کے خلاف اس فیصلے پر دستخط کرنے والے پولیس افسران پر جرمانہ عائد کرنے پر غور کریں گے۔

انہوں نے کہا،’درخواست گزار نے صرف ’بی جے پی حکومت مردہ باد‘ اور ’امت شاہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگائے تھے۔ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔‘


لائیو لا کے مطابق، جسٹس جامدار نے ہلکے پھلکے انداز میں یہ بھی کہا کہ چودھری بھی’واشنگ مشین‘میں جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہیں۔

انہوں نے تبصرہ کیا،’ویسے بھی پورے مہاراشٹر میں ہارس ٹریڈنگ چل رہی ہے۔‘ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست میں شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چھ ارکان پارلیامنٹ بی جے پی کے اتحادی ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہو گئے ہیں۔

جسٹس جامدار نے مزید کہا،’پرسوں ایک سڑک حادثے میں 10 سالہ بچے کی موت ہو گئی، لیکن ریاستی اسمبلی میں بحث اس بات پر ہو رہی تھی کہ اسپیکر کا انتخاب کیسے ہوا اور کون کس جماعت سے دوسری جماعت میں چلا گیا۔ آخر یہ سب کیا ہے؟‘

ایس ڈی پی آئی نے اپنی ویب سائٹ پر چودھری کے خلاف زیر التوا فوجداری مقدمات کی تفصیلات بھی شائع کی ہیں۔ اس کے مطابق، ان کے خلاف مجموعی طور پر چار ایف آئی آر درج ہیں، جن میں زیادہ تر الزامات بغیر اجازت احتجاج کرنے، غیر قانونی اجتماع منعقد کرنے اور ایک مقدمے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہیں۔