خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔ان کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔

خالد جاوید اور ان کے نئے ناول اِکیس ایک سو بائیس کا سرورق
وقت ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں نہیں چلتا، اس میں ماضی، حال اور مستقبل ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک چوتھی سمت بھی ہوتی ہے، اور ایک ہی وقت میں کئی سمتوں میں اس کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔ اپنے وقت سے آنکھ ملا کر باتیں کرنا اور وقت کے مابعدالطبیعیاتی تصورات پر فکشن لکھنا خالد جاوید کا کمال ہے۔ اس ناول اکیس ایک سو بائیس میں انھوں نے یہی کیا ہے۔
سائنس میں وقت کا جو بھی تصور ہو لیکن فنون اور ادب میں سب سے زیادہ اہمیت وقت کے فلسفیانہ تصور کی ہے۔ فلسفے میں وقت کا جو تصور ہے اس اعتبار سے وقت تبدیلی، دورانیہ اور تسلسل کا محور ہے۔ فلسفے میں اس بات پر بحث کی جاتی ہے کہ کیا وقت کائنات کا ایک معروضی اور مسلسل رواں حقیقت ہے؟یا وقت ایک داخلی اور موضوعی فریم ورک ہے، جو انسانی ذہن، تجربے اور یادوں کے منظم استعمال پر منحصر ہے۔
وقت کا ایک تصور ایٹرنیزم بھی ہے، جسے بلاک ٹائم بھی کہتے ہیں۔ اس کے مطابق ماضی، حال اور مستقبل سب ایک نقشے کی طرح یکساں طور پر کئی سمتوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وقت کی صرف ایک جہت نہیں ہے، بلکہ وقت کا بہاؤایک موضوعی تصور ہے، جو بیک وقت کئی سمتوں میں ہو سکتا ہے۔
خالد جاوید کا ناول اکیس ایک سو بائیس وقت کو ایک داخلی اور موضوعی فریم ورک کے طور پر ہی دیکھتا ہے، جہاں انسانی ذہن میں مختلف یادیں ہیں۔ بظاہر مختلف کردار الگ الگ وقت میں الگ الگ شناخت کے ساتھ نظر آنے والے، داخلی طور پر ایک ہی کردار بھی ہو سکتے ہیں۔
یہاں وقت ایک سیدھی اور رواں حقیقت نہیں ہے بلکہ وہ ایک ساتھ الگ الگ سمتوں میں بہہ رہا ہے۔ یہاں وقت صرف کارواں نہیں ہے کہ ایک جاتا ہے، تب دوسرا آتا ہے، بلکہ کئی بار وقت ایک ہی ساتھ الگ الگ سمتوں میں چل رہا ہے اور قاری ایک ساتھ کئی کئی وقتوں کو دیکھ اور محسوس کر پا رہا ہے۔
اس ناول میں وقت کا ایسا پیچیدہ تصور ہے کہ ناول ختم ہوتے ہوتے دماغ جھنجنا جاتا ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟
یہ سب کون لوگ ہیں۔ کیا ناول کا مرکزی کردار ’وہ‘ اور پروفیسر حفیظ الدین عاصی ایک ہی شخص کے دو الگ الگ مظاہر ہیں؟ اگر وہ ایک ہی ہیں تو دونوں کے کردار اتنے الگ الگ کیوں ہیں؟
اور دونوں الگ الگ ملکوں میں الگ الگ شناخت کے ساتھ کیوں رہ رہے ہیں؟ اور اگر وہ دونوں الگ الگ ہیں تو وہ ایک ہی کہانی کیوں بیان کر رہے ہیں؟ جب کہ دونوں ایک خاص صورت حال میں ہپنوٹائز کر کے ٹرانس میں لائے جانے کے بعد اپنا بیان درج کراتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی حالت میں جھوٹ بولنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ کیا اسی طرح ’وہ لڑکی‘ اور ’بڑی بڑی آنکھوں والی اور رحم دل نرس‘ بھی ایک ہی شخصیت کی دو جہتیں ہیں؟
گیارہ سال کی وہ لڑکی جو بچپن میں مرکزی کردار ’وہ‘ سے محبت کرتی ہے، کیا وہی بعد میں نرس بن کر ایک مہربان بوڑھی عورت بن کر آ جاتی ہے؟ اور مرکزی کردار کی ہر طرح سے مدد کرتی ہے، سب سے بڑی بات وہ اس کا حوصلہ بنائے رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ اس کردار میں کئی باریکیاں ہیں جس سے ظاہر ہے کہ گیارہ سالہ لڑکی کی طرح یہ بھی ایک مابعدالطبیعیاتی کردار ہے۔
ان کرداروں سے بھی ظاہر ہے کہ وقت ایک ساتھ اور الگ الگ سمتوں میں بہہ رہا ہے۔ یہ سب مماثلتیں خارجی نہیں ہیں بلکہ داخلی ہیں۔ جسے بیانیہ میں نہیں، بلکہ بیانیہ کی داخلی صورت حال اور بین السطور میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس صورت حال کو بنیادی طور پر داخلی حقیقت کے طور پر ہی سمجھا جا سکتا ہے- ناول میں کوئی واضح تصور نہیں دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ایک مصنف کا یہ کام بھی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کو واضح کرتا چلے۔ کچھ چیزیں بس محسوس کی جا سکتی ہیں۔
خالد جاوید کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ البتہ مذاہب نے موت کے کچھ تصورات پیش ضرور کیے ہیں، لیکن تمام مذاہب مل کر بھی کچھ قیاس آرائیوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ مذہب موت کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہ پیش کر سکا۔
دنیا کو ہم جتنا جانتے جا رہے ہیں، اس پر جتنی زیادہ روشنی پڑتی جا رہی ہے، موت کی بارے میں مذہبی روشنی اتنی ہی دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں موت پر ایک فلسفی اور ایک تخلیق کار، خاص طور سے فکشن نگار ہی کوئی ایسا تصور پیش کر سکتا ہے جس سے موت کی مابعد الطبیعیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر خالد جاوید اپنے تمام ناولوں کو موت کی پہلی، دوسری…… پانچویں کتاب کہہ رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے وہ ایک ایسے علاقے میں بار بار داخل ہو رہے ہیں؟ جس پر روشنی بہت کم ہے۔ یہی ایک سچے تخلیق کار کی پہچان ہوتی ہے، یہیں تخلیقیت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ وہ جس اندھیرے میں داخل ہو رہے ہیں، یا وہ جہاں تھوڑی روشنی ڈال رہے ہیں، اسے سورج کی طرح روشن ہی کر دیں، یا سائنس کی طرح روشنی کے ثبوت بھی فراہم کر دیں، لیکن یہ کیا کم ہے کہ وہ کچھ امکانات پیدا کر رہے ہیں، ہمیں سوچ بچار کے نئے زاویے دے رہیں ہیں، یہی ایک سچے تخلیق کار کا فریضہ بھی ہے اور منصب بھی۔ جسے وہ بخوبی نبھا رہے ہیں۔
موت کی پانچویں کتاب سے یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ وہ ایک ہی کہانی بار بار دہرا رہے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بار بار اندھیری دنیاؤں میں داخل ہو رہے ہیں اور غوطے لگا رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہر بار وہ نئے نئے تجربے لے کر باہر آ رہے ہیں۔ ہر ناول کے الگ الگ قصے ہیں، الگ الگ کردار ہیں، اور سب سے بڑی بات وہ نئے نئے وجودی تصورات اور موت کے امکانات دے رہے ہیں۔
یہ ناول خالد جاوید کے دوسرے ناولوں سے اتنا منفرد ہے کہ ایک سگنیچر ٹیون کے علاوہ کچھ بھی یکسانیت نہیں ہے۔ ہاں ان کی سگنیچر ٹیون وہی ہے، جو ان کی ہر تخلیق میں ہوتی ہے۔ ان کا بیانیہ، زبان، کردار گڑھنے کا طریقہ یہ سب باتیں وہی ہیں۔
دنیا کے اکثر صاحب اسلوب تخلیق کار کی کچھ چیزیں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں، خاص طور سے جن سے بیانیہ اوراسلوب بنتا ہے۔ وہ اسلوب خالد جاوید کے یہاں اس ناول میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی دہرایا نہیں گیا ہے۔ اگر کوئی ناول نگار ہر ناول میں اپنا اسلوب بدلنے لگے تو پھر وہ اسلوب نہیں رہتا، وہ خارجی بناوٹ ہوتی ہے۔ اسلوب کا تعلق تخلیق کار سے ہوتا ہے، کسی مخصوص تخلیق سے نہیں۔
اگر ہر ناول میں اسلوب بدلنے لگے تو پھر وہ صاحب اسلوب ناول نگار کہاں رہے گا؟
ہمارے زمانے میں نیر مسعود، شمس الرحمن فاروقی سید محمد اشرف وغیرہ کےبیشتر فکشن میں وہی اسلوب قائم رہا۔ البتہ سید محمد اشرف نے بیچ میں تقریباً 15 سال تک فکشن نہیں کے برابر لکھا اور دوبارہ جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو وہ اسلوب تھوڑا کمزور ہو گیا، ان کی نثر میں جو تمثیلیں، بین السطور اور ایک قسم کا طلسم جو ہوا کرتا تھا، وہ بعد کی تحریروں میں قائم نہیں رہ سکا اور اسی لیے ان کی بعد کی تحریریں تھوڑی کمزور ہیں (آخری سواریاں اور چند افسانے)۔ اگرچہ ان کی تھوڑی کمزور تخلیقات بھی ایک معیار سے ہیں اور بہت سے مصنفین سے بہتر ہیں۔
موضوع کا تعلق تخلیق سے ہوتا ہے میری مراد ہے کسی مخصوص ناول یا افسانے وغیرہ سے، جو ہر فکشن میں عام طور پر بدل جاتا ہے۔ اسلوب کا تعلق کسی ایک ناول سے نہیں بلکہ ناول نگار سے ہوتا ہے۔
عام طور پر مصنف کا اسلوب اس کی ہر تخلیق میں ایک ہی رہتا ہے۔ البتہ کچھ جگہ شعوری کوشش کر کے تھوڑی بہت تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ لیکن کوئی مصنف اپنے اسلوب کو پوری طرح شعوری کوشش سے بھی نہیں بدل سکتا۔ کیونکہ اسلوب کا ایک بڑا حصہ لا شعوری عمل سے بھی ہوتا ہے۔ جو شعوری کوشش سے بھی نہیں بدل پاتا۔ دراصل اسلوب کسی مصنف کا مخصوص طریقئہ تحریر ہے، جس میں لفظوں کا انتخاب، جملوں کی ساخت، آہنگ اور بصری زبان شامل ہے۔ مجموعی طور پر اسلوب کا تعلق طرز تحریر سے ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اسلوب ہی سب کچھ ہوتا ہے، لیکن کسی مصنف کی شناخت میں اس کا اسلوب بہت اہم ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے یہاں اسلوب اتنا اہم نہیں ہوتا ہے مثلاً منٹو کے یہاں، لیکن ایک صاحب اسلوب فکشن نگار کے لیے اسلوب بہت اہم ہوتا ہے، اسلوب منزل ہو نہ ہو منزل سے کم بھی نہیں ہوتا ہے۔
خراب اسلوب سے اچھی تخلیق تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اچھا مصنف شعوری طور پر اسلوب کیوں بدلنا چاہے گا؟ کوئی اپنی طاقت کو خود کیوں برباد کرے گا۔ کسی مصنف کے اسلوب کا تعلق اس کے لکھنے کے انداز، الفاظ کے انتخاب اور ان کی بندش سے ہوتا ہے۔ کسی مخصوص ناول سے نہیں۔ جو چیزیں ناول کے ساتھ بدلتی رہیں وہ اسلوب نہیں کہلاتیں۔
خالد جاوید کے ہر ناول میں موت ایک نئے روپ میں آئی ہے۔ اس ناول میں موت کے بعد اور جہنم تک کا سفر اور وہاں سے پھر واپس کیے جانے کا سفر تقریباً 50 صفحات پر ہے۔ (بیچ بیچ میں ’وہ‘ اور ’لڑکی‘ کی محبت کو بھی شعور کی رو کی تکنیک میں بیان کیا گیا ہے۔) یہ پورا سفر اتنا ندرت بھرا ہے، جس جس طرح کے حالات اور فضائیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں، وہ جس جس حکمت عملی سے ان جگہوں کو پار کرتے ہیں۔
خالد جاوید کے کسی دوسرے ناول میں ایسا بالکل نہیں ہے، اسی حصے کو سن کر میں نے کہا تھا کہ آج اگر یہ ناول البرٹ کامیو سن رہے ہوتے تو وہ بھی ہاتھ چوم لیتے۔ کامیو نے بھی آج تک ایسی صورت حال نہ پڑھی ہوگی نہ تصور کی ہوگی۔
بچے کی موت نہ صرف ان کے دوسرے ناولوں سے بالکل منفرد ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی فکشن نگار کی موت سے منفرد ہے۔وہ لکھتے ہیں؛
یہ موت کی پانچوی کتاب ہے، یعنی پنجہ مکمل ہوا اور انگوٹھے اور شہادت کی انگلی نے مل کر پورے پنجے سے ہی اپنے دستخط ثبت کر دیے۔ کچھ باتوں کی تکرار بھی ہو گئی۔ تکرار بری چیز نہیں ہے۔ کسی حقیقت کا انکشاف ہونے کے بعد بار بار اس کو دہرانا بھی ضروری ہے اور یہی بات ’جھوٹ‘ کے بارے میں بھی سچ ہے۔
اس ناول میں کئی چیزوں کی تکرار جان بوجھ کر کی گئی ہے، مصنف اپنی پچھلی تحریروں سے شرمندہ نہیں ہے بلکہ نئی تحریر کو اسی کے تسلسل میں دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک تکنیک ہے جس سے کئی بار ان کرداروں کی معنویت، واقعات اور صورت حال کی ستم ظریفی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر موت کی کتاب سے تلماس کے میدان نکل کر اکیس ایک سو بائیس میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس ناول میں نعمت خانہ کی گھن گرج بھی کہیں کہیں نظر آئے گی کہ دونوں میں مرکزی کردار کی شادی ایک غیر معمولی حالات میں ہوتی ہے، جب ان لڑکیوں کی زندگی تباہی کے کگار پر ہوتی ہے، وہ ان کا سہارا بن کر آتا ہے اور شادی کرتا ہے۔
لیکن وہی بیویاں اس کی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہیں۔ نعمت خانہ اور اکیس ایک سو بائیس میں یہ قدر مشترک ہے۔ طغرل کا کردار ارسلان اور بہزاد سے نکل کر اکیس ایک سو بائیس میں ناول میں آ گیا ہے۔ بنیادی کردار وہی رہتا ہے۔ لیکن اس کا کام بھی الگ ہے اور واقعے بھی الگ ہیں۔ یہ کردار صرف پچھلے ناولوں سے نہیں آ گئے ہیں۔ بلکہ خود اسی ناول کے کردار دوبارہ نئی صورت حال میں آ جاتے ہیں۔

خالد جاوید کے اس ناول کو بک کارنر، جہلم پاکستان نے شائع کیا ہے۔
اردو شاعری میں ایک روایت رہی ہے جب کسی شاعر کی موت ہو جاتی ہے یا کوئی دوسرا اہم تاریخی واقعہ ہوتا ہے تو اس تاریخ کو یاد رکھنے کے لیے ایک شعر میں اشارہ کر دیا جاتا ہے کہ ان الفاظ سے تاریخ نکالنی ہے۔ ہر حرف کے رکن طے ہوتے ہیں، اس سے تاریخ نکل آتی ہے۔ اگرچہ اب یہ روایت کم ہو گئی ہے، لیکن ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو اس فن سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اکثر کسی خاص شخص کی موت پر شعر کہہ کر اس کی تاریخ وفات کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ لیکن کیا اس روایت کے الٹ بھی ہو سکتا ہے؟
مطلب ہندسے دے دیے جائیں تو کیا حروف یا الفاظ نکالے جا سکتے ہیں؟ نکالے تو جا سکتے ہیں، لیکن وہ ہندسوں کی طرح طے شدہ نہیں ہو سکتے، بلکہ نکالنے والے پر منحصر ہے کہ وہ ان ہندسوں سے کیا الفاظ نکالتا ہے؟ تو سوال اٹھتا ہے کہ اس ناول کے عنوان اکیس ایک سو بائیس کے کیا معنی ہیں؟
میری نظر میں موت (۲+۱) جہنم (۱ +۲ + ۲) یعنی اکیس ایک سو بائیس کے معنی ہوئے ’موت اور جہنم‘، یہی اس ناول کا عنوان ٹھہرا۔ اگرچہ ان ہندسوں سے دوسرے معنی بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں لیکن پورا ناول پڑھنے کے بعد مجھے سب سے موزوں نام یہی نظر آ رہا ہے۔
قاری آزاد ہے، وہ اس نام سے اتفاق نہ کرتے ہوئے دوسرا عنوان بھی نکال سکتا ہے۔ اور اگر کچھ نہ نکالنا چاہے تو مرکزی کردار کے گھر کا نمبر تو ہے ہی ’اکیس ایک سو بائیس‘ جس کا ناول کے متن میں بھی ذکر ہے۔
اس ناول میں خالد جاوید ایک بالکل نئی محبت کی کہانی لے کر آتے ہیں، ایسی معصومیت بھری محبت جو جہنم تک ساتھ نبھاتی ہے اگرچہ زندگی میں گیارہ سال کی عمر میں ہی اس کی موت ہو جاتی ہے، پھر وہ ایک مہربان نرس کی شکل میں ملتی ہے۔ اگرچہ وہ لڑکی ہی بوڑھی نرس ہے، ایسا پورے اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کم از کم جسمانی اعتبار سے تو بالکل نہیں ہے لیکن داخلی اور معنوی اعتبار سے اسے وہی کہا جا سکتا ہے۔
خالد جاوید کے بارے میں ادین واجپئی کہتے رہے ہیں کہ وہ ویبھتس رس کے بہت بڑے فن کار ہیں، ان کے یہاں نا خوش گوار صورت حال کے بہت سے واقعے ملتے ہیں، نفرت، تعفن اور روزمرہ کی زندگی کا تشدد ان کے ناولوں میں بہت نمایاں رہتا ہے۔
اس سے پہلے کسی مصنف کے یہاں ویبھتس رس اس طرح نہیں ملتا، کم از کم اردو میں تو بالکل نہیں ملتا، عالمی سطح پر بھی یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ اس ناول میں بھی وہ تمام حالات موجود ہیں اور ویبھتس رس بکثرت موجود ہے۔
لیکن اس ناول میں وہ پہلی بار کرونا رس بھی تخلیق کرتے ہیں۔ جب مرکزی کردار کا بیٹا پیدا ہوتا ہے، دل کرتا ہے کہ کم از کم انجانی آگ میں جلتے اس کے جسم کو کہیں تو راحت مل جائے، بیٹے کی شکل میں ہی سہی، لگتا ہے وہی راہ نجات بن جائے۔
لیکن کچھ ہفتوں کی جد و جہد کے بعد وہ بھی نہیں بچتا، کرونا رس یہاں اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔ جس سے رحم، ہمدردی، ترس وغیرہ مل کر ایک ایسی صورت حال بنتی ہے کہ دل تڑپ کر رہ جاتا ہے۔ نو زائیدہ بچے کے پیدائش اور اس کی موت کا یہ ایک بالکل نایاب تجربہ ہے۔
اس سے پہلے ان کے ناولوں میں اس طرح کی صورت حال شاید اس لیے نہیں بن پائی تھی کیونکہ ان کے کردار اکثر ہفت پہلو لیے ہوتے ہیں، موت کرونا رس کی تخلیق میں معاون ہوتی ہے لیکن موت کرونا رس تبھی تخلیق ہوتا ہے، جب کرداروں میں معصومیت ہو، اب تک ان کے کردار ایسی ہمدردی شاید اس لیے نہیں بٹور پاتے تھے کہ ان کرداروں کے ساتھ لاکھ ظلم و ستم اور نا انصافی ہوئی ہو لیکن دودھ کے دھلے وہ بھی نہیں ہوتے تھے۔
اس ناول میں وہ نو زائیدہ بچہ چونکہ معصوم ہے اس لیے کرونا رس پوری طرح سے ابھر کر سکا ہے۔ ناول میں ’وہ لڑکی‘ جو صرف گیارہ سال کی عمر میں فوت ہو جاتی ہے، وہ بھی پوری طرح معصوم نہیں ہے، وہ شرنگار رس کا باعث تو بنتی ہے لیکن کرونا رس کی نہیں۔
خالد جاوید کے تمام قاری جانتے ہیں کہ جب وہ کسی صورت حال کی تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی زبان کے ذریعے اسے اتنا مؤثر بنا دیتے ہیں کہ زبان تو نظر نہیں آتی لیکن وہ صورت حال پوری آب و تاب کے ساتھ ابھر آتی ہے، اس بار انھوں نے یہی کرونا رس کی تخلیق میں بھی کیا ہے۔
اس ناول میں شرنگار رس کی بھی صورت حال کو غیر معمولی طور پر تخلیق کیا گیا ہے۔ شرنگار رس کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ وصال اور جدائی، ناول میں دونوں صورتیں ہیں۔ کلاسیکی سنسکرت شعریات میں شرنگار رس کو تمام رسوں کی ماں کہا گیا ہے۔ اس ناول میں شرنگار رس کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ یہ دو پیار کرنے والے ابھی اُس عمر میں ہیں، جب کہ جنسیت اور جسمانی لذتوں سے ناآشنا ہیں، البتہ جنسِ غیر کے جسموں کے تئیں تجسس پیدا ہو چکا ہے۔ براہ راست عشق کا اظہار تو نہیں ہے لیکن دلوں میں عشق کی گرماہٹ اور ایک دوسرے کے تئیں اپنا پن اور جذبوں میں حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔
گیارہ سال کی عمر میں شرنگار رس پورے طور پر جہنم کے سفر میں ابھر کر آتا ہے۔ اور بچپن کی معصوم محبت تو بس شعور کی رو کے ذریعے یادوں کے سلسلوں میں ابھرتی ہے۔ لیکن ویبھتس رس یہاں بھی موجود ہے۔
ہاں! مجھے ہڈیوں کا کینسر تھا۔ مگر نہ جانے کیوں میرے گھر والے اسے بتانا معیوب سمجھتے تھے۔ لیکن مجھے چیچک بھی ہوئی تھی۔ میرے دونوں گالوں میں اس کے دانوں کے بڑے بڑے گڈھے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا ہوا تھا۔ میں نے بہت پہلے سے تم سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ اب حکیم صاحب کے یہاں بھی مجھے کوئی نہیں لے جاتا تھا۔ میرے جسم میں ہڈیاں بڑھ رہی تھیں۔ وہ بڑھتی گئیں۔ وہ میرے اندر چھن چھن کر کے بولنے لگی تھیں۔ پھر ایک رات وہ اتنی بڑھ گئیں کہ میرے گوشت اور کھال کو توڑتی ہوئی ایک ڈراونی آواز کے ساتھ باہر آ گئیں۔ جسم میں دو سو چھ ہڈیوں سے بہت زائد۔ تین سو بارہ ہڈیوں کا ایک پنجر، جو انسانوں کا نہیں بلکہ کسی عفریت کا پنجر نظر آ رہا تھا۔ میرا گوشت، میرا خون، میری کھال، سب مر گئے۔ تب میں بھی مر گئی۔
…………
پکی جہنمی تھی لونڈیا۔ ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔ گوشت سے بدبودار پانی چھوٹ رہا تھا۔ میرا جی اتنا متلایا کہ میں نے وہیں الٹی کر دی اور لگاتار فرش پر تھوکتی رہی۔ پتہ نہیں اس عمر میں کیا گناہ کیا ہے اس نے کہ خدا نے اس پر ایسا بھیانک عذاب نازل کیا ہے۔
ناول کی تخلیقیت اس کے نادر بیانیہ میں ہے یعنی ایک ایسی دنیا میں لے جانا جو ہماری مانوس دنیا کی عکاسی نہ ہو کر بلکہ ایسی دنیا خلق کر دے، جس پر حقیقت کا التباس تو ہو لیکن ہماری روزمرّہ کی دنیا سے اتنی مانوس بھی نہ ہو کہ جسے ہم روز دیکھتے اور جانتے ہیں۔ در اصل دقت یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں بچپن سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا جاتا ہے کہ ادب سماج کا عکس ہے۔
(طالبعلمی کے زمانے میں ہندی میں اکثر ایک مضمون لکھنے کو آتا تھا۔ ”ساہتیہ سماج کا درپن ہے۔“) اس لیے ہمارے بیشتر ادیب سماج میں جو روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں۔ اسی کو ادب سمجھ کر لکھتے چلے جاتے ہیں۔ اگر ادیب کا یہی کام ہے پھر تخلیقیت کا کیا ہوگا؟ پھر صحافی کیا کام کریں گے؟ فوٹوگرافر کا کیا کام ہے؟ آخر صحافت اور ادیب کے کاموں میں کچھ تو فرق ہوگا؟ پھر ادیب تخلیق کار کیوں کر کہلائے گا؟
یہ ناول آسانی سے اور آس پاس کی زندگی بیان کرنے کی بجائے اپنے کمفورٹ زون سے دور ایسی میں دنیا میں لے جاتا ہے جو یکسر نئی ہے۔ خاص طور سے جہنم کو جانے کا جو سفر ہے جو ناول کا کافی بڑا حصہ ہے بالکل غیر معمولی اور روز مرہ زندگی سے بہت دور ہے۔ اسی سے کسی ناول نگار کی تخلیقیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور در اصل یہی اس ناول کا وجودی علاقہ بھی ہے۔
اس ناول میں سسٹم سے باہر کی بات بات بار بار کی گئی ہے، سارے کردار سسٹم کے باہر کے ہیں، سارے واقعے سسٹم سے مطابقت نہ کر سکنے کے ہی نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ اس کا مرکزی کردار ایک جگہ کہتا ہے؛
جسم سے بڑی کوئی شہادت نہیں۔ میری کھال سے بڑی گواہ کوئی نہیں۔ گرمی سے میری آنتیں خشک ہو گئیں، گلا جھلس گیا، منھ سفید دانوں سے بھر گیا، پیشاب لال اور جلا ہوا آنے لگا، پانی اتنا گرم ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی سب جل جائے گا۔ آنتیں، پھیپھڑے، گردے، جگر اور دل تک۔ درجہئ حرارت 76.2 ڈکری سیلسیس تک ہے۔ میرا جسم بتاتا ہے، میں بتاتا ہوں۔ پارہ مردہ ہو چکا ہے۔ وہ بیس ڈگری سیلسیس کے آگے بڑھ نہیں سکتا۔ مجھ سے بڑا پارہ کون ہوگا۔ میں بدھ کے دن پیدا ہوا تھا۔
یہ ناول ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو ہر طرح سے آگ میں جل رہا ہے۔ ایسا شخص بھلا کس سسٹم میں آ سکتا ہے؟ وہ ایسی آگ میں جل رہا ہے جو دوسروں کے لیے تو محض 20ڈگری سیلسیس ہے لیکن اس کے لیے 76.2 پھر بھلا وہ کس سسٹم میں فِٹ بیٹھے گا؟ وہ زندگی کے کسی سسٹم میں فِٹ نہیں ہے لیکن اسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ایک دن کی بات ہے کہ ڈاکٹر اور نرسیں اسے غور سے دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد کا بیانیہ سنیے؛
وہ ایک عجوبہ ہے۔ وہ جہنم سے پھینکا گیا ایک گناہ گار نظر آتا ہے۔ گناہ گاروں کو جنت سے پھینکا جاتا ہے، جہنم سے نہیں۔ مگر ممکن ہے کہ خدا اس دنیا کو جہنم کی جلتی روحوں کا ثبوت دینے کے لیے، کسی گناہ گار کو عارضی طور پر زمین پر بھیج دیتا ہو۔ ایک چلتی پھرتی زندہ گواہی۔ وہ تہیہ کرتا ہے کہ وہ جائے گا۔ وہ واپس وہیں جائے گا جہاں سے اسے پھینکا گیا تھا۔
اس طرح ناول کا مرکزی کردار ’وہ‘ ایک ایسا شخص ہے جو جہنم سے اس زمین پر پھینکا گیا ہے، اس کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے، وہ ایک عام انسان کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وہ جہنم سے پھینکا گیا ہے، لیکن اگر اس کے استعاراتی معنی پر غور کریں تو یہ دنیا ہی ایک جہنم بن چکی ہے۔ جس طرح سے اس دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں یہ دنیا ایک جہنم ہوتی جا رہی ہے۔ جس طرح سے نظر بند کیے جانے والے کیمپ یعنی ڈٹینشن سینٹر بنائے جا رہے ہیں یہ دنیا کسی جہنم سے کم نہیں رہ گئی ہے۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔
ہندستانی موسیقی میں دکھ اور موت پر کئی راگ بنائے جاتے رہے ہیں۔ سب سے پہلے راگ بلاس خان توڑی بنایا گیا تھا، جسے تان سین کے بیٹے بلاس خان نے اپنے والد کی موت پر تخلیق کیا تھا۔ استاد امجد علی خان نے راگ پریہ درشنی کی تخلیق بھی موت کے ایک راگ کے طور پر ہی کی تھی۔ کرناٹکا موسیقی میں راگ سرمتی ہے، یہ راگ کسی کی موت پر ہی بجایا جاتا ہے۔ کئی اور بھی ہیں، ان کے ساتھ اب خالد جاوید بھی ہیں، جو لفظوں سے موت کے راگ کو گاتے ہیں۔