گوا کے ماپوسا سے کم از کم دو مظاہرین کو پولیس نے طلب کیا اور ان سے 240 نکات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھروایا گیا، جس میں’فری عمر خالد‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟، کیا آپ نے اپنی تقریر کے دوران کسی سرکاری اتھارٹی کی تنقید کی؟، اور احتجاج کے لیے مالی مدد کس نے دی؟ جیسے سوال پوچھے گئے ۔

نیٹ پیپر لیک کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہوئے احتجاج کے بعد 24 جولائی کو گوا کے ماپوسا سے کم از کم دو مظاہرین کو پولیس نے طلب کیا اور ان سے 240 نکات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھروایا گیا۔ اس میں عمر خالد سے متعلق سوال بھی شامل تھے۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جمعہ کو گوا پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا تھا، جس پر الزام تھا کہ اس نے نیٹ مخالف احتجاج کے دوران ’فری عمر خالد‘کے نعرے لگائے تھے۔
بتادیں کہ عمر خالد ستمبر 2020 سے یو اے پی اے کے تحت جیل میں ہیں۔ ان پر شمال-مشرقی دہلی فسادات میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اور وہ تاحال بغیر کسی مقدمہ کے جیل میں بندہیں۔
شروعاتی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ احتجاج کے بعد گوا پولیس نے عمر خالد سے متعلق نعرے لگانے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم، اخبار کی رپورٹ کے مطابق، دو دیگر مظاہرین کو اتوار اور سوموار کو پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی یہ کارروائی’سٹیزنز آف ماپوسا‘نامی ایک مقامی گروپ کی شکایت کی بنیاد پر کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، گوا پولیس کے سوالنامے میں اس طرح کے سوال تھے؛’فری عمر خالد‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟،کیا آپ نے اپنی تقریر کے دوران کسی سرکاری اتھارٹی کی تنقید کی؟اور احتجاج کے لیے مالی مدد کس نے دی؟
دوسوچالیس نکات پر مشتمل سوالنامے میں دیگر سوال یہ تھے؛
احتجاج کی قیادت کون کر رہا تھا؟
کیا آپ احتجاج سے متعلق کسی وہاٹس ایپ، ٹیلی گرام یا سگنل گروپ کے رکن ہیں؟
آپ احتجاج کے مقام تک کیسے پہنچے؟
اس احتجاج کے ذریعے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟
کیا آپ کسی سیاسی جماعت، سماجی تنظیم، طلبہ تنظیم، این جی او یا کارکنوں کے کسی گروپ سے وابستہ ہیں؟
کیا احتجاج میں شامل ہونے سے پہلے آپ کو عمر خالد کے پس منظر کے بارے میں معلومات تھیں؟
کیا آپ نے’فری عمر خالد‘کا نعرہ لگایا؟ اگر ہاں، تو کتنی بار؟
کیا آپ کے بعد دوسروں نے بھی یہی نعرہ دہرایا؟
بینر، پلے کارڈ، ساؤنڈ سسٹم یا دیگر سامان کے اخراجات کس نے برداشت کیے یا ان کا انتظام کس نے کیا؟
احتجاج کے مقام پر کتنے پلے کارڈ تقسیم کیے گئے؟
کیا آپ نے پلے کارڈ تھامے ہوئے اپنی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی؟
پولیس کے سوالنامے میں یہ بھی پوچھا گیا تھاکہ کیا مظاہرین نے گوا یا ملک کے کسی اور حصے میں اسی نوعیت کے احتجاج میں حصہ لیا تھا، اور ان احتجاجی مظاہروں سے متعلق مزید معلومات بھی طلب کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، مظاہرین سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے احتجاج سے متعلق کوئی الکٹرانک ڈیٹاڈیلیٹ کیا ہے، اور کیا وہ تفتیش کے لیے اپنے موبائل فون دے سکتے ہیں۔
نارتھ گوا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہریش چندر مڈکائیکر نے اخبار کو بتایا،’سٹیزنز آف ماپوسا نامی ایک گروپ نے شکایت درج کرائی تھی۔ اسی بنیاد پر ہم نے انہیں (مظاہرین کو) پوچھ گچھ کے لیے بلایا، اور پوچھ گچھ کے بعد انہیں جانے دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا،’پوچھ گچھ کے دوران ان سے کچھ سوال کیے گئے اور انہیں ریکارڈ کیا گیا۔ عام طور پر جب ہم کوئی تفتیش شروع کرتے ہیں تو ہمیں اس وقت تک سوال پوچھنے ہوتے ہیں جب تک ہمیں اطمینان بخش جواب نہ مل جائیں، اسی لیے کچھ سوال کیے گئے۔‘
گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے بدھ کو مظاہرین کی جانب سے عمر خالد سے متعلق نعرے لگانے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ان طلبہ لیڈر کے افضل گرو سے تعلق تھے۔
ساونت نے کہا،’طلبہ کو نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے، (لیکن) وہ بہت نیچے گر گئے۔ آزاد میدان میں ہوئے احتجاج میں عمر خالد کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے پلے کارڈز دکھائے گئے، جبکہ خالد کے تعلقات پارلیامنٹ حملے کے مجرم افضل گرو سے تھے۔ نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں عمر خالد کا معاملہ کیوں اٹھایا گیا؟ دھرمیندر پردھان جی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اور ملکی مفاد میں اپنا استعفیٰ دیا۔ ہمیں اپنے طلبہ میں قوم پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچائیں۔‘