سی بی آئی کا کہنا ہے کہ نیٹ-یو جی 2024 کے پیپر لیک معاملے کی جانچ کے دوران مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘سنجیو مکھیا کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس کی جانچ میں مذکورہ سوالیہ پرچہ چوری کی پوری سازش بے نقاب ہو چکی ہے اور اس میں شامل تمام لوگوں کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔

سنجیو مکھیا۔ فوٹو: ایکس / انڈین جیمس
نئی دہلی: سی بی آئی نے جمعرات (23 جولائی) کو کہا کہ نیٹ-یو جی 2024 کے پیپر لیک معاملے میں مبینہ ماسٹر مائنڈ سنجیو کمار عرف سنجیو مکھیا کے خلاف سوالیہ پرچہ چوری کرنے یا اس کی تقسیم میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ حالاں کہ، بہار پولیس نے درج ایف آئی آر میں شروعات میں انہیں ملزم نامزد کیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سی بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2024 میں نیٹ-یو جی کے سوالیہ پرچے کی چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بہار پولیس نے سنجیو مکھیا کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا تھا۔ اس کی بنیاد دوسرے پیپر لیک معاملوں میں ان کی مبینہ شمولیت تھی۔
اخبار کے مطابق، معاملہ سی بی آئی کو سونپے جانے کے بعد ایجنسی نے تفصیلی جانچ کی اور سوالیہ پرچے کی چوری، اس کی تقسیم، اور اس سے فائدہ اٹھانے والے تمام لوگوں کی شناخت کی۔
سی بی آئی نے کہا کہ اس نے اس معاملے میں 45 ملزمین کے خلاف پٹنہ کی عدالت میں کئی چارج شیٹ داخل کیے، لیکن جانچ کے دوران نیٹ-یو جی 2024 پرچہ لیک کی سازش میں سنجیو مکھیا کے کردار کو ثابت کرنے والا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سی بی آئی نے کہا کہ اس کی جانچ میں نیٹ-یو جی 2024 کے سوالیہ پرچے کی چوری کی پوری سازش کا پردہ فاش ہو چکا ہے اور اس معاملے میں ملوث تماملوگوں کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
ایجنسی نے کہا، ’متعلقہ مدت کے دوران مکھیا مفرور تھے اور بعد میں بہار پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔ چونکہ ان کا نام ایف آئی آر میں درج تھا، اس لیے سی بی آئی نے نیٹ-یو جی 2024 معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے انہیں پولیس حراست میں لیا۔ تاہم، تحقیقات کے دوران ان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔‘
In the year 2024, Bihar Police had detected the theft of the question paper of the NEET (UG) 2024 Examination and had registered a case in this regard. Prima facie suspicion had emerged at that stage against one Sanjeev Kumar @ Sanjeev Mukhiya may have been involved in the theft,… pic.twitter.com/Ueftmij04t
— IANS (@ians_india) July 23, 2026
اخبار کے مطابق، اسی وجہ سے سی بی آئی نے اس معاملے میں دائر کی گئی کسی بھی چارج شیٹ میں سنجیو مکھیا کا نام شامل نہیں کیا۔ بعدمیں انہیں نیٹ-یو جی 2024 کے معاملے میں ضمانت مل گئی۔
ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ بہار پولیس کی جانب سے زیر تفتیش دیگر معاملوں کے سلسلے میں سنجیو مکھیا اب بھی عدالتی حراست میں ہیں۔