اکیس ایک سو بائیس: خالد جاوید اپنی ’پیروڈی‘ کر رہے ہیں؟

خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔

خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔

خالد جاوید کے نئے ناول اِکیس ایک سو بائیس کا سرورق

ناول ’اکیس ایک سو بائیس‘ درحقیقت خالد جاوید کے پچھلے کاموں کا ایک ایسا ’ڈیجیٹل ری سائیکلنگ بن‘ہے جس میں انھوں نے اپنی وہی پرانی ’کراہت کی جمالیات‘دوبارہ پیک کر کے پیش کر دی ہے۔

انعام ندیم کا ایک تفصیلی تبصرہ  سامنے آیا، مگر وہ تبصرہ کم ، اور ’پیرس کی ایک ملاقات‘  کا سونیئرزیادہ محسوس ہوا۔انعام نے اسے ایک’انوکھا تجربہ‘ کہا ہے، جبکہ میرا مشاہدہ اسے خالصتاً ایک ’تخلیقی جمود‘ قرار دیتا ہے۔

رضوان الحق صاحب نے اپنے حالیہ مضمون میں خالد جاوید کے ناول ’اکیس ایک سو بائیس‘ کو جس مابعد الطبیعیاتی تقدس کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ اردو تنقید میں ’فکری مرعوبیت‘ کی ایک دلچسپ مثال ہے۔

موصوف نے ’بلاک ٹائم‘، ’ ایٹرنیزم‘اور ’داخلی موضوعیت‘ جیسی بھاری بھرکم اصطلاحات کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ناول نگار نے وقت کی کوئی ایسی ’چوتھی سمت‘ دریافت کر لی ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے عام قاری کا دماغ ’جھنجھنا‘ جاتا ہے۔

اسے علمی بصیرت کہا جائے یا محض الفاظ کا گورکھ دھندا کہ جب ہم ان اصطلاحات کی تہوں کو الٹتے ہیں، تو اندر سے وہی پرانی ’وجودی بیزاری‘ برآمد ہوتی ہے جسے اب فلسفے کا لبادہ پہنا کر ’شاہکار‘ ثابت کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔

رضوان صاحب فرماتے ہیں کہ خالد جاوید نے وقت کو ایک سیدھی لکیر کے بجائے کئی سمتوں میں بہتا دکھایا ہے۔ صاحب! وقت کا یہ ’غیر لکیری‘تصور نہ تو نیا ہے اور نہ ہی خالد جاوید کی ذاتی ایجاد۔

البرٹ آئن اسٹائن سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک، اور ہورگے لوئیس بورخیس سے لے کر نیٹ فلکس کی سیریز ’ڈارک‘ تک-وقت کی یہ ’چوتھی سمت‘ اور ’بلاک ٹائم‘ کا تصور عالمی بیانیے کا ایک مقبول اور آزمودہ نسخہ ہے۔

حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس تصور کو عالمی سنیما اور سائنس فکشن دہائیوں پہلے ہضم کر چکے ہیں، اسے اردو میں ایک ’منفرد مابعد الطبیعیاتی کمال‘ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

کیا محض ایک پیچیدہ سائنسی تھیوری کو ناول کے بوجھل بیانیے میں سمو دینے سے کوئی تخلیق ’عظیم‘ ہو جاتی ہے؟

مضمون نگار کا یہ کہنا کہ ’کرداروں کی شناخت کا گڈ مڈ ہونا اور وقت کا الجھاؤ‘ ایک شعوری تجربہ ہے، دراصل ناول کے ساختی نقص کو جواز فراہم کرنے کی ایک کمزور کوشش ہے۔

فنون لطیفہ میں ابہام اور الجھاؤکے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ اگر قاری ناول ختم کرنے کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ’ہو کیا رہا ہے؟‘ تو یہ مصنف کی کامیابی نہیں بلکہ اس کے بیانیے کی شکست ہے۔

بڑا ادیب وہ ہے جو پیچیدہ ترین فلسفے کو انسانی تجربے میں ڈھال دے، نہ کہ وہ جو قاری کے دماغ کو اصطلاحات کی ہتھوڑیوں سے ’جھنجھنا‘ دے۔

رضوان الحق صاحب اپنے  مضمون میں اسے اسلوب اور سگنیچر ٹیون سے تعبیر کرتے ہیں جو ان کے مطابق کبھی نہیں بدلتا۔ ’تکرار ‘ کو اسلوب کہنا ایک معصومانہ دفاع ہے ۔

اسلوب ناول کا خادم ہونا چاہیے، مخدوم نہیں۔ بلاشبہ رضوان الحق صاحب نے خالد جاوید کے دفاع میں بڑی عرق ریزی سے سگنیچر ٹون اور ’موت کی مابعد الطبیعیات‘کا سہارا لیا ہے۔

ان کا استدلال ہے کہ سچا تخلیق کار بار بار اندھیروں میں اترتا ہے اور اس کا اسلوب بدلنا ’خارجی بناوٹ‘ہے۔ بظاہر یہ باتیں بہت علمی لگتی ہیں، لیکن فن ناول نگاری کے تناظر میں یہ ایک ایسی ڈھال ہیں جو تخلیقی بانجھ پن کو چھپانے کے لیے عموماً استعمال کی جا تی ہیں۔

رضوان صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مصنف ہر ناول میں اسلوب بدلے گا تو وہ ’خارجی بناوٹ‘ ہوگی۔ جناب عالی! اسلوب کا مطلب ایک ہی طرح کے الفاظ اور ایک ہی طرح کے مناظر کی تکرار نہیں ہوتا۔

اگر ایک موسیقار ہر فلم میں ایک ہی ٹیون بجائے تو اسے ’صاحب اسلوب‘ نہیں بلکہ ’بانجھ فنکار‘ کہا جاتا ہے۔ خالد جاوید کے ہاں اب یہ ’سگنیچر ٹون‘ ایک ایسی بیڑی بن چکی ہے جو ان کے تخیل کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

اسے ’داخلی حقیقت‘ کہنا دراصل اس تخلیقی جمود پر پردہ ڈالنا ہے جو اب کالے کوسوں دور سے نظر آ رہا ہے۔

لیکن اس میں رضوان الحق صاحب کا کوئی قصور نہیں ہے،دراصل وہ سگنیچر ٹون اور مینرزم میں فرق نہیں کرپارہے ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے فنکار کا ایک’سگنیچر‘ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ سگنیچر اس کے ارتقا کا گواہ ہوتا ہے، اس کی قید کا نہیں۔

پکاسوکا سگنیچر اس کے ہر دور(بلیو ، روز ، کیوبزم)میں موجود ہے، مگر کیا اس کا ہر شاہکار ایک جیسا لگتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب کوئی فنکار اپنے ہی وضع کردہ اسلوب کو’ مقدس گائے‘بنا لیتا ہے، تو وہ اسلوب نہیں رہتا بلکہ ’منیرزم‘بن جاتا ہے-یعنی اپنی ہی نقل کرنا۔ خالد جاوید کے ہاں اب اسلوب’تخلیقی ضرورت‘نہیں بلکہ ایک’کمفرٹ زون‘بن چکا ہے، جس سے وہ باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔

رضوان صاحب نے ایک عجیب و غریب دعویٰ کیا ہے کہ ’مذاہب موت کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہ دے سکے، اس لیے اب یہ کام فکشن نگار (خالد جاوید) کا ہے‘۔ یہ بیان نہ صرف جذباتی ہے بلکہ علمی طور پر مضحکہ خیز بھی ہے۔ کیا واقعی ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ جس معمے کو ہزاروں سال کی انسانی تاریخ، مذاہب اور فلسفے حل نہ کر سکے، اسے خالد جاوید نے ’تعفن، غلاظت اور سڑاند‘ کے چند استعاروں میں حل کر دیا ہے ؟

موت کی مابعد الطبیعیات کو محض ’اندھیرے میں غوطہ زنی‘ قرار دینا اور اسے مذہب کے مقابل لانا ایک ایسی خوش فہمی ہے جو صرف غالی مداحوں کو ہی زیب دیتی ہے۔لیکن چلیے تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ فکشن نگار ہی موت کا اصل تصور پیش کرتا ہے۔

اب بتائیے کہ  لیو ٹالسٹائی نے ’دی ڈیتھ آف ایوان الیچ‘لکھی، کافکا نے ’دی میٹامورفوسس‘لکھی، اور گیبرئیل گارسیا مارکیز نے ’کرونیکل آف اے ڈیتھ فورٹولڈ‘ لکھی۔ یہ سب موت کے بارے میں ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک کا اسلوب، بیانیہ اور کائنات بالکل جداگانہ ہے۔


یہ بھی پڑھیں: موت کی پانچویں کتاب کا پیش لفظ


خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔ کیا موت کے پاس ان کے لیے کوئی نیا ذائقہ نہیں بچا؟

اگر موت تکثیریت کی حامل ہے، تو خالد جاوید کے ہر ناول میں اس کا’رنگ، بو اور ذائقہ‘ایک جیسا کیوں ہے؟ تکثیریت کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہمیں موت کے مختلف روپ نظر آتے-کبھی وہ ایک مابعد الطبیعیاتی سکون ہوتی، کبھی وہ ایک کلینیکل خاموشی ہوتی، کبھی وہ ایک کائناتی رقص ہوتی۔

لیکن خالد جاوید کے ہاں موت ہمیشہ’گوشت، سڑاند، فضلہ، بدبو اور لجلجے پن‘کے ایک ہی مونو لیتھک (یک سنگی) استعارے میں قید ہے۔ جب آپ کے پاس موت کو بیان کرنے کے لیے حسیات کا دائرہ ایک ہی ہو، تو اسے’تکثیریت‘کہنا لغت کی توہین ہے۔

اس عجزبیانی کو’لگاتار نئی دنیاؤں کی تلاش کا عمل ‘ کہنا بھی درست نہیں ہے۔چونکہ تلاش اسے کہتے ہیں جہاں ’دریافت‘ہو۔ اگر ایک سیاح دنیا کے پانچ براعظموں کا سفر کرے اور ہر جگہ اسے صرف’ایک ہی طرح کا کچرا کنڈی‘نظر آئے، تو قصور براعظموں کی تکثیریت کا نہیں، بلکہ سیاح کی ’نظر‘کا ہے جو اس کچرا کنڈی سے آگے دیکھنے سے معذور ہے۔

خالد جاوید’موت کی ہر کتاب‘میں ایک نئی دنیا دریافت نہیں کر رہے، بلکہ وہ ہر بار ایک ہی دنیا کا نقشہ تھوڑے سے’ہندسوں‘کی تبدیلی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

مختصر یہ کہ، یہ کہنا کہ موت مونو لیتھک (یک سنگی) نہیں ہے، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ’محبت مونو لیتھک نہیں ہے‘، لیکن اگر کوئی شاعر اپنی ہر غزل میں صرف’محبوب کی زلف‘کا تذکرہ کرے تو کیا ہم اسے ’محبت کی تکثیریت‘کا نام دیں گے یا شاعر کے ’تخلیقی بانجھ پن‘کا؟

خالد جاوید کے ہاں موت کی تکثیریت نہیں، بلکہ’واحد متکلم کی اکتا دینے والی خود کلامی‘کا غلبہ ہے۔ اوراگر کوئی اسے ’تخلیقی تسلسل‘ کہتا ہے تو پھر مجھے یہاں یہ بھی بتانا ہوگا کہ تخلیقی تسلسل وہ ہوتا ہے جہاں فنکار کا شعور ارتقا پائے۔

میلان کنڈیراکے ہاں بھی وجودی کرائسس کا تسلسل ہے، لیکن ‘دی ان بیئربل لائٹ نیس آف بیئنگ’اور ‘ایمورٹیلٹی’میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہاں موضوع کا تسلسل تو ہے، لیکن بیانیے اور اسلوب کی ’تکرار ‘نہیں  ہے۔ خالد جاوید کے ہاں’وجودی کرائسس‘اب ایک’فارمولا‘بن چکا ہے۔

رضوان صاحب کا یہ دعویٰ کہ’اسلوب کا تعلق تخلیق کار سے ہوتا ہے، تخلیق سے نہیں‘، ناول نگاری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ جیسا کہ میں نے برسوں پہلے اپنے اداریے میں لکھا تھا، ایک سچا ناول نگار یہ دیکھتا ہے کہ اس کا نیا ناول اس سے کس اسلوب کا تقاضا کر رہا ہے۔یاد کیجیے، آپ کے پاس اثبات کا شمارہ نمبر32 موجود ہو تو اس کا اداریہ پھر پڑھ ڈالیے، میں نے تقریباً چار سال پہلے کہا تھا ؛


ممکن ہے کہ یہ اسلوب برسوں کی ریاضت کے بعد پیدا کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ اس اسلوب کو وضع کرنے میں ناول نگار نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جھونک دیا ہو ، لہٰذا ایک صاحب اسلوب ناول نگار خوفزدہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر کی کمائی کہیں لٹا نہ دے، اس لیے وہ تادم مرگ اس اسلوب سے چمٹا رہتا ہے، اس کے اندر نئی راہوں کو تلاش کرنے کی وہ فطری صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے جو گمنام جزیروں کی بازیافت کرسکتی تھی۔

پھر ایسا تن آسان ناول نگار یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا نیا ناول اس سے کس اسلوب کا تقاضا کررہا ہے، وہ تو بہرحال اس کی انگلی پکڑ کر اپنی چال چلانا چاہتا ہے۔


کیا یہی کام خالد جاوید نہیں کررہے ہیں؟ آپ تخلیق نگاری کے لیے اسلوب پر اتنا زور کیوں دے رہے ہیں، کیا آپ کسی تخلیق نگار کی ہمہ جہتی کو مفلوج کرکے اس کے پاؤں میں بیڑیاں پہنانا چاہتے ہیں؟

دستوئیفسکی کو دیکھیے؛ ’جرم و سزا’ سے ‘برادرز کارامازوف’ تک اس کا موضوع انسانی روح کی گہرائی ہے، لیکن ہر ناول اپنی بنت، ڈھانچے اور اسلوب میں ایک الگ کائنات پیش کرتا ہے۔ اگر وہ بھی ہر بار ’موت کی پہلی کتاب‘، ’دوسری کتاب‘لکھتا رہتا تو آج وہ عالمی ادب کا امام نہ ہوتا۔

خالد جاوید کے ہاں’تکرار‘اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب ان کا ناول پڑھتے ہوئے قاری کو یہ تجسس نہیں رہتا کہ’آگے کیا ہوگا‘، بلکہ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ’آگے وہی ہوگا جو پچھلے ناول میں ہوا تھا۔‘

مختصر یہ کہ، اسلوب ایک سواری ہے، منزل نہیں۔ اگر سواری شاندار ہو لیکن وہ آپ کو ہر بار اسی پرانے اڈے پر لا کر کھڑا کر دے، تو اس سواری کی قیمت مٹی کے برابر ہے۔


یہ بھی پڑھیں: اکیس ایک سو بائیس: وقت، موت اور جہنم کا سفر


خالد جاوید کا اسلوب اب ان کے خیالات کو مہمیز نہیں کر رہا، بلکہ ان کے خیالات کو’مفلوج‘کر رہا ہے۔یاد کیجیے، گیبرئیل گارسیا مارکیز نے جب اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی تحریریں لکھیں جن میں ان کے پچھلے شاہکاروں کا عکس (یا تکرار) تھا، تو عالمی نقادوں نے بڑی بے رحمی سے کہا تھا کہ’مارکیز اب خود اپنی پیروڈی کر رہے ہیں‘۔

جب مارکیز جیسے دیو کو تکرار پر معافی نہیں ملی،تو آپ کیوں امید کرتے ہیں کہ خالد جاوید کو بخش دیا جائے گا؟

ممکن ہے کہ کچھ قارئین معترض ہوں (سوشل میڈیا پر ہو بھی چکے ہیں کہ) میں بین الاقوامی ادب اور ادیبوں کے حوالے دے کر انھیں ’ڈرانے‘ کی کوشش کر رہا ہوں۔اگرچہ خالد جاوید کی پوری فکری بنیاد مغربی یا عالمی ادب پر ایستادہ ہے۔

ان کے مضامین ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح فراٹے سے وہ کسی بھی موضوع پر عالمی ادب کو اپنا قبلہ و کعبہ بناتے ہیں۔ میرے خیال سے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے، کیوں کہ افکار کی سطح پر ہم جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر ہماری گلی اور محلہ نہیں بلکہ پوری دنیا ہوتی ہے۔

ادب تو سرحدوں کو توڑتا ہے، اسے کسی پنجرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر خالد جاوید کے تعلق سے تو یہ بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی ادیب ہیں، لہٰذا کم از کم ہمیں ان کے معاملے میں بین الاقوامی ادبی معیار سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

رضوان الحق صاحب نے اسلوب کے تعلق سے نیر مسعود، انتظار حسین اور شمس الرحمٰن فاروقی کا حوالہ خالد جاوید کے دفاع میں پیش کیا ہے۔ ان کا یہ موقف کہ بڑے ادیب کا اسلوب نہیں بدلتا، تاریخی اور منطقی دونوں اعتبار سے یہاں بھی غلط ہے۔

کیا رضوان صاحب بتائیں گے کہ  انتظار حسین کے ’بستی‘ اور ’آگے سمندر ہے‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ اور ’باگھ‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ اور ’سوار اور دوسرے افسانے‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا قرۃ العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ اور ’چاندنی بیگم‘ کے اسلوب میں کوئی فرق نہیں؟

مختصر یہ کہ بڑا ادیب کبھی اپنے پاؤں میں اسلوب کی بیڑیاں نہیں ڈالتا، بلکہ وہ نیا ناول لکھتے ہوئے نہتا ہوتا ہے، اسے پہلے پہل خود پتہ نہیں ہوتا کہ  اس کے نئے ناول کے تقاضے کیا ہیں، اس کے چیلنجز کیا ہیں، اور اس کے تخلیقی اوزار کیا ہوں گے؟

اس کے برعکس خالد جاوید کی تکرار اور یکسانیت کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح سے کہانی شروع کرتے ہیں اور وہی پرانے اوزار استعمال کرتے ہوئے انجام تک بخیر و عافیت پہنچ جاتے ہیں۔

بڑا ادیب ہر نئی تخلیق میں خود کو ’دریافت‘ کرتا ہے، جب کہ خالد جاوید ہر ناول میں خود کی ’بازیافت‘ کرتے ہیں۔ ’دریافت‘ اور ’بازیافت‘ کے اس فرق کو جب آپ سمجھ لیں گے تو مجھے یقین ہے کہ آپ ’اسلوب‘ اور ’تکرار‘ کا فرق بھی سمجھ جائیں گے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ رضوان الحق صاحب کی یہ تحریر خالد جاوید کے فن کاتجزیہ کرنے کے بجائے ان کی ایک ایسی ’دیومالائی تصویر‘ بنانے کی کوشش ہے جو حقیقت سے بعید ہے۔

وقت، موت اور وجود کے نام پر جو ’فلسفیانہ بھنگ‘ اس ناول میں گھولی گئی ہے، اس کا جواب صرف یہ ہے کہ؛ ادب فلسفے کا لغت نہیں ہوتا، بلکہ انسانی لمس کا گواہ ہوتا ہے۔

 اور افسوس کہ اس ناول میں فلسفہ تو بہت ہے، مگر وہ انسانی لمس مفقود ہے جو اسے ایک زندہ جاوید تخلیق بنا سکے۔


(اگر خالد جاوید کے ناول پر بحث کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے اور اس باب میں مزید نکات سامنے آتے ہیں، تو ہم اس سلسلے کو ایک ادبی مباحثے کے طور پر جاری رکھیں گے۔ ادارہ)